Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

ارشد شریف کے جسم پر تشدد کے شواہد نہیں ، امریکی ماہرین

By Akhtar Rasool
دسمبر 11, 2022 3 Min Read
0

امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ نے کینیا میں مارے جانے والے پاکستانی صحافی ارشد شریف کی ایسی چالیس تصاویر حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جو نیروبی میں پوسٹ مارٹم کے دوران لی گئیں۔ ہائی ریزولوشن پکچرز کے سائنسی تجزیے کے بعد امریکی ماہرین نے بتایا ہے کہ مقتول صحافی پر موت سے قبل کسی طرح کے تشدد کے شواہد نہیں ملتے

یاد رہے کہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز ) میں ارشد شریف کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کے بعد کچھ تصاویر مقامی میڈیا میں نشر ہوئی تھیں اور ایک دعویٰ سامنے آیا تھا کہ ارشد شریف پر گولیاں چلانے سے قبل ان پر تشدد کیا گیا تھا۔ ایسی خبروں کے بعد پاکستان میں سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں

وائس آف امریکہ کے دعوے کے مطابق انہیں ارشد شریف کے کینیا میں ہونے والے پوسٹ مارٹم کے دوران لی گئی جو تصاویر موصول ہوئی ہیں، وہ کہیں شائع نہیں ہوئیں ۔ یہ تصاویر جسم کے بیرونی حتیٰ کہ اندرونی اعضا کا اس واضح انداز میں احاطہ کرتی ہیں کہ ماہرین کو تجزیے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں ہوتا

براؤن یونیورسٹی سےفورنزک پیتھالوجسٹ ڈاکٹر پریا بینرجی نے وائس آف امریکہ کی درخواست پر ان تصویروں کا سائنسی تجزیہ کرنے کے بعد بتایا ہے کہ ارشد شریف پر ہلاکت سے قبل تشدد کے نشانات نہیں ملے ہیں

’’اگر ان تصاویر کو کلی طور پر دیکھا جائے، خصوصاً جسم کے بیرونی حصوں کی تصاویر کو، تو ایسے کوئی تشدد کے اور نشانات نہیں ہیں۔‘‘

ڈاکٹر پریا بینرجی نے مزید کہا: ’’جسم پر ہتھکڑی کے کوئی واضح نشانات نہیں۔ ان کی گردن پر کوئی ایسے نشانات نہیں تھے، جن سے لگے کہ ان کا گلا دبانے کی کوشش کی گئی ہو، یا ان پر دباؤ رکھا گیا ہو، مجھے ان کی زبان یا منہ پر کوئی واضح چوٹ نظر نہیں آئی، یا آنکھوں پر بھی، سو جب میں انہیں دیکھتی ہوں، تو مجھے گن شاٹس کی چوٹ کے علاوہ کوئی چوٹ نظر نہیں آتی۔‘‘

ڈاکٹر پریا بینرجی کا کہنا تھا کہ کوئی ٹوٹی ہوئی پسلی نظر نہیں آئی ۔ جب ہم ان کے جسم کے سامنے یا پشت کی طرف دیکھیں تو کوئی ایسی رگڑ کے نشان نہیں ہیں جن کی وضاحت ممکن نہ ہو یا گولیوں کے علاوہ کوئی نشان نہیں جس کے بارے میں سوالات ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ انہی ظاہری شواہد پر انحصار کر کے کہہ رہی ہیں کہ اس معاملے میں (ہلاکت سے پہلے) کوئی تشدد نہیں ہوا۔ ‘

امریکی کی تنظیم ’فزیشن فار ہیومن رائٹس‘ سے وابستہ پیتھالوجسٹ ڈاکٹر کیرن کیلی بھی ڈاکٹر پریا بینرجی جیسی آرا دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تصاویر دیکھنے کے بعد انہیں ہلاکت سے پہلے تشدد کے کوئی شواہد نہیں ملتے۔

ڈاکٹر کیرن کیلی نے کہا ’’تشدد کے کوئی نشانات نہیں ہیں۔ ارشد شریف کی موت کی وجہ سر میں سوراخ کرنے والی گولی کا زخم تھا۔ اور ان کے جسم پر بھی جو ایک زخم ہے، وہ بھی گولی کا ہی ہے‘‘

ڈاکٹر پریا بینرجی نے مزید کہا ان تصاویر کو دیکھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ارشد شریف کو دو گولیاں لگی تھیں۔ ایک گولی سر پر، اور اس کے علاوہ ایک پشت پر، جو سینے سے ہوتی ہوئی گئی۔ جو سر پر چوٹ تھی، اسے ’’گریز وونڈ‘‘ کہا جاتا ہے، یہ گولی ان کے سر کے اوپر والے حصے سے پار ہوتی ہوئی گئی اور کھوپڑی میں فریکچر اور دماغ سے خون بہنے کا سبب بنی۔ اور جو گولی سینے پر لگی وہ پشت سے پار ہوئی اور اس سے پھیپھڑوں میں زخم آیا۔‘‘

پمز میں پوسٹ مارٹم کے بعد پاکستانی میڈیا پر اور سوشل میڈیا پر یہ دعوے سامنے آئے تھے کہ ارشد شریف کے ہاتھوں کے کئی ناخن نہیں تھے۔ اس حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ڈاکٹر پریا بینرجی نے بتایا کہ ناخنوں کا نکالا جانا، پوسٹ مارٹم میں ایک معمول کی مشق ہے

ڈاکٹر بینرجی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قتل کے کیس میں تحقیقات کے لیے دنیا بھر میں عام طور پر ناخن بطور نمونہ تجزیے کے لیے نکالے جاتے ہیں مگر طریقہ کار میں فرق ہو سکتا ہے

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ڈاکٹر کیرن کیلی نے مزید کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی صحافی کا قتل ہے، جس کے لیے فورنزک پیتھالوجسٹ کے تعاون سے ایک بیرونی، غیر جانبدار ایجنسی سے تحقیقات کی ضرورت ہے، جس کے پاس ان فورنزک نتائج کی تشریح کرنے کا علم ہو۔

Tags:

ArshadArshad ShareefMurderPakistanShareef
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

گوادر میں ’حق دو تحریک‘ کی کال پر ہزاروں خواتین سڑکوں پر نکل آئیں

Next

گیارہ برس میں سولہ لاکھ بھارتیوں نے شہریت ترک کی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme