سردار بھگت سنگھ، جلیبی اور اردو کا اخبار

جاوید اختر

لاہور سے جاری ہونے والا اردو روزنامہ ‘ملاپ’ اپنی اشاعت کے سوویں برس میں ہے۔ تقسیم ملک کے بعد نئی دہلی منتقل ہوجانے والے اس اخبار نے مجاہدین آزادی میں نفرت اور انتشار پیدا کرنے کے انگریزوں کے منصوبے پر پانی پھیر دیا تھا

اردو اخبارات نے برطانوی غلامی سے ملک کو آزادی دلانے میں جو کردار ادا کیا وہ صحافت کی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے

لاہور سے 1923 میں جاری ہونے والا روزنامہ ‘ملاپ’ یوں تو ہندوازم میں اصلاحی تحریک چلانے والی تنظیم آریہ سماج کے رہنماوں نے شروع کیا تھا لیکن اپنے نام کے مصداق سماج کو جوڑنے کے علاوہ آزادی کی جدوجہد میں بھی اس کا کردار نمایاں رہا ہے

یہ اخبار نئی دہلی سے آج بھی شائع ہو رہا ہے

‘ملاپ’ نے جدوجہد آزادی کو سبوتاژ ہونے سے کیسے بچایا؟

‘ملاپ’ کے چیف ایڈیٹر نوین سوری نے ڈی ڈبلیو سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ ‘ملاپ’ نے آزادی کی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کی انگریزوں کے ایک منصوبے کو ناکام بنا دیا ورنہ آزادی کا حصول شاید اور بھی مشکل ہوجاتا۔

نوین سوری بتاتے ہیں کہ لاہور سازش کیس میں سردار بھگت سنگھ، سکھبیر تھاپر اور شیو رام راج گرو جیل میں تھے۔ انگریزوں نے تینوں کو لاہور جیل میں الگ الگ کوٹھریوں میں رکھا تھا اور ان سے پوچھ گچھ کے دوران یہ تاثر دے رہے تھے کہ تینوں ایک دوسرے کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کو تیار ہوگئے ہیں۔ یہ بات بھگت سنگھ کے والد سردار کشن سنگھ کو کسی طرح معلوم ہوگئی۔ وہ اس صورت حال سے پریشان ہوگئے اور ‘ملاپ’ کے بانی خوشحال چند خرسند کے پاس پہنچے۔”

خوشحال چند نے ایک ترکیب بتائی۔ ان دنوں سزائے موت پانے والے قیدیوں کے گھروں سے ان کے لیے کھانے پینے کا سامان بھیجنے کی اجازت تھی۔

نوین سوری بتاتے ہیں "ملاپ نے اخبار کا آٹھ صفحے کا ایک خصوصی ضمیمہ شائع کیا۔ جس کی تمام خبروں کی سرخیاں تو عام نوعیت کی تھیں لیکن خبر کے مواد میں یہ بتایا گیا تھا کہ انگریز جھوٹ بول رہے ہیں، تینوں مجاہدین آزادی میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے خلاف نہیں ہے بلکہ سب متحد ہیں۔”

انہوں نے مزید بتایا "کچھ جلیبیاں اس اخبار میں لپیٹ کر بھگت سنگھ کے والد نے اپنے بیٹے کو بھجوا دیں۔ بھگت سنگھ جو کہ بھوک ہڑتال پر تھے اپنے والد کے اس رویے پر کافی حیران ہوئے، لیکن جیلر، جو ان سے ہمدردی رکھتا تھا، نے کہا ‘جلیبی بیشک ست دیئں لیکن اخبار دیکھ لیئیں’ (جلیبی بیشک پھینک دیں لیکن اخبار پڑھ لیں)۔ بات بھگت سنگھ کی سمجھ میں آگئی۔ انہوں نے جب اخبار پڑھا تو تمام صورت حال واضح ہوگئی اور اس طرح انگریزوں کی ایک خطرنک چال ناکام ہوگئی۔

لاہور سے دہلی تک، ایک صدی کا سفر

روزنامہ ‘ملاپ’ اردو کے ان معدودے چند اخبارات میں سے ایک ہے جن کا سفر گزشتہ ایک صدی سے جاری ہے۔ لاہور کے گنپت روڈ کی ایک تین منزلہ عمارت کی دوسری منزل سے 13 اپریل 1923 کو شروع ہونے والا ‘ملاپ’ آج نئی دہلی کے بہادر شاہ ظفر روڈ کی ایک کثیر منزلہ عمارت سے پرنٹ کے ساتھ ہی ڈیجیٹل فارمیٹ میں بھی اپنی اشاعت جاری رکھے ہوئے ہے۔ مہاشے خوشحال چند خرسند کے شروع کردہ اس اخبار کی ذمہ داری ان کے بیٹے اور مجاہد آزادی رنبیر سنگھ کے بعد اب ان کے پوتے نوین سوری کے ہاتھوں میں ہے۔ جبکہ ان کے پڑپوتے رشی سوری اسے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ اگلے دور میں لے جانے میں مصروف ہیں

نوین سوری نے ‘ملاپ’ کی اشاعت کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا،سن 1921میں کیرالا میں موپلا فسادات ہوئے۔ جس کے اثرات وہاں سے تقریباً تین ہزار کلومیٹر دور پنجاب میں بھی محسوس کیے گئے۔ آریہ سماج کے ذمہ داروں نے مہاشہ خوشحال چند کو اس کے اسباب کا پتہ لگانے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے چھ ماہ کی تفتیش کے بعد اپنی رپورٹ میں بتایا کہ برطانوی حکومت کے دعوے کے برخلاف یہ ہندو مسلم فسادات نہیں تھے بلکہ وہاں کے برٹش ریزیڈنٹ کمشنر نے اپنی اہمیت منوانے کے لیے یہ سازش کی تھی

دلچسپ امر یہ ہے کہ دائیں بازو کی شدت پسند ہندو تنظیمیں آج بھی موپلا فسادات کو ہندووں کے خلاف مسلمانوں کے مظالم کے طور پر پیش کرنے کی منصوبہ بند کوشش کر رہی ہیں

نوین سوری کے مطابق آریہ سماج کے ذمہ داروں نے فیصلہ کیا کہ چونکہ ایسے واقعات آئندہ بھی ہوسکتے ہیں اس لیے حقیقت حال سے آگاہ کرنے کے لیے ایک اخبار کی اشاعت ضروری ہے۔ اس کی ذمہ داری مہاشہ خوشحال چند کو دی گئی جنہوں نے اخبار کا نام ‘ملاپ’ رکھا۔ لاہور کے گنپت روڈ پر واقع ایک تین منزلہ عمارت سے 13اپریل 1923کو اس کا پہلا شمارہ شائع ہوا۔ عمارت کی پہلی منزل پر آریہ سماج کا اور دوسری منزل پر ‘ملاپ’ کا دفتر تھا جبکہ تیسری منزل پر مہاشہ خوشحال اپنے خاندان کے ساتھ رہتے تھے

نوین سوری کو اس بات کا ملال ہے کہ لاہور جا کر ‘ملاپ’ کے پہلے دفتر کو دیکھنے کی ان کی خواہش آج تک پوری نہیں ہوسکی۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان سے کاش کوئی شخص اس عمارت کی موجودہ حالت کی تفصیل سے آگاہ کرتا

بھگت سنگھ اور رنبیر سنگھ بچپن کے دوست

نوین سوری بتاتے ہیں کہ ان کے والد اور ملاپ کے سابق ایڈیٹر رنبیر سنگھ اور بھگت سنگھ دونوں بچپن کے دوست تھے۔ دونوں کی پیدائش ایک ہی سال ہوئی اور تقریباً آٹھ برس کی عمر تک دونوں ایک ایسے مکان میں رہے جس کی دیوار مشترک تھی۔ ایک طرف بھگت سنگھ کا پریوار رہتا تھا اور دوسری طرف رنبیر سنگھ کا خاندان

انہوں نے مزید بتایا کہ، بھگت سنگھ نے ان کے والد کو غدر پارٹی میں شامل کیا۔ پنجاب کے گورنر پر بم پھینکے کا منصوبہ بنانے والوں میں رنبیر سنگھ بھی شامل تھے۔ حالانکہ اس واقعے میں برٹش گورنر تو بچ گئے لیکن ان کی گاڑی کو کافی نقصان پہنچا۔ اور رنبیر سنگھ گرفتار ہونے سے قبل تین دن تک ایک نالے میں چھپے رہے۔ گوکہ عدالت نے انہیں سزائے موت دی تاہم ہائی کورٹ نے انہیں اور دیگر دو ساتھیوں کو بھی بری کر دیا۔ رنبیر سنگھ جب رہا ہوکر پھانسی کی کوٹھری سے باہر آئے تو ایک ہیرو بن گئے اور ‘ملاپ’ کو اس کا کافی فائدہ بھی ہوا

زبان ہندی اور پنجابی لیکن لڑائی اردو میں

نوین سوری ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ آزادی کے بعد پنجاب میں ایک حلقہ پنجابی کو قومی زبان بنانا چاہتا تھا تو دوسرا ہندی کو۔ لیکن یہ دونوں ہی اپنی اپنی باتیں اور اپنے دلائل ‘ملاپ’ کے ذریعہ عوام تک پہنچاتے تھے، جو کہ اردو کا اخبار تھا

وہ بتاتے ہیں کہ زبان کا یہ تنازع اتنا بڑھا کہ اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے پنجابی کے علمبردار ماسٹر تارا سنگھ اور ہندی کے علمبردار خوشحال چند کو اپنے اپنے وفد کے ساتھ ایک میٹنگ کے لیے مدعو کیا۔ فریقین نے پنجابی اور ہندی کے حق میں اپنے اپنے دلائل پیش کیے لیکن جب نہرو نے کہا کہ”آپ اپنی لڑائی تو اردو میں لڑرہے ہیں” تو دونوں فریق لاجواب ہوکر واپس لوٹ گئے

نوین سوری کا کہنا تھا کہ دراصل یہ اردو اور ملاپ کی مقبولیت اور اہمیت تھی کہ پنجابی اور ہندی کو قومی زبان کا درجہ دلانے کے لیے بھی لوگوں کو اردو کی مدد لینی پڑی۔

‘…لیکن پاکستان سے اردو کو نقصان پہنچا’

نوین سوری کا کہنا تھا کہ موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کو چھوڑ کر سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بعد سے تمام بھارتی وزرائے اعظم سے ان کی ملاقاتیں رہی ہیں اور وہ نجی ملاقاتوں میں برملا یہ تسلیم کرتے رہے ہیں کہ اردو بھارت کی زبان ہے۔ تاہم کسی بھی بھارتی وزیر اعظم نے اردو کو اس کا جائز مقام دلانے کے لیے ٹھوس اقدام نہیں کیے اور اگر کچھ کیا بھی تو صرف نمائشی

‘ملاپ’ کے چیف ایڈیٹر نوین سوری کا خیال ہے کہ بھارت میں اردو کو اس کا جائز حق نہیں ملنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے اسے اپنا قومی زبان قرار دے دیا۔ "جس کے بعد ہم نے اسے غیر ملکی زبان سمجھ لیا۔ کاش پاکستان کسی اور زبان کو اپنی قومی زبان بنالیتا اردو کو بخش دیتا۔”

نوین سوری بھارت میں اردو کے مستقبل کے حوالے سے پرامید نظر آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں،”اردو صرف زبان نہیں بلکہ ایک تہذیب ہے اور تہذیب مٹتی نہیں۔ تہذیب کمزور ہوسکتی ہے، اس پر دھول مٹی پڑسکتی ہے، اسے توڑا مروڑا جاسکتا ہے۔ لیکن مٹایا نہیں جاسکتا۔ جو لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ اردو کو دھیرے دھیرے ختم کردیں گے، وہ غلطی پر ہیں۔”

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close