Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

بھارتی صوبے بہار میں دو کلومیٹر سڑک ’چوری‘ ، معاملہ کیا ہے؟

By Akhtar Rasool
دسمبر 2, 2022 4 Min Read
0

بھارت عجیب و غریب ’واداتوں‘ کا ملک ہے۔ اس کے غنڈے بھی الٹرا سمارٹ ہو چکے ہیں۔ بھارت میں غنڈوں اور ڈکیتیوں کی کہانیاں برابر کے تناسب سے عجیب اور خوفناک ہیں۔ خاص طور پر بہار میں جرائم اکثر سرخیوں میں رہتے ہیں۔ اس بار شرپسندوں نے ایک حیران کن ’کارنامہ‘ انجام دیا

بھارتی ریاست بہار میں چور چند دنوں قبل ایک موبائل ٹاور اور گزشتہ ماہ کے اوائل میں ریل کا ایک انجن اور اس سے قبل ایک پل پر اپنا ہاتھ صاف کر چکے ہیں

لیکن اس بار تو حد ہی ہو گئی؟ کیا آپ نے کبھی پوری سڑک کے چوری ہونے کے بارے میں سنا ہے؟ بہار کے بنکا ضلع کے راجون بلاک کے کھروونی گاؤں میں چوری کی ایک عجیب و غریب واردات نے گاؤں والوں اور آس پاس کے رہنے والوں کو ششدر کر دیا ہے

یہ واقعہ بانکا ضلع میں راجون بلاک کے کھرونی گاؤں میں پیش آیا۔ گاؤں کے لوگ گزشتہ روز جب صبح کو اپنے گھروں سے باہر نکلے تو یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے کہ گاؤں سے ہو کر گزرنے والی تقریباً دو کلومیٹر طویل سڑک کا کوئی پتہ ہی نہیں ہے اور جہاں کبھی سڑک ہوتی تھی وہاں گیہوں کے بیج بو دیے گئے ہیں

خواب تو نیند میں دیکھے جاتے ہیں، لیکن یہ منظر دیکھ کر گاؤں والوں کو لگا کہ وہ نیند سے اٹھنے کے بعد صبح سویرے کوئی خواب دیکھ رہے ہیں۔۔ مگر انہیں اس حقیقت کا ادراک کرنے میں دیر نہیں لگی کہ کھرونی گاؤں کو خادم پور گاوں سے جوڑنے والی سڑک تو واقعی میں ’چوری‘ ہو چکی ہے

میڈیا رپورٹوں کے مطابق کھیرونی گاؤں کے مبینہ چوروں نے کولتار سے بنی پختہ سڑک کو پہلے اکھاڑ دیا اور پھر اس پر ٹریکٹر چلا کر اس پر اور اس کے اطراف کے کھیتوں میں گیہوں بو دیے۔ جب خادم پور گاؤں کے لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تو مبینہ ’چور‘ مرنے مارنے پر اتر آئے

اس واقعے کے بعد گاؤں اور آس پاس کے علاقے کے لوگوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے، کیونکہ انہیں نقل و حمل میں کافی پریشانی پیش آرہی ہے۔ لوگوں کو مین روڈ تک پہنچنے کے لیے پگڈنڈیوں کے راستے پیدل ہی جانا پڑ رہا ہے

ناراض لوگوں نے متعلقہ سرکاری حکام سے اس کی شکایت کی ہے۔ جنہوں نے صورتحال کا جائزہ لینے اور قصورواروں کے خلاف مناسب کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے

معاملہ درحقیقت ہے کیا؟

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ڈی ڈبلیو کے نمائندے منیش کمار کے مطابق ”یہ باہمی تنازع کا معاملہ ہے اور بہار میں سڑک کی ’چوری‘ کے ایسے واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں“

منیش کمار کا کہنا تھا کہ دراصل کسانوں نے سڑک تعمیر کرنے کے لیے حکومت کو زمین دی تھی۔ لیکن انہیں حسب وعدہ اس کا معاوضہ نہیں ملا، جو کہ ایک عام بات ہے، اسی لیے ناراض کسانوں نے سڑک اکھاڑ دی اور اس پر گیہوں بو دیے

اس طرح کی ’چوری‘ کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گزشتہ ماہ کے اواخر میں پٹنہ کے قریب ایک موبائل ٹاور چوری ہو جانے کی خبر میڈیا کی زینت بنی تھی۔ اس سے قبل مظفر پور ضلع میں ‘چوروں’ نے ریل کا ایک انجن چرا لیا تھا، جبکہ اس سے پہلے روہتاس ضلع میں چور لوہے کا پورا ایک پل چرا کر لے گئے تھے

منیش کمار بتاتے ہیں کہ پٹنہ کے نواحی علاقے گردنی باغ میں پچاس میٹر اونچے موبائل ٹاور کی چوری کی حقیقت یہ ہے کہ اروند سنگھ نامی شخص نے موبائل فون سروس فراہم کرنے والی ایک کمپنی کو ٹاور لگانے کے لیے اپنی زمین کرائے پر دی تھی، لیکن کمپنی نے کرایہ ادا کرنا بند کر دیا تھا۔ جس کے بعد اروند سنگھ نے کمپنی سے کرایہ ادا کرنے یا ٹاور ہٹا لینے کے لیے کہا تھا

منیش کمار کے مطابق موبائل ٹاور کو کسی نے چرایا نہیں تھا بلکہ کمپنی کے کارکنان خود ہی اسے اکھاڑ کر لے گئے لیکن سوشل میڈیا پر اس واقعے کو ’چوری‘ کے تاثر کے ساتھ پیش کیا گیا۔

منیش کے بقول، اس طرح کی چوری ممکن ہی نہیں ہے۔ اور اس طرح کے تمام معاملات تنازع یا بدعنوانی کے ہیں

نومبر کے اوائل میں مظفر پور ضلع میں ریلوے یارڈ میں کھڑی ایک ریل انجن کے چوری ہوجانے کی خبروں نے لوگوں کو حیرت زدہ کر دیا تھا

اس حوالے سے منیش کمار نے بتایا کہ دراصل ریل کا انجن برسوں سے بیکار پڑا ہوا تھا۔ ریلوے کے انجینئروں نے ایک مقامی اسکریپ ڈیلر سے ملی بھگت کر کے اس کے ایک ایک حصے کو ٹھکانے لگا دیا۔ اس معاملے میں اصل ملزم اسکریپ ڈیلر نے بعد میں خود کو عدالت کے حوالے کر دیا

رواں برس کے اوائل میں روہتاس ضلع میں محکمہ آبپاشی کے زیر انتظام لوہے کے ایک پل کو ہی چور اٹھا کر لے گئے۔ میڈیا میں شائع تفصیلات کے مطابق چوروں نے خود کو محکمہ کا اہلکار ظاہر کیا تھا۔ وہ لوہا کاٹنے کی مشینیں اور ٹرک بھی اپنے ساتھ لے کر آئے تھے اور پل کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر پورے اطمینان کے ساتھ لے کر چلتے بنے

منیش کمار کے مطابق مذکورہ پل بہت پرانا تھا اور ٹوٹ پھوٹ گیا تھا اور لوگوں کے زیر استعمال نہیں تھا۔ محکمے کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے اس کی ’چوری کرا دی گئی‘

منیش کمار کہتے ہیں کہ مقامی انتظامیہ اور متعلقہ سرکاری ملازمین کی ملی بھگت کے بغیر اس طرح کی چوری ممکن ہی نہیں۔ لیکن جب تک بدعنوانی رہے گی چوری کا یہ کھیل جاری رہے گا۔

Tags:

CorruptionIndiaRailway
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پروین رحمٰن قتل کیس: سندھ حکومت کا ملزمان کو رہا نہ کرنے کا فیصلہ

Next

ایچ آئی وی ایڈز: پاکستان ’کم سے کم پھیلاؤ‘ کے لیول سے ’مرتکز وبا‘ کی سطح پر پہنچ گیا!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme