Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

بھارت کو ہندو ریاست بنانے کا اعلان کیا جائے، سنتوں کا مطالبہ

By Akhtar Rasool
جنوری 31, 2022 3 Min Read
0

اتر پردیش – ہندو مذہبی رہنماؤں نے عام ہندوؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ دانستہ طور پر بھارت کو ”ہندو راشٹر“ (ہندو ریاست) یعنی ہندو ریاست لکھنا اور کہنا شروع کر دیں، تاکہ حکومت کو یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہو کیا جائے

ان سنتوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ہندوؤں کا ‘احترام’ نہ کرنے والے مسلمانوں کو پاکستان بھیج دینا چاہیے

تفصیلات کے مطابق دسمبر میں ہردوار میں منعقد ہونے والے متنازعہ دھرم سنسد (مذہبی اجتماع) کے بعد ہفتے کے روز اترپردیش کے مذہبی شہر پریاگ راج (سابقہ الہ آباد) میں دوسرا دھرم سنسد منعقد ہوا، جس میں پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ اشتعال انگیز تقریریں کی گئیں۔ اس اجلاس میں ہندوؤں کے مذہبی لحاظ سے انتہائی محترم سمجھے جانے والے متعدد ‘مہامنڈلیشوروں‘ سمیت تقریباً چار سو سرکردہ سنت شریک ہوئے

یاد رہے اس سے قبل منعقدہ ہردوار دھرم سنسد میں مسلمانوں کی نسل کشی سمیت متعدد متنازعہ بیانات کی ملک کے اندر اور بیرون ملک سے بھی سخت مذمت کی گئی تھی۔ بھارتی سپریم کورٹ میں بھی اس حوالے سے ایک کیس زیر التوا ہے۔ سپریم کورٹ سے ایسے دھرم سنسد کے انعقاد کی اجازت نہ دینے کی اپیل کی گئی تھی۔ اس لیے منتظمین نے قانونی گرفت سے بچنے کی خاطر دھرم سنسد کے بجائے پریاگ راج (الہ اباد) میں منعقدہ اجلاس کو اس بار ”سنت سمیلن“ کا نام دیا

دریائے گنگا، جمنا اور تصوراتی سرسوتی کے سنگم پر ہندو مذہبی رہنما جگت گرو سوامی نریندرانند سرسوتی کی صدارت میں منعقدہ ”سنت سمیلن“ میں منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ ہو سکتا ہے ملکی حکومت بھارت کو ‘ہندو راشٹر’ کہنے کا اعلان نہ کرے، تاہم تمام ہندوؤں کو بھارت کو ہندو راشٹر لکھنا اور بولنا شروع کردینا چاہیے۔ ”ایسا کرنے سے حکومت خود بخود اس ملک کے ہندو راشٹر ہونے کا اعلان کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔‘‘

ایک دوسری قرارداد میں تبدیلی مذہب کو ملک سے غداری اور ایسا کرنے میں ملوث پائے جانے والوں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ بھی کیا گیا

ہندو مذہبی رہنما پربودھانند نے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو مسلمان ہندوؤں کا ‘احترام’ نہیں کرتے، انہیں پاکستان اور بنگلہ دیش بھیج دینا چاہیے

یاد رہے کہ پربودھانند نے ہردوار کے دھرم سنسد میں بھی انتہائی اشتعال انگیز تقریر کرتے ہوئے ‘مسلمانوں کے مسئلے کے حتمی حل’ کے لیے روہنگیا باشندوں کے قتل عام جیسی کارروائی کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے بھارتی پولیس، فوج اور سیاست دانوں سے مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے متحد ہوجانے کی اپیل بھی کی تھی

سوامی نریندرانند سرسوتی نے ہندوؤں کو دیوی دیوتاؤں سے سبق لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی ہتھیار اٹھا لیں

پریاگ راج دھرم سنسد پر بھی بھارت کے مختلف حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ رکن پارلیمان اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے سنت سمیلن میں اشتعال انگیز تقریروں پر سیکولر جماعتوں کی خاموشی پر حیرت کا اظہار کیا ہے

اسد الدین اویسی نے کہا ”پریاگ راج دھرم سنسد میں دارالعلوم دیوبند اور بریلی کے مدارس کو بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور وہاں موجود لوگوں نے انتہائی ذلت آمیز زبان استعمال کی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ”کیا حکومت اس کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی؟ کیا وزیر اعظم، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کچھ کہیں گے؟ کیا یہ ان کی بزدلی ہے یا انہوں نے کوئی سمجھوتہ کر لیا ہے؟‘‘

ہردوار دھرم سنسد پر ہر طرف سے نکتہ چینی کے بعد حکومت نے چار افراد کو گرفتار کیا تھا۔ پریاگ راج دھرم سنسد میں منظور کردہ ایک قرارداد میں ان تمام افراد کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ ان میں اسلام ترک کر کے ہندو مت اپنا لینے والے وسیم رضوی عرف جتندر تیاگی بھی شامل ہیں

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان افراد کو ”جانباز“ قرار دیتے ہوئے ان کا موازنہ بھارت کی جنگ آزادی کی ایک اہم شخصیت بھگت سنگھ، جو خود کو سوشلسٹ اور ملحد کہتے تھے، سے کرتے ہوئے کہا گیا ہے، ”اگر حکومت ان کی رہائی میں تاخیر کرتی ہے، تو ہم بھگت سنگھ کے کارنامے کو دہرانے کے لیے تیار ہیں۔‘‘

بھگت سنگھ نے سن 1929میں ایک برطانوی قانون کی مخالفت میں دہلی کی مرکزی قانون ساز اسمبلی میں بم پھینک دیا تھا

سنت سمیلن کے شرکاء نے ہندو خواتین سے پانچ پانچ بچے پیدا کرنے کی بھی اپیل کی.

Tags:

Hindu StateHinduismIndia
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

”بلا سود قرضہ“ لوگ حکومت کے سستے قرضے لے نہیں رہے یا لے نہیں پا رہے؟

Next

پاکستان میں کاشت کاری کی ڈجیٹلائیزیشن اور اسٹارٹ اپ منصوبے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme