Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

بلوچستان: پاک۔ایران سرحد پر تجارت کی بندش کے خلاف افراد کا احتجاج

By Akhtar Rasool
ستمبر 17, 2023 3 Min Read
0

پاک-ایران سرحد سے ملحقہ علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں پر پابندی کے خلاف نیشنل پارٹی، حق دو تحریک اور دیگر جماعتوں کے کارکنوں اور حامیوں سمیت لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ’بارڈر بچاؤ تحریک‘ کے عنوان سے احتجاجی ریلی میں شرکت کی اور تربت شہر میں دھرنا دیا۔ پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا تھا

تربت شہر میں پارٹی رہنماؤں، کارکنوں اور حامیوں نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا کر مختلف سڑکوں اور گلیوں میں مارچ کیا، جن پر ان کے مطالبات درج تھے، نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کی قیادت میں شرکاء نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی

مارچ کے بعد مظاہرین نے تربت شہر کی مرکزی سڑک پر دھرنا دیا، جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکاء سے خطاب کیا، انہوں نے تجارتی سرگرمیوں پر پابندی کی شدید مذمت کی، جسے حکومت نے اسمگلنگ کے خلاف اقدام کے طور پر جائز قرار دیا ہے

احتجاجی ریلی اور جلسہ عام میں سخت الفاظ میں قرارداد منظور کی گئی، قرار داد میں انہوں نے پابندی کو ’بلوچستان کے عوام کے خلاف سازش‘ قرار دیا۔

جلسہ دھرنا اور ریلی کی قرارداد میں کہا گیا ”آج کا یہ احتجاجی جلسہ بلوچستان کے سرحدوں پر ہونے والے تجارتی سرگرمیوں پر حکومت پاکستان کی جانب سے عائد پابندی کو بلوچستان کے عوام کے خلاف ایک سازش تصور کرتے ہوئے اس کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتا ہے۔“

قرارداد میں کہا گیا کہ بلوچستان کے بارڈز سے ہونے والی تیل سپلائی کو اسمگلنگ کا نام دے کر حقائق سے چشم پوشی کی جارہی ہے سرحدی تجارت ہمارے عوام کی قومی ضرورت ہے، جس سے ہزاروں لوگ برسر روزگار ہیں

قرارداد میں کہا گیا ہے ”بلوچستان بارڈر پر کام کرنے والے تمام ٹرانسپورٹ ایف سی اور انتظامیہ کے پاس رجسٹرڈ ہیں اور انتظامیہ کی اجازت سے بارڈر جاتے رہتے تھے۔ انتظامیہ کے رجسٹریشن کے بعد لوگوں نے ہزاروں گاڑیاں اس لیے خریدیں کہ یہ ایک قانونی کام ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ریاست نے اچانک اپنی پوزیشن تبدیل کر دی اور ایک قانونی کام کو غیر قانونی قرار دے کر بند کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوئی، جس سے بلوچستان کے لاکھوں افراد متاثر ہو رہے ہیں“

احتجاج کرنے والی جماعتوں کے رہنماؤں نے حکومت کے موقف میں اچانک تبدیلی کی مذمت کی، جس کے تحت ایرانی تیل اور دیگر اشیاء کی قانونی سپلائی کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے

قرار داد میں مزید کہا گیا ہے ”آج کا یہ جلسہ حکومتی کی بارڈر بندش پالیسی کو رد کرتے ہوئے اس کی فوری طور پر بحالی کا مطالبہ کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ بلوچستان اور ایران کے سرحد پر ہونے والے تجارتی عمل کو قانونی شکل دی جائے۔“

دریں اثنا، بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی۔عوامی) کے صدر میر اسد اللہ بلوچ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ لاکھوں گھرانوں کے گزر برس کا انحصار سرحدی تجارت پر ہے اور اس کی بندش کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا

انہوں نے بطور احتجاج 21 ستمبر کو پورے مکران ریجن میں ہڑتال کا بھی اعلان کیا

گزشتہ حکومت میں بطور صوبائی وزیر خدمات انجام دینے والے اسد اللہ بلوچ نے بتایا کہ نگران حکومت کا کام صاف اور شفاف انتخابات کروانا ہے، اور اس کے پاس سرحد بند کرنے کا مینڈیٹ نہیں ہے

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے کا حق عوامی نمائندوں پر مشتمل منتخب حکومت کو حاصل ہے، مکران کے عوام ایسے کسی بھی فیصلے کو تسلیم نہیں کریں گے۔

بی این پی ۔ عوامی کے رہنما نے اس عمل کو خوفناک اور متعصبانہ قرار دیا، جس سے صوبے میں صرف انارکی آئے گی۔

دوسری جانب نیشنل پارٹی کے مرکزی سکریٹری جان محمد بلیدی نے دھرنا و ریلی (بارڈر بچاؤ تحریک) میں بھرپور انداز میں شرکت کرنے پر آل پارٹیز کیچ میں شامل تمام سیاسی جماعتوں، تاجر برادری، ڈپو مالکان بارڈرز یونینوں اور زمباد مالکان، بلیدہ و زاعمران، کولواہ و ہوشاپ تجابان، ھیرونک، شہرک و سامی، دھشت و بلنگور، مند و تمپ ناصر آباد اور تربت کے عوام کا شکریہ ادا کیا

نیشنل پارٹی کے زیراہتمام بارڈر کی بندش کے خلاف تربت میں جلسہ عام
مختلف سیاسی جماعتوں، تربت سول سوسائٹی، پی ٹی آئی، حق دو تحریک، ٹریڈ یونین، بارڈر کمیٹی، رابطہ کمیٹی، انجمن تاجران تربت کے ساتھ ساتھ دیگر جماعتوں نے حمایت کی تھی۔ جلسہ کے آغاز میں بلوچی زبان کے عہد ساز شاعر مبارک قاضی کی رحلت پر دو منٹ کھڑے ہوکر انہیں خاموشی کے ساتھ خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا۔

Tags:

afghan border reopenBalochistanborder reopengwadar protestsgwadar residents protestiran balochistan border pakistan videosiran protest against governmentPak Afghan Borderpak iran border par trade bandishpak-afghan border reopenpakistan afghanistan borderprotest in gwadarprotest in gwadar todayprotests in gwadartaliban-pak border forces clashtoday protest in gwadartravel to afghanistan bordertravel to pakistan border
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بلوچوں کے جون ایلیا

Next

سجاول: ’تین پتی‘ جوئے میں کروڑوں ہارنے کے بعد اپنے ہی اغوا کے ڈرامے کا ڈراپ سین

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme