ایک ننھی سی مسکراہٹ (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
کپڑے بدلتے ہوئے راجن نے ریتا سے کہا، جو کچن میں رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی، ”لفٹ میں آتے سمے میں نے ڈاکٹر پامانی کو لفٹ سے باہر نکلتے دیکھا ہے۔ بلڈنگ میں شاید کوئی بیمار ہے۔“ ریتا نے ہاتھ میں پکڑی پلیٹیں رومال سے پونچھتے ہوئے کہا، ”رتی بیمار ہے، آج…
ایک چپ سو دکھ (منتخب افسانہ)
ایک وقت آتا ہے جب کچھ بھی ٹھیک ٹھیک یاد نہیں رہتا، اگرچہ کچھ نہ کچھ ہمیشہ یاد رہتا ہے اور وہ وقت مجھے ہمیشہ یاد رہا، جب اس نے مجھ سے کلام کیا تھا۔ یہ ایک تپتے دن کی تپش بھری شام تھی اور میں اس قہوہ خانے میں تھا، جہاں لفظ ساز اکٹھے…
دَم (منتخب افسانہ)
رات کی تاریکی ماحول کی سنگینی میں گھل مل گئی۔ تاریکی، سناٹا اور چاروں کھونٹ گونجتی ہوئی خاموشی کی چیخ، جو بند کمرے میں بھی یوں گھسی آ رہی تھی جیسے اسے روک ٹوک کی پروا نہ ہو۔ خاموشی کی موجودگی میں کمرے میں پھر اور کس چیز کا گزر ہو سکتا تھا۔ ابھی ابھی…
فریبِ نظر (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
آدمی مچھلیوں کی طرف متوجہ تھا۔ مچھلیاں شیشے کے پیچھے ساکت اور معلق تھیں۔ شیشے کے عقب میں ان کے لیے پتھر کی سِلوں کے درمیان ایک تالاب بنایا گیا تھا جو کافی وسیع تھا۔ اس کی منڈیریں ایک دوسرے سے خاصے فاصلے پر واقع تھیں اور یہ فاصلہ نیم تاریکی میں کہیں آگے…
گُم ہونے کی جگہ ( ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
اگر کسی شہر میں گُم ہوجانے لائق جگہیں نہیں ہیں تو وہ ایک ادھورا شہر ہے۔۔ بلکہ وہ کوئی وسیع ریگستان ہے، جہاں ریت ہی ریت اڑتی ہے، آنکھوں میں بھرجاتی ہے، پھر نیند میں اور خوابوں میں گھس جاتی ہے۔۔ جہاں دھوپ ہی دھوپ ہے، چھاؤں نہیں ہے۔ سراب ہے، پانی نہیں…
ماں پڑھتی ہے (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
کئی مہنوں بعد گاؤں آیا ہوں۔ماں یہاں اکیلی رہتی ہے۔ آج گھر کا دروازہ کھلا ہے، ورنہ تو ماں صبح سویرے دروازہ بند کر کے باہر کا کام نمٹانے چلی جاتی ہیں۔ صبح کا سارا وقت حویلی میں گزرتا ہے۔جانوروں کو چارا ڈالتے، گائے کا دودھ دھوہتے، گوبر پھینکتے۔ اِس سمے بھی…
فیصلہ (افسانہ)
وہ موسم بہار کی ایک اتوار کی صبح تھی اور ایک بیوپاری جورج بیڈیمین اپنے گھر کی پہلی منزل پر اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کا گھر ان خستہ حال گھروں میں سے ایک تھا جو دور سے اپنے حجم اور رنگ کی وجہ سے ایک جیسے ہی لگتے تھے۔ جورج اپنے ایک…
شرط (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
ماسکو کی اونچی سوسائٹی کی پارٹی عروج پر تھی۔ میزبان ایک بینک کا مالک تھا۔ مہمانوں میں جرنیلوں، سیاست دانوں اور اعلٰی افسروں کے علاوہ ایک نوجوان وکیل بھی شامل تھا۔ شراب کا دور چل رہا تھا۔ گفتگو نہ جانے کیسے سزائے موت اور عمر قید کی قانونی باریکیوں پر پہنچ…