Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

اپنے ہی ہیروں کی آمدن سے محروم افریقی ممالک کا المیہ

By Akhtar Rasool
فروری 28, 2023 5 Min Read
0

برِاعظم افریقہ میں ہیروں کی غیر قانونی تجارت نے مقامی لوگوں کو ترقی اور خوشحالی کے حق سے محروم کر رکھا ہے۔ طاقتور ملکوں کے اسمگلر ہیروں کی مدد سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت میں ملوث ہیں

افریقہ کے ہیروں سے مالا مال ممالک میں اس قیمتی ترین شے کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن مقامی لوگوں کے معیارِ زندگی میں بہت کم ہی بہتری لاتی ہے تاہم بوٹسوانا کو اس معاملے میں استثنٰی حاصل ہے

ورلڈ بینک کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یہ زیریں صحارا افریقہ کے سب سے خوشحال ممالک میں سے ایک بن گیا ہے

افریقہ کے ان ممالک میں کیا ہوتا ہے، جہاں سماجی و اقتصادی فوائد حاصل کیے بغیر جواہرات نکالے جاتے ہیں۔ اس بارے میں ہیروں کی صنعت کے اندرونی حالات سے واقف افراد اور ماہرین مختلف آراء رکھتے ہیں

ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) میں افریقی ڈائمنڈ کونسل کے صدر ڈاکٹر ایمزی فُولا اینگیگے اس حوالے سے کہتے ہیں کہ وسیع پیمانے پر لالچ، بعد از نوآبادیاتی علیحدگی، نیز پبلک سیکٹر اور حکومتی جوابدہی کی کمی کی وجہ سے عدم استحکام اور تنازعات کی ایک تاریخ ہے

اینگیگے کا کہنا ہے کہ کانگو کے کچھ خطوں میں تنازعات کا منظر نامہ دوسرے افریقی ممالک میں بار بار دیکھا جاتا ہے، جہاں معدنیات کی بہتات ہے اور یہ کہ ان ممالک کو جان بوجھ کر سیاسی اور سماجی عدم استحکام کا نشانہ بنایا جاتا ہے

کانگو، انگولا، موزمبیق اور افریقہ کے بہت سے دوسرے معدنیات سے مالا مال ممالک میں جو ایک چیز مشترک ہے، وہ معدنی وسائل کے استحصال کی دو الگ الگ منڈیاں ہیں۔ ان میں سے ایک تو قانونی طریقے سے باضابطہ طور پر ہیروں کی کان کنی کی صنعت ہے، جبکہ دوسری ایک خفیہ صنعت ہے، جس پر کان کنوں اور ان کے کفیلوں کا غلبہ ہے

صورتحال کا جائزہ لینے کے لیمے اور پتہ چلانے کے لیے کہ ہیروں کی پیداوار اور تجارت کی خفیہ مارکیٹ کیسے چلتی ہے، حال ہی میں جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کی ایک ٹیم نے کانگو کی سرحد پر واقع انگولا کے صوبے لنڈا نورٹے میں ہیروں کی کان کنی کے قصبے کافونفو کا دورہ کیا

کائینگو اڈیلینو دس سال سے زائد عرصے تک ہیروں کے ایک غیر رسمی کارکن یا گیریمپیروس رہے ہیں۔ انچاس سالہ اڈیلینوکا کہنا ہے کہ ایک عام اصول کے طور پرگیریمپیروس کے گروپوں کے اسپانسرز ہوتے ہیں، جو انہیں کان کنی کے لیے ادائیگی کرتے اور ہیرے خریدتے ہیں

رپورٹ کے مطابق سینیگال، چین، فرانس، اریٹیریا، گھانا اور جمہوریہ کانگو کے شہری قیمتی پتھروں کی خرید و فروخت کے لیے پوشیدہ بازار پر غلبہ رکھتے ہیں، خاص طور پر گیریمپیرو کے ذریعے ہیروں کی کان کنی پر

ایک کفیل گیرمپیروز کو کان میں ان کی زندگی گزارنے کے لیے ضروری سامان مہیا کرتا ہے، جس کے بعد اس سامان کی قیمت ہیروں کی ادائیگی سے کاٹ لی جاتی ہے جو گیریمپیروس ہیرے بیچ کر کماتے ہیں

اڈیلینو کہتے ہیں ”آخری بار جب میں نے ہیرا بیچا تو اس کی قیمت بارہ سو پچاس ڈالر تھی۔ یہ حقیقی قیمتیں نہیں ہیں کیونکہ ہم سے ہیروں کی خریداری کے لیے جو پیمانہ استعمال کیا جاتا ہے وہ اس سے مختلف ہے، جو ہیروں کی فروخت کے بازار میں ہوتا ہے۔‘‘

کافونفو میں غیر رسمی کارکنوں کی جانب سے نکالے گئے ہیروں کے خریدار ایک اسپانسر یا سرمایہ کار کے طور پر کسی بھی ہیرے کی قیمت فروخت کا پچاس فیصد حصہ پہلے ہی اپنے پاس رکھتے ہیں اور اس کے بعد بقیہ پچاس فیصد رقم گریمپیروس میں تقسیم کر دی جاتی ہے

افریقی ڈائمنڈ کونسل کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ افریقی سے نکالے جانے والے خام ہیروں کی اسمگلنگ کی صورت میں افریقی ہیروں کی کل پیداوار کا اٹھائیس سے بتیس فیصد حصہ ضائع ہو جاتا ہے

ڈاکٹر اینگیگے کا کہنا ہے کہ آمدنی کا تعلق خاص طور پر خام اور قدرتی، غیر دستاویزی یا غیر تصدیق شدہ ہیروں سے ہوتا ہے، جو افریقی براعظم پر ہیروں کی کان کنی والے ممالک سے باہر ہیروں کے مراکز میں اسمگل کیے جاتے ہیں

وہ بتاتے ہیں ”بعض صورتوں میں بہت سے غیر قانونی ہیرے ضبط کر لیے جاتے ہیں اور وہ ان ممالک کی ریاست کی ملکیت بن جاتے ہیں جو انہیں ضبط کرتے ہیں۔ لہٰذا ‘ترقی یافتہ دنیا‘، یقینی طور پر اس قسم کی کوتاہی کی طرف آنکھیں، کان اور منہ بند کرنے کی زمہ دار ہے۔‘‘

اس سلسلے میں ڈی ڈبلیو نے ہیروں کی جغرافیائی سیاست اور خام ہیروں کی دنیا میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے طریقہ کار کے ایک ماہر سے بات کی، جس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی

اس ماہر کا کہنا تھا ”بعض اوقات ہیروں کو انگولا کی کانوں سے چوری کر کے کانگو لے جایا جاتا ہے اور پھر ان دستاویزات کے ذریعے دبئی برآمد کیا جاتا ہے، جن میں کہا جاتا ہے کہ یہ ہیرے کانگو سے آئے ہیں، جبکہ اصل میں یہ انگولا سے آتے ہیں۔‘‘ تاہم افریقی ڈائمنڈ کونسل کے صدر کے مطابق اس طرح کی سرگرمیوں سے نمٹنے کا واحد طریقہ غربت سے لڑنا ہے

انگولا کے ایک صحافی، انسانی حقوق کے کارکن اور معروف کتاب ’بلڈ ڈائمنڈز‘ کے مصنف رافیل مارکیز ڈی موریس ہیروں کی تصدیق کے عالمی طریقہ کار یا ”کمبرلے عمل‘‘ کو ناقص قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں ”ایک تنازعہ ہے، مقامی کمیونٹیز کا استحصال ہے، روس کے الروسا گروپ کی طرف سے ہیرے نکالنے میں مقامی برادریوں کے ساتھ بدسلوکی ہے۔‘‘

الروسا انگولا اور افریقہ کے دیگر حصوں میں کان کنی میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ”یہ کمبرلے عمل کا مسئلہ ہے۔ یہ کچھ ممالک کے اسٹریٹجک مفادات کے مطابق کام کرتا ہے۔‘‘ روسی ہیروں کی کمائی کا یوکرین کی جنگ میں ایک کردار ہے

ڈائمنڈ جیو پولیٹکس کے ماہر اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ”الروسا آپریشن سے ہیروں کی آمدنی کو ہدف بنانا اہم ہے تاکہ یوکرین میں جنگ کے لیے روسی پیسے کے فوری بھاؤ کو روکا جا سکے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ”بیلجیئم کے وزیر اعظم اپنے فوجیوں کو یوکرین بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں جب کہ بیلجیئم اپنے شہر اینٹورپ میں روسی خام ہیروں کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کی رقم ماسکو کو فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ کیا یہ مفادات کا ٹکراؤ نہیں ؟‘‘

Tags:

4-year-old girl falls out the back of a moving van4yr old falls out back of moving vana people's history of the united statesAfricaAfricanafrican developmentbiography of famous peopleblack box recordings of plane crashescentral african republic (country)colonization of africafresh prince of bel airhistory of africakingdom of beninkingdom of kongoSouth Africathe clinton presidency and the crisis of democracyuniversity of nicosia
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

تین سو سے کم یونٹ استعمال کرنے والےصارفین سے 14.24 روپے فی یونٹ تک اضافی وصول کرنے کا حکومتی منصوبہ!

Next

”ہمارے ساتھ ایجنٹ نے دھوکہ کیا اور کشتی پر زیادہ لوگ بٹھائے، جس سے وہ ڈوب گئی“

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme