Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Balochistans-mothers-and-the-death-of-helplessness-A-terrifying-increase-in-maternal-deaths
تعلیم و صحتاہم ترینتازہ ترینخبریں

بلوچستان کی مائیں اور بے بسی کی موت: زچگی کے دوران اموات میں خوفناک اضافہ

By Akhtar Rasool
مارچ 16, 2025 3 Min Read
0

صورت خان بگٹی کی آنکھوں میں ویرانی ہے، لہجے میں شکستگی، ”میں اپنی بیوی کو ڈیرہ بگٹی سے 200 کلومیٹر دور رحیم یار خان لے جا رہا تھا۔ میرے دل میں ایک ہی دعا تھی کہ وہ اور ہماری آنے والی بچی دونوں ہی سلامت رہیں۔۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ راستے میں میری بیوی اور ننھی پری دونوں ہی مجھ سے جدا ہو گئیں۔“

یہ صرف ایک کہانی نہیں، بلوچستان کے درجنوں اضلاع میں ہر سال سیکڑوں مائیں ایسے ہی خاموشی سے زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں، جن کا کوئی نوحہ لکھنے والا نہیں۔

علاج کے نام پر سفرِ مرگ

ڈیرہ بگٹی کا ضلعی ہسپتال، ہسپتال کے نام پر اینٹوں کی ایک ایسی عمارت ہے، جہاں بنیادی طبی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ لیڈی ڈاکٹرز اور گائناکالوجسٹ کی غیر موجودگی نے حاملہ خواتین کو ایک مستقل خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہاں کی مائیں ہسپتال نہیں، سڑکوں پر زندگی دیتی ہیں، ایمبولینس میں دم توڑتی ہیں یا گھروں میں غیر تربیت یافتہ دائیوں کے رحم و کرم پر اپنی جان ہار دیتی ہیں۔

”یہاں کوئی لیڈی ڈاکٹر نہیں، کوئی بلڈ بینک نہیں، کوئی زچہ و بچہ سینٹر نہیں۔“ یہ کہنا ہے سماجی کارکن عبدالغفار بگٹی کا، جو کئی برسوں سے اس مسئلے پر احتجاج کر رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ 2024 میں صرف ڈیرہ بگٹی میں 30 خواتین زچگی کے دوران انتقال کر گئیں، اور یہ سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں۔

رحیم یار خان: ایک ہسپتال، سینکڑوں مجبور زندگیاں

ڈیرہ بگٹی اور دیگر بلوچ اضلاع میں اسپتال کم، مگر رحیم یار خان کا ایک اسپتال سب کے لیے آخری امید ہے۔ لیکن یہ امید بھی اکثر راستوں کی خستہ حالی کے باعث دم توڑ جاتی ہے۔

”چار گھنٹے کا سفر سیکیورٹی چیک پوسٹوں اور خستہ حال سڑکوں کی وجہ سے آٹھ سے نو گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ اکثر مریض راستے میں ہی دم توڑ دیتے ہے۔“ عبدالغفار بگٹی نے تلخ حقیقت بیان کی۔

یہ صرف ڈیرہ بگٹی کا مسئلہ نہیں، پورے بلوچستان میں یہی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔

ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کے مطابق، بلوچستان میں دورانِ زچگی اموات کی شرح ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں ہر ایک لاکھ میں سے 184 مائیں زچگی کے دوران انتقال کر جاتی ہیں، لیکن بلوچستان میں یہ تعداد 198 تک جا پہنچی ہے۔ یہ ملکی اوسط سے 40 فیصد زیادہ ہے۔

ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کہتی ہیں، ”دوران زچگی پیچیدگیوں میں خون کا زیادہ بہنا، بلند فشار خون اور انفیکشنز عام ہیں۔ اگر فوری طبی امداد نہ ملے تو ماں اور بچہ دونوں کی جان چلی جاتی ہے۔“

محکمہ صحت بلوچستان کے ایک اعلیٰ افسر نے انکشاف کیا کہ 36 اضلاع میں سے 22 میں ایک بھی ماہر امراضِ نسواں نہیں۔ کاغذات میں کچھ ڈاکٹروں کی تعیناتی تو دکھائی جاتی ہے، مگر حقیقت میں وہ کوئٹہ جیسے بڑے شہروں میں تعینات ہونا پسند کرتی ہیں۔

ایک حیران کن حقیقت یہ بھی ہے کہ بلوچستان کے تین لاکھ کی آبادی والے ضلع ڈیرہ بگٹی میں ایک بھی لیڈی ڈاکٹر نہیں، جبکہ صوبے کے 980 میں سے 739 لیڈی ڈاکٹرز صرف کوئٹہ میں موجود ہیں۔ چاغی، ڈیرہ بگٹی، بارکھان جیسے اضلاع مکمل طور پر محروم ہیں۔

دوسری جانب حیران کن طور پر محکمہ صحت بلوچستان کے ڈائریکٹر جنرل، ڈاکٹر امین خان مندوخیل، حکومتی اقدامات کا دفاع کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق چار پروگرامز چل رہے ہیں اور لیڈی ڈاکٹرز کے لیے خصوصی فنڈز رکھے جا رہے ہیں۔

لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی سنا رہے ہیں۔ بلوچستان میں 45 ہزار سے زائد طبی عملہ ہونے کے باوجود 4400 اسامیاں خالی پڑی ہیں۔

ڈیرہ بگٹی وہی علاقہ ہے جس سے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا تعلق ہے، لیکن ان کے اپنے ضلع میں خواتین دوران زچگی مر رہی ہیں اور کوئی سننے والا نہیں۔

یہ صرف حکومت کی ناکامی نہیں، یہ پورے سماج کے اجتماعی ضمیر کا سوال ہے۔ کیا بلوچستان کی بیٹیاں اور مائیں یونہی سڑکوں پر، گھروں میں، ایمبولینس میں تڑپ کر مرتی رہیں گی؟ کیا ان کے حصے میں کبھی کوئی امید، کوئی روشنی آئے گی؟

یا پھر یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا اور ہم اگلے سال پھر ایک نئی رپورٹ میں چند اور ماؤں کے مرنے کی خبریں لکھ رہے ہوں گے؟

Tags:

Ambulance ShortageBalochistan Healthcare CrisisBalochistan Medical FacilitiesBalochistan Women's PlightBalochistan’s Health TragedyBirth ComplicationsBirth-Related FatalitiesBlood Bank ShortageBlood Loss During ChildbirthChildbirth DeathsChildbirth Emergency ResponseChildbirth FatalitiesDeath During ChildbirthDelayed Medical InterventionDelayed TreatmentDera Bugti CrisisDoctor ShortageDoctor Without BordersDying MothersEmergency Birth ServicesEmergency Medical ServicesFemale Doctor ShortageGender Health DisparitiesGovernment AccountabilityGovernment negligenceHealth AwarenessHealth Infrastructure GapsHealth NGOsHealth Policies FailureHealth Sector CorruptionHealth Statistics PakistanHealthcare AccessHealthcare Budget IssuesHealthcare DisparitiesHealthcare FundingHealthcare InequalityHealthcare InfrastructureHealthcare RightsHigh Infant MortalityHigh Maternal Death RateHigh-risk PregnanciesHuman Rights Violationhumanitarian crisisInfant DeathsLack of Female Medical StaffLack of GynecologistsLack of HospitalsLack of Maternity WardsLack of Medical FacilitiesLack of Medical SpecialistsLack of Medical Trainingmaternal healthMaternal Health AwarenessMaternal Health StatisticsMaternal MortalityMaternity CareMedical Aid DelayMedical Aid OrganizationsMedical EmergencyMedical NegligenceMedical Transportation IssuesMedical Workforce CrisisMother-Child Mortality RateNeglected CommunitiesObstetric EmergenciesPakistan Health CrisisPolitical negligencePregnancy Complication DeathsPregnancy ComplicationsPregnancy DeathsPregnancy Healthcare CrisisPregnancy RisksPregnancy-Related DeathsPregnant Women’s RightsPublic Health Crisispublic health emergencyPublic Health PoliciesQuetta DoctorsRahim Yar Khan HospitalRemote Areas HealthcareRemote Villages HealthcareRural Childbirth ChallengesRural developmentRural HealthcareRural Medical NeglectRural Mother MortalityRural Women Strugglessocial injusticeState Healthcare NeglectTraditional MidwivesUnderdeveloped Healthcare SystemUnderserved CommunitiesUnsafe DeliveriesUrgent Healthcare ReformsWomen Dying in LaborWomen’s Health AdvocacyWomen’s Health RightsWomen’s Healthcare ChallengesWomen’s Reproductive HealthWomen’s Rights in BalochistanWomen’s Struggles in Pakistan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Urdu-fiction-and-shorty-stories-by-Upendar-Nath
Previous

کفارہ (منتخب افسانہ)

Growing-female-genocide-in-Dera-Bugti
Next

ڈیرہ بگٹی میں بڑھتی خواتین ’نسل کشی‘

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme