Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

تنزانیہ کے کھوجی چوہے، جو بہت جلد سونگھنے والے کتوں کی طرح ایئرپورٹس پر ہو سکتے ہیں!

By Akhtar Rasool
اپریل 20, 2023 4 Min Read
0

دنیا بھر میں چوہوں کو بیماریاں پھیلانے اور اشیا کو کتر کر نقصان کرنے کی وجہ سے ناپسند کیا جاتا ہے۔ امریکہ کے شہر نیویارک میں تو خاص طور پر چوہوں کی بہتات کو ایک چیلنج سمجھا جاتا ہے اور اس بار ان کا صفایا کرنے کے لیے باقاعدہ ایک عہدے دار کا تقرر کیا گیا ہے

لیکن امریکہ ہی کی ایک ریاست کیلی فورنیا کے سین ڈیاگو چڑیا گھر میں تنزانیہ سے ’چوہوں کے سفیر‘ لائے گئے ہیں، جو اپنے ہم نسل حیوانات کی ’گرتی ہوئی ساکھ کو بہتر کرنے‘ کی کوشش کریں گے

عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کے تین چڑیا گھروں کو تنزانیہ میں قائم ایک تنظیم نے یہ چوہے فراہم کیے ہیں۔ یہ تنظیم افریقہ سے تعلق رکھنے والے ان بڑے چوہوں کو جنگلی حیات کی اسمگلنگ اور بیماریوں کی تشخیص کے لیے تربیت دیتی ہے

تنزانیہ سے لائے گئے یہ افریقی چوہے عام طور پر شہروں یا انسانی آبادیوں میں پائے جانے والے بھورے چوہوں سے جسامت میں دگنے ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ ان چوہوں کو انگولا، موزمبیق اور کمبوڈیا میں بارودی سرنگوں کا پتا لگانے کے لیے استعمال کیا جا چکا ہے اور ان کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے انہیں ’ہیرو ریٹ‘ (سورما چوہے) کہا جاتا ہے

ان چوہوں کو ان کی سونگھنے کی تیز حس کی وجہ سے ملبے تلے دبے افراد کو تلاش کرنے، بیماریوں کی تشخیص اور بندرگاہوں اور ایئر پورٹس پر غیر قانونی اشیا کی نقل و حرکت روکنے جیسے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں

ایسے چھ افریقی چوہے تنزانیہ کی بندر گارہ پر ایک ماہ کی آزمائش پوری کر چکے ہیں، جس میں انہیں اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ ان چوہوں کو ممنوعہ اشیا کی نشان دہی کی تربیت بھی دی گئی تھی۔بندر گاہ پر انہیں خاص طور پر تنزانیہ سے پنگولین کی اسمگلنگ روکنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے

معدومی کے خطرے سے دوچار پنگولین کے جسم پر پائے جانے والے چھلکے چین کی روایتی ادویہ میں استعمال ہوتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے زیادہ اسمگل ہونے والا جانور ہے، جب کہ ویتنام میں اس کا گوشت کھانے کو خاص تصور کیا جاتا ہے

جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم وائلڈ لائف الائنس کا خیال ہے کہ یہ افریقی چوہے جنگلی حیات کی اسمگلنگ کی روک تھام میں انتہائی کار آمد ثابت ہو سکتے ہیں

وائلڈ لائف الائنس کے زیرِ اہتمام قائم سین ڈیاگو چڑیا گھر بھی جنگلی حیات کی بڑھتی ہوئی اسمگلنگ کو اجاگر کرنے کا مشن رکھتا ہے

تنزانیہ میں چوہوں کو تربیت دینے والی ایک تنطیم سے منسلک محقق ازی زوت کا کہنا ہے ”لوگوں کے ذہن میں چوہا ’دشمن نمبر ایک‘ ہے لیکن بنیادی طور پر چوہے صاف ستھرے رہنے والے جانور ہیں البتہ ان کا تاثر بہت خراب ہوچکا ہے“

انہوں نے کہا ”جنگلی حیات سے متعلق ہمیں اپنی ذمے داریاں سمجھتے ہوئے ان سے متعلق نکتۂ نگاہ بدلنا ہوگا، اس کے لیے دنیا کے معروف چڑیا گھروں میں چوہے رکھنے سے ان کے بارے میں عام تصورات کو بدلا جا سکتا ہے“

ازی زوت کے مطابق افریقہ میں چوہوں نے سونگھ کر تقریباً ڈیڑھ لاکھ بارودی سرنگوں کی نشاندہی کی۔ اس کے علاوہ ان چوہوں نے افریقہ میں انسانوں سے حاصل کیے گئے پچیس ہزار نمونوں میں ٹی بی کی تشخیص کی

تنزانیہ میں افریقی چوہوں کو مٹی میں پائی جانے والی آلودگی، زلزلے ، دھماکے یا حادثے کی صورت میں عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کا پتا لگانے کی تربیت دی جارہی ہے

ازی زوت کے مطابق تجرباتی سطح پر یہ چوہے اپنے انسٹرکٹر کو دیے گئے ٹاسک کے مطابق خبردار کرنے میں کام کر رہے ہیں

ان کا کہنا ہے ”بہت جلد ممکن ہے کہ ان چوہوں کو سونگھنے والے کتوں کی طرح بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر دیکھیں گے۔ پھر یہ اخراجات کے اعتبار سے سونگھنے والے کتوں کے مقابلے میں سستے پڑتے ہیں“

ان چوہوں میں کئی دیگر انواع کے جانوروں کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس لیے انہیں ہاتھی دانت اور گینڈے کے سینگھ وغیرہ کی نشان دہی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے

دشوار گزار مقامات پر کسی انسان کے پھنسے ہونے کی نشاندہی کرنے کے لیے چوہوں کو ایک پٹہ پہنایا جائے گا، جس کے ذریعے وہ کسی شخص کے ملبے پر باہر موجود افراد کو مطلع کر سکیں گے

ازی زوت کا کہنا ہے کہ نیویارک سٹی میں پائے جانے والے عام بھورے چوہوں میں بھی یہی صلاحیت پائی جاتی ہے، لیکن ان کی عمر کم ہونے کی وجہ سے انہیں تربیت نہیں دی جا سکتی۔ افریقی چوہوں کی اوسط عمر لگ بھگ دس سال ہوتی ہے، جب کہ عام چھوٹے چوہے چند ہی سال جیتے ہیں۔

Tags:

(hz) tanzania ratsafrican giantafrican giant pouched ratsgiant pouch ratgiant pouched ratsgiant ratgiant rat bomb sniffinggiant ratsgiant rats sniffing out landmineslandmine ratslandmines in tanzanianigerian bush meatrat animationRatsratts of the capitalsniffer ratstanzaniatanzania parliament buildingtanzania search and rescue ratstanzania sgr vs kenya sgrtanzania tribestanzania vs kenyatanzaniantanzanietraining rats
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

انٹرپول: لاطینی امریکہ میں تاریخ کی بڑی پکڑ، مالیت اربوں ڈالر!!

Next

ماحول دوست جدید ٹیکنالوجی، ’ٹرانسپیرنٹ سولر پینل‘ کیا ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme