Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

’برطانیہ نے ہندوستان کو تہذیب سکھائی‘ امریکی ٹی وی اینکر کے بیان پر غم و غصہ

By Akhtar Rasool
ستمبر 15, 2022 3 Min Read
0

’برطانیہ نے ہندوستان کو تہذیب سکھائی‘ یہ کہنا ہے ایک امریکی ٹی وی اینکر کا، جو اپنی اس بات پر بھارتیوں کی جانب سے کی جانے والی تنقید کی زد میں ہیں

اپنی اس بات کی دلیل کے طور پر فاکس نیوز چینل سے تعلق رکھنے والے ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا کہ برطانوی راج کے خاتمے کے بعد بھارت نے فنِ تعمیر کا مظاہرہ نہیں کیا ہے

ٹکر کارلسن نے یہ باتیں ملکہ الزبتھ دوم کے بارے میں ہونے والے ایک شو کے دوران کہی تھیں، جو گزشتہ ہفتے چھیانوے سال کی عمر میں انتقال کر گئیں

بھارتی سیاستدانوں، مبصرین اور سوشل میڈیا صارفین نے ٹکر کارلسن کے تبصروں کو نسل پرستانہ اور جاہلانہ قرار دیتے ہوئے ان پر شدید تنقید کی ہے

یہ بیان یا تبصرہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ملکہ برطانیہ کے انتقال نے برطانیہ کے نوآبادیاتی ماضی کے بارے میں ایک حساس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے

حالیہ دنوں میں، بھارت سمیت دنیا بھر کے کئی نامور ادیبوں اور ماہرین تعلیم نے برطانوی بادشاہت پر تنقید کی ہے، اور کہا ہے کہ اس سلطنت کے ظلم و بربریت کا حساب لینا باقی ہے

کارلسن نے گزشتہ ہفتے اپنے شو میں اس برطانوی سلطنت کے ظلم و بربریت کی دلیل کو رد کرنے کی کوشش کی، اور کہا کہ برطانوی سلطنت کا مطلب ‘نسل کشی سے زیادہ’ ہے

انہوں نے ایک کلپ میں کہا کہ ”مضبوط ممالک کمزور ممالک پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ یہ رجحان آج بھی تبدیل نہیں ہوا ہے“

ٹکر کارلسن نے مزید کہا ”امریکہ کے برعکس، انگریزوں نے اپنی نوآبادیاتی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیا اور دنیا پر ’مہذب انداز‘ میں ’حکومت‘ کی، جس کی مثال انسانی تاریخ میں کسی بھی سلطنت میں نہیں ملتی“

انہوں نے کہا ”جب انگریزوں نے ہندوستان کو چھوڑا، تو وہ اپنے پیچھے ایک پوری تہذیب، زبان، ایک قانونی نظام، اسکول، چرچ اور عوامی عمارتیں چھوڑ گئے، یہ سب آج بھی استعمال میں ہیں“

اس کے بعد اینکر نے ممبئی کے وکٹوریہ ٹرمینس اسٹیشن کی مثال دے کر اپنے موقف کا دفاع کرنے کی کوشش کی ”پیلے پتھروں، گرینائٹ اور نیلے سرمئی سنگِ مر مر کا ایک وسیع و عریض ڈھانچہ، جو 1887ع میں اس وقت بمبئی شہر میں انگریزوں نے بنایا تھا۔ اور 2016 میں جس کا نام بدل کر چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس کر دیا گیا“

انہوں نے کہا ”کیا بھارت نے ایک بھی عمارت اتنی خوبصورت بنائی ہے جتنی کہ بمبئی کا ٹرین اسٹیشن، جو برطانوی نوآبادکاروں نے تعمیر کی تھی؟ افسوس کی بات ہے کہ ایک بھی نہیں!“

ان کے تبصروں نے بھارت میں ایک بھونچال برپا کر دیا ہے، جن میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت کانگریس کے ششی تھرور جیسے سینئر سیاستدان بھی شامل ہیں

ششی تھرور نے منگل کو دو ناراض ایموجیز کے ساتھ ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ”میرے خیال میں ٹوئٹر پر کوئی ایسا بٹن ہونا چاہیے جب آپ غصے میں ہیں تو آپ اس بٹن کو دبا دیں“

ایک اور صارف نے فاکس کے اینکر کے دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے لکھا ”میں نے بھارت میں جو سب سے شاندار عمارتیں دیکھی ہیں، وہ انگریزوں نے نہیں بلکہ خود ہندوستانیوں نے بنائی تھیں“

ٹینس لیجنڈ مارٹینا ناوراتیلووا نے بھی اس معاملے پر اپنی رائے دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا۔ انہوں نے کہا ”مسٹر کارلسن کی تاریخ سے مکمل لاعلمی، کافی حیران کن ہے۔آپ کی نسل پرستی کافی بلندی پر ہے اور اس خاص مسئلے پر آپ کی حماقت اولمپک تناسب کی ہے!!!“

معروف بھارتی صحافی برکھا دت نے اسے ’ایک سفید فام شخص کے مشرقیت کے ساتھ غیر ضروری جنون‘ کا معاملہ قرار دیتے ہوئے لکھا ”حیرت ہے کہ بھارتی میڈیا ایک امریکی اینکر پر کتنا وقت خرچ کرنے کو تیار ہے، جو اپنے ملک کے بارے میں آپ کی کسی بھی طرح کی رائے پر کان بھی نہیں دھرے گا“

Tags:

Britain taught civilization to India'BritishBritish RajCivilized IndianColonial PeriodIndia
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

موبائل فون کمپنیوں کو ساتھ ملا کر کاروباری اصولوں کی خلاف ورزی: گوگل پر تاریخ کا سب سے بڑا جرمانہ!

Next

پشاور: معذوری کا علاج کرنے والے ایک ایسے مرکزِ صحت کی کہانی، جہاں پرانے مریض نئے آنے والوں کا ‘علاج‘ کرتے ہیں

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme