Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

اونٹ اور لاما کی اینٹی باڈیز سے کورونا وائرس ختم کیا جاسکتا ہے، تحقیق

By Akhtar Rasool
ستمبر 28, 2021 2 Min Read
0

لندن : برطانوی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ اونٹ اور لاما میں بننے والی مختصر اینٹی باڈیز یعنی ’نینو باڈیز‘ سے انسانوں میں کورونا وائرس کا خاتمہ ممکن ہے

واضح رہے کہ لاما اور اونٹ کا تعلق جانوروں کے ایک ہی خاندان سے ہے اور ماہرین نے جو ’نینو باڈی‘ دریافت کی ہے وہ ان دونوں میں یکساں طور پر بنتی ہے

اس ضمن میں کی جانے والی تحقیق کے لیے روزالن فرینکلن انسٹی ٹیوٹ، برطانیہ کے سائنسدانوں نے ابتدائی طور پر تجربہ گاہ میں رکھے گئے ایک لاما میں ناول کورونا وائرس (سارس کوو 2) داخل کیا تو لاما کے جسم میں موجود ایک خاص نینو باڈی نے وائرس کو جکڑ کر مزید پھیلنے سے روک دیا

لاما میں سے یہ نینوباڈی الگ کی گئی اور اگلے مرحلے میں اسے ہیمسٹرز (چوہوں جیسے جانوروں) پر آزمایا گیا جو ’سارس کوو 2‘ وائرس سے متاثر کیے گئے تھے. ہیمسٹرز میں بھی اس نینوباڈی نے وہی کارکردگی دکھائی جس کا مظاہرہ یہ لاما میں کر چکی تھی

اس تحقیق کے نگران اور ’’نیچر کمیونی کیشنز‘‘ کے تازہ شمارے میں اس حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مرکزی مصنف ڈاکٹر ریمنڈ اوونز کہتے ہیں کہ لاما سے حاصل شدہ نینو باڈی کو اسپرے کی شکل میں براہِ راست ناک کے ذریعے پھیپھڑوں میں پہنچایا جاسکتا ہے، جو اس کا سب سے بڑا فائدہ ہے

واضح رہے کہ اب تک کورونا وائرس سے بچاؤ کےلیے دی جانے والی اینٹی باڈیز انجکشن یا ڈرپ کے ذریعے متاثرہ فرد کے خون میں براہِ راست شامل کی جاتی ہیں

یہ اینٹی باڈیز اُن افراد کے بلڈ پلازما میں شامل ہوتی ہیں، جو کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد صحت یاب ہوچکے ہوں

عام اینٹی باڈیز کے مقابلے میں نینو باڈیز کی جسامت بہت کم ہوتی ہے، لیکن اب تک کی تحقیق میں انہیں ایسے کئی وائرسوں اور جرثوموں کے خلاف بھی مؤثر پایا گیا ہے، جن پر روایتی اینٹی باڈیز کا کوئی اثر نہیں ہوتا

1989ع میں لاما اور اونٹ پر تحقیق کے دوران پہلی بار نینوباڈیز دریافت ہوئیں تھیں، جبکہ ان سے اوّلین علاج وضع کرنے میں مزید تین دہائیوں کا عرصہ لگا.

Tags:

AntibodyCamelCORONA
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

یوٹیوب نے سپرچیٹ اور سپراسٹیکرز کا دائرہ مزید بڑھا دیا

Next

اشرف غنی نے فیسبک پر طالبان کی حمایت میں پوسٹ کرکے ڈلیٹ کردی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme