’احساس تنہائی تمباکو نوشی سے بھی زیادہ خطرناک‘

تابندہ خالد

آٹو فوبیا ایک غیر معقول اضطراب ہے۔ ہر شخص میں تنہا ہونا مختلف معنی رکھتا ہے۔ کچھ لوگ کسی خاص شخص کے بنا ایک سیکنڈ نہیں رہ سکتے یا بعض اوقات وہ افراد کی موجودگی میں بھی انجانا خوف محسوس کرتے ہیں اور خود کو تنہا سمجھتے ہیں۔ انسانی صحت پر احساسِ تنہائی کے گہرے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تنہائی یا نفس کا فوبیا کوئی نئی اصطلاح نہیں ہے مگر سوشل میڈیا کے جدید دور میں ’آٹو فوبیا‘ کا تصور بڑی مضبوطی سے ہماری روزمرہ زندگی میں داخل ہوا ہے۔فوبک عوارض کی فہرست میں آٹو فوبیا سرِفہرست ہے۔ جب یہ پیتھولوجیکل خوف شدید شکل اختیار کر لے تو اس کے نتائج اتنے سنگین ہو جاتے ہیں، جیسے کہ لوگ کسی طاقتور آقا کے آگے تابع ہو جاتے ہیں۔ قطعِ نظر اس کے کہ وہ کس سماجی حیثیت میں ہیں یا کس صنف اور عمر کے حصے میں ہے۔ آٹو فوبیا کے زیر اثر شخص اپنے سوشل سرکل، دوست احباب کی محافل حتٰی کہ دوسرے لوگوں کی صحبت میں بھی اس دنیا سے الگ تھلگ ’ٹوٹے ہوئے دل‘ کے ساتھ اپنے آپ کو بیکار محسوس کر سکتا ہے۔

اکیلے رہنے کے بارے میں جنونی وسوسے آنا جیسے کہ، ’آئسولیشن میں میرے ساتھ کیا ہو سکتا ہے، اگر لائٹ چلی گئی تو تنہائی سے کیسے نمٹا جائے گا۔ تنہائی کی خاموشی میں گھڑی کی ٹک ٹک سے پیدا شدہ سنسنی خیز ماحول سے ڈرنا، اکیلے ہوتے ہوئے اپنے جسم سے منقطع ہونے کا احساس، نیز تنہائی کے ڈر سے بھاگنے کی شدید خواہش پیدا ہونا، لرزنا، پسینہ آنا، سینے میں درد، چکر آنا، ہائپر وینٹیلیشن، اور جی متلانا وغیرہ۔‘

تنہائی کا خوف اکثر ایسے لوگوں میں پیدا ہوتا ہے، جن کا اعصابی نظام کمزور ہوتا ہے، اُن کی معاشرے میں موافقت کم ہوتی ہے، ذمہ داری سے بچنے کا رجحان ہوتا ہے یا اس کے برعکس ذمہ داری کا بڑھتا ہوا احساس علاوہ ازیں بچپن میں اجتماعی تقریبات، پبلک سیکٹر میں گم ہو جانا، کسی ڈارک اسٹور میں بند ہو جانا، راستہ بھٹک جانا جو کسی بچے میں شدید تناؤ یا خوف کی تشکیل کا باعث بن سکتا ہے۔ مزید برآں پیاروں کا کھو جانا، کوئی ناگہانی آفت، والدین کی طلاق، کسی سے توقعات وابستہ کرنا اور اس کا دھوکا دینا، مسلسل ناکامی وغیرہ بھی آٹوفوبیا کے خطرے کا باعث بنتے ہیں۔

کوئی بھی نفسیاتی عارضہ ہو وہ دھیرے دھیرے بگڑتا ہے اور اگر اس کے تدارک کے لیے کاوشیں نہ کی جائیں تو وہ زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ لہٰذا تنہائی کے فوبیا کا علاج کرنا ازحد ضروری ہے تاکہ اس کے سائیڈ ایفیکٹس سے بچا جا سکے۔ کسی بھی چیز کا فوبیا اس وقت تصور کیا جاتا ہے، جب وہ چھ ماہ سے زائد عرصہ تک جاری رہتا ہے اور اُس سے ڈیلی روٹین متاثر ہوتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تنہائی کے فوبیا سے آخر کیسے نمٹا جائے؟

اگر آپ کو شک ہے کہ آپ کو بھی یہ مسئلہ ہے تو ماہر معالج سے بات کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر تاریخ کا جائزہ لے کر ریکارڈ ترتیب دے گا، اس کے بعد نفسیاتی تشخیص ہوگی۔ دو تھراپیز کو آٹو فوبیا کے علاج کے لیے بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

ایک ایکسپوزر تھراپی ہے، جس میں معالج محفوظ ماحول میں آپ کے تنہا رہنے کے خوف کو عملی طور پر دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسرا کوگنیٹیوریوائیول تھراپی، جس میں مختلف تکنیک کا استعمال کرکے سکھایا جاتا ہے کہ تنہائی کا سامنا بہادری سے کیسے کرنا ہے۔ اگر تھراپیز آٹو فوبک شخص کے لیے کارگر نہ ہو سکیں تو پھر اس کے بعد ادویات کا مرحلہ شروع کیا جاتا ہے۔

’تنہا ہونا‘ مختلف لوگوں کے لیے مختلف معنی رکھتا ہے۔ کچھ لوگ کسی خاص شخص کے بغیر اور بسااوقات کسی بھی شخص کے بغیر تنہا ہونے سے ڈرتے ہیں۔کبھی کبھی تو معاملہ ہی اس کے برعکس ہوجاتا ہے کہ آٹو فوبک شخص کو دنیا کی بھیڑ میں تنہائی کی وائبز آتی ہیں۔ یہ تنہائی ہی ہوتی ہے کہ جس میں انسان اپنی زندگی میں پیش آنے والی ناکامیوں، محرومیوں، بریک اپ کے دلخراش لمحات کو کسی فلم یا ریل کی مانند دماغ میں لاتا ہے۔

تنہائی کے منفی اثرات کے حوالے سے امریکی سرجن جنرل ڈاکٹر وویک مورتی نے اپنی تہلکہ خیز رپورٹ میں کہا کہ تنہائی تمباکو نوشی سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اس سے قوت مدافعت کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ برطانیہ میں تنہائی کو وبائی امراض کی مانند سنجیدہ قرار دیا گیا۔ سماجی زندگی سے دوری اختیار کرنا فرد کی صوابدید پر منحصر ہے، جبکہ احساسِ تنہائی ذہنی کیفیت کی خاص ٹرم ہے۔ اکیلے پن کے لمحات آٹو فوب کے لیے مشکل ترین ہو سکتے ہیں۔ بہرحال ہمیں ثابت قدم رہنا ہوگا اور ہار نہیں ماننی چاہیے ورنہ آٹو فوبیا کے آگے سرینڈر کرنے سے نفسیاتی صورتحال کافی گھمبیر ہو سکتی ہے۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close