Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحت

اپنے شاگردوں کو گدھا گاڑی پر عملی تعلیم کے لیے پولیس اسٹیشن گھمانے والا ’پنڈ دا ماسٹر‘

By Akhtar Rasool
جنوری 25, 2023 5 Min Read
0

سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک پر ایک وڈیو گردش کر رہی ہے، جس میں گدھا گاڑی پر ایک سرکاری اسکول کے بچے سوار تھے اور وہ اپنے استاد کے ساتھ اپنے علاقے کا پولیس تھانہ دیکھنے جا رہے تھے

وڈیو دیکھنے سے معلوم ہوا کہ ان کے استاد انہیں تعلیمی نصابی دورے پر پولیس سٹیشن لے کر جارہے ہیں

اس استاد کا نام گل زادہ خان سیفی ہے اور وہ 2012ع سے تعلیم کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گل زادہ ایک انوکھے استاد ہیں اور گورنمنٹ پرائمری اسکول کامونکی میں تسیری جماعت کو پڑھاتے ہیں

وہ بتاتے ہیں ”چند روز قبل میں نے بچوں کو واقفیت عامہ کے مضمون میں شہریوں کے حقوق و فرائض پڑھائے تو سوچا بچوں کو پولیس تھانہ دکھایا جائے“

گل زادہ خان نے بتایا ”اس روز ہمیں بچوں کو تعلیمی دورے پر لے جانے کے لیے کوئی سواری نہ مل سکی تو گاؤں کے ہی ایک شخص، جو گدھا گاڑی چلاتے ہیں اور ایک طالب علم کے والد بھی ہیں، انہیں اپنی جیب سے کچھ رقم دی اور اسکول سے دو تین کلومیٹر دور تھانہ صدر کامونکی لے گیا۔۔ بچے گدھا گاڑی پر بیٹھ گئے اور میں ساتھ پیدل چلتا رہا“

گل زادہ بتاتے ہیں ”یہ بچوں کا پہلا دورہ نہیں ہے بلکہ میں اب تک اپنی جماعت کے بچوں کو چالیس مختلف جگہوں کے دورے کروا چکا ہوں جو کہ ہمارے نصاب کا نہ حصہ تھے نہ مجھے سکول انتظامیہ کی جانب سے کوئی مالی تعاون ملا“

انہوں نے بتایا ”میرے ہیڈ ٹیچر بہت اچھے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی سے میں یہ کام کرتا ہوں۔ میں دراصل روایتی طریقہ تعلیم پر یقین نہیں رکھتا بلکہ جو کچھ بچوں کو پڑھاتا ہوں، چاہتا ہوں وہ خود عملی طور پر اسے دیکھیں اور سمجھیں۔۔مثال کے طور پر میں نے بچوں کو بجلی کی سپلائی کے بارے میں پڑھایا ہے تو اسکول کے قریب ہی ایک گرڈ اسٹیشن ہے تو میں انہیں وہاں لے گیا۔ صحت کے بارے میں پڑھایا تو میں بچوں کو ہسپتال دکھانے لے گیا۔ میں نے اپنی طرف سے ایک نیا طریقہ تعلیم متعارف کروایا ہے۔ عموماً اساتذہ بچوں کو پڑھا کر کہتے ہیں اگلے دن سبق یاد کر کے آئیں، لیکن بچوں کو وہ چیز سمجھ ہی نہیں آئی ہوتی“

انہوں نے بتایا ”اس طریقہ تعلیم کے پیچھے میرا کچھ مقصد تھا۔۔ پہلا مقصد تو یہ تھا کہ بچے جو پڑھیں اسے عملی طور پر خود آنکھوں سے دیکھ کر سمجھیں اور دوسرا مقصد ان بچوں کے اعتماد میں اضافہ کرنا تھا۔ کیونکہ ہمارے اسکول میں تقریباً ننانوے فی صد بچے بھٹہ مزدوروں اور دیگر غریب گھرانوں سے ہیں اور انہیں ایسے مواقع میسر نہیں آتے۔۔مجھے خوشی ہے کہ میرے اس طریقہ تعلیم سے میرے طالب علم بہت خوشی سے باقاعدہ اسکول آتے ہیں“

فیلڈ ٹرپس کے علاوہ گل زادہ بچوں کو پڑھانے کے لیے آرٹ کے ذریعے بھی بہت کچھ دلچسپ اور پُر لطف اندوز طریقے اپناتے ہیں

گل زادہ ایک بہت اچھے آرٹسٹ بھی ہیں اس لیے وہ مختلف شخصیات کی تصاویر یا مضامین کے بارے میں سفید چارٹ پیپر پر بڑی بڑی ڈرائینگز بنا کر کلاس میں لگاتے ہیں اور وہاں سے بچوں کو سمجھاتے ہیں

انہوں نے بتایا ”کھیلوں کے حوالے سے انہوں نے حالیہ میراڈونا اور میسی کی تصاویر بنائیں اور وہ بچوں کی کلاس میں لگا کر انہیں ان کھلاڑیوں کے بارے میں کہانیاں سنائیں۔۔“

وہ بتاتے ہیں ”جب میں پڑھ رہا تھا تو مجھے استاد بہت سخت ملے، اتنے سخت کہ میں نے اسکول چھوڑ دیا اور دو تین سال ایک ورکشاپ پر کام کیا۔ پھر محمد خان جونیجو صاحب کے دور میں نئی روشنی اسکول متعارف ہوا تو وہاں ورکشاپوں پر کام کرنے والے بچوں کو تعلیم دی جاتی تھی۔ میں بھی وہاں چلا گیا۔ وہاں خوش قسمتی سے مجھے استاد اچھا مل گیا اور میرا پڑھائی کو شوق پھر جاگ گیا۔ میں نے صحافت میں بی ایس کیا اور ایم اے انٹر نیشنل رلیشنز میں کیا اور کچھ عرصہ صحافت بھی کی لیکن پھر تعلیم کا شعبہ اختیار کیا“

گل زادہ نے بتایا ”میںں نے اپنی جماعت میں سونے کی ایک جگہ بھی بنائی ہوئے ہے، چونکہ بیشتر بچے بھٹہ مزدوروں کے ہیں تو اکثر یہ بچے بھی اپنے والدین کے ساتھ کام کرتے ہیں تو میں ان کی شکلیں دیکھ کر جان جاتا ہوں کہ وہ تھکے ہوئے ہیں۔ اس لیے میں انہیں کہتا ہوں کہ وہ سو جائیں۔ اس طرح وہ کچھ دیر آرام بھی کر لیتے ہیں“

ان کے مطابق شاید یہی وجہ ہے کہ بچے جس دن اسکول کی چھٹی ہو، اس دن اداس ہو جاتے ہیں۔ گل زادہ خان ان بچوں کے لیے مختلف کھیلوں کا سامان بھی لائے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ فارغ وقت میں کرکٹ اور فٹبال وغیرہ بھی کھیلتے ہیں

وہ بتاتے ہیں ”ابھی چند روز پہلے میں بیمار ہوا تو میری کلاس کے بچوں نے دس، دس روپے ڈال کر پیسے جمع کیے اور کچھ پھل لے کر میرے گھر آ گئے اور سارا دن ہی وہ وہاں میرے پاس بیٹھے رہے“

گل زادہ خان سیفی کہتے ہیں ”کسی فلسفی نے کہا تھا کہ اگر اسکول میں بچے چھٹی کا انتظار بے صبری سے کرتے ہیں تو سمجھ جائیں کہ وہ اسکول میں خوش نہیں ہیں۔ اور میں جانتا ہوں کہ میری کلاس کے بچے جب اسکول آتے ہیں تو وہ پوری خوشی اور بغیر کسی ڈر کے آتے ہیں“

گل زادہ خان نے اپنی انہی تعیمی سرگرمیوں کے لیے ‘پنڈ دا ماسٹر’ کے نام سے یو ٹیوب چینل بھی بنایا ہوا ہے

گل زاد خان سیفی نے بتایا کہ ان کے اس طریقہ تعلیم سے ان کے دیگر ساتھی کچھ زیادہ خوش نہیں ہیں۔ چونکہ گل زادہ اپنے اس طریقہ تعلیم کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی تصاویر و وڈیوز شئیر کرتے رہتے ہیں، اس لیے انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھی اساتذہ کو یہ ڈر ہے کہ اگر افسران بالا نے ان کے اس طریقہ تعلیم کو دیکھ لیا تو وہ باقی اساتذہ کو بھی ویسا ہی کرنے کو کہیں گے، جس سے ان کے کام کا بوجھ بڑھ جائے گا

ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اسکولوں میں تعلیمی دورے پہلے ہوا کرتے تھے لیکن اب صرف سیکنڈری اور ہائی اسکول لیول پر ہوتے ہیں اور وہ بھی بہت ہی کم۔ اس لیے وہ اپنی جیب سے اپنی کلاس کے بچوں کو تعلیمی دوروں پر لے کر جاتے ہیں، جس سے نہ صرف وہ سیکھتے ہیں بلکہ انہیں تفریح کا بھی ایک موقع ملتا ہے

شیخوپورہ کے ایک سینئیر پولیس افسر خرم ڈوگر بھی گل زادہ خان کو جانتے ہیں ان کا کہنا ہے ”گلزادہ خان سیفی جیسے استاد اور ان سے ہمارے اس معاشرے کے لیے ایک نعمت ہیں جو سرکاری اسکول میں ہمارے غربا کے بچوں کو وہ معیاری تعلیم دے رہے ہیں جو امرا کے بچے لاکھوں روپے خرچ کر کے حاصل کرتے ہیں۔ ان جیسے انسان معاشروں کا تعارف اور خوبصورت چہرہ ہوتے ہیں۔“

Tags:

bedtime stories for kidscartoon for childrencartoon for kidseducational songs for kidsfor kidshindi kahaniya for childrenhindi kahaniya for kidshindi stories for childrenshindi stories for kidslearning for kidsmade for kidsmasha and the bear english episodesmasha and the bear in englishmy teacher is the bestsafe cartoons for kidsstories for kidsthe 12 dancing princesses full moviethe learning station (musical group)video for kids
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

آسکرز کے لیے نامزد ہونے والے بھارتی گانے ’ناٹو ناٹو‘ کی کہانی

Next

بل گیٹس اور گائے کے ڈکار۔۔۔

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme