Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

بھیانک سمندری طوفان ساری دنیا میں تباہی مچا سکتے ہیں، ماہرین

By Akhtar Rasool
جنوری 8, 2022 2 Min Read
0

کنیکٹیکٹ – ریسرچ جرنل ’نیچر جیوسائنس‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں ماحولیاتی ماہرین کی ایک عالمی ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صدی میں نہ صرف شدید سمندری طوفانوں (ہریکین اور ٹائیفون) کی سالانہ تعداد اور شدت میں اضافہ ہوگا، بلکہ وہ دنیا کے بیشتر علاقوں تک پہنچ کر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائیں گے

ماہرین نے اس تحقیق میں زمین کے کروڑوں سال قدیم ماحولیاتی ماضی کے بارے میں دستیاب معلومات، جدید موسمیاتی ڈیٹا اور ماڈلز استعمال کرتے ہوئے موجودہ صدی میں طوفانوں کے امکانات کا جائزہ لیا ہے

تجزیئے سے جہاں ایک بار پھر یہ ثابت ہوا کہ حالیہ ماحولیاتی تبدیلیوں میں واقعی انسانی سرگرمیوں کا سب سے بڑا کردار ہے، وہیں یہ خوفناک انکشاف بھی ہوا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمندری طوفانوں کی سالانہ تعداد اور شدت میں بھی بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے

اس کے علاوہ، ایک اور اہم بات یہ بھی سامنے آئی کہ ماضی میں زیادہ تر سمندری طوفان (ہریکین/ ٹائیفون) خطِ استوا اور اس کے نزدیک سمندری علاقوں میں آتے رہے ہیں، لیکن اب یہ آہستہ آہستہ شمال اور جنوب کی سمت بھی بڑھنے لگے ہیں

ساحل سے ٹکرانے کے بعد یہ طوفان خشکی پر سیکڑوں کلومیٹر فاصلہ طے کرکے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں، جبکہ ماضی میں وہ خشکی پر بہت کم اتنا آگے تک بڑھ پاتے تھے

خدشہ ہے کہ مستقبل کے سمندری طوفان شمال کی سمت میں بھی زیادہ بنیں گے جن سے نیویارک، بوسٹن، بیجنگ اور ٹوکیو سمیت ان شہروں کو بھی خطرہ لاحق ہوگا جہاں فی الحال سمندری طوفان خاصے کم آتے ہیں

خطِ استوا کے علاوہ، سمندری طوفانوں کا شمالاً جنوباً بڑھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ شدید گرمی اب صرف خطِ استوا یا اس کے قریبی علاقوں تک محدود نہیں رہی ہے بلکہ ان مقامات تک بھی پہنچ رہی ہے جو خطِ استوا سے دور (شمال یا جنوب کی سمت میں) واقع ہیں اور ’’ٹھنڈے علاقے‘‘ تصور کیے جاتے ہیں

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسے طوفانوں کی ابتداء ہوچکی ہے: پرتگال کی سرزمین پر تباہی پھیلانے والا سمندری طوفان ’الفا‘ اور امریکی ریاست کنکٹیکٹ تک پہنچنے والا ’ہنری‘ سمندری طوفان، دونوں ہی خطِ استوا سے بہت دوری پر بنے تھے

ان طوفانوں کی آمد ظاہر کرتی ہے کہ ماہرین جس ممکنہ تباہی کا خدشہ ظاہر کررہے ہیں، اس کا آغاز ہو چکا ہے.

Tags:

EnvironmentGlobal warmingHurricaneoceanic stormTyphoonٹائیفون
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

یوریا کھاد کے بحران نے حکومت کی اہلیت کی قلعی کھول دی

Next

”میرا نام کووڈ ہے اور میں وائرس نہیں ہوں“ وبائی مرض کے ‘ہم نام’ کی زندگی کیسے بدلی؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme