Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

جرمنی میں ’بغاوت کی سازش‘ ناکام، درجنوں گرفتاریاں

By Akhtar Rasool
دسمبر 8, 2022 4 Min Read
0

جرمنی میں پولیس نے حکومت کا تختہ الٹنے کی مبینہ سازش کے الزام میں ایک خود ساختہ شہزادے، ریٹائرڈ فوجی اور ایک سابق جج سمیت انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد کو گرفتار کیا ہے

تاہم امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق یہ واضح نہیں ہوا کہ حکومت کا تختہ الٹنے کا یہ مبینہ منصوبہ کتنا ٹھوس تھا

جرمن پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والے کارکن ایک مقامی شدت گرد تنظیم کےاراکین یا حامی ہیں، جو جرمن ریاست کا تختہ الٹنے اور اس کے قوانین و ضوابط تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں

واضح رہے کہ جرمنی دائیں بازو کے گروپوں کے کسی بھی خطرے کو سنجیدگی سے لیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس سازش کا پتہ چلنے کے بعد ہزاروں پولیس اہلکاروں نے ملک کے بیشتر حصوں میں بدھ کی شب چھاپے مارے

جرمن وزیر انصاف مارکو بوش من کا کہنا تھا ”تحقیقات کی ہدایات دراصل ایک مشتبہ دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف کی گئی جس کا تعلق Reichsbürger موومنٹ یا ’رائش سیٹیزنز موومنٹ‘ سے ہے۔ مارکو بوش من نے بتایا چھاپے ایسے افراد کے خلاف مارے گئے، جن پر ریاستی اداروں پر مسلح حملے کی منصوبہ بندی کا شبہ ہے

مارکو بوش من کے بقول ”یہ شبہ پایا جاتا ہے کہ آئینی اداروں پر مسلح حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی‘‘

چیف فیڈرل پراسیکیوٹر پیٹر فرینک نے صحافیوں کو بتایا ”اس گروپ نے حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ملک کا چارج سنبھالنے کے لیے ایک ’کونسل‘ کا قیام کر لیا تھا اور ساتھ ہی عسکری تنظیم بھی، جس نے ایک نئی جرمن فوج تیار کرنا تھی“

فرینک نے کہا ”اس دہشت گرد تنظیم کے کچھ ارکان نے جرمن پارلیمنٹ میں داخل ہونے کے لیے طاقت کے استعمال پر بھی غور کیا“

بعد میں انہوں نے اے آر ڈی براڈکاسٹر کو بتایا ”گروپ کی تیاریاں پہلے ہی ایک اہم مرحلے میں تھیں حالانکہ بغاوت کی کوئی حتمی تاریخ طے نہیں کی گئی تھی“

اے ایف پی کے مطابق تقریباً تین ہزار سکیورٹی افسران، جن میں ایلیٹ اینٹی ٹیرر یونٹس بھی شامل تھے، نے چھاپوں میں حصہ لیا اور ایک سو تیس سے زائد مقامات کی تلاشی لی۔ جرمن میڈیا نے اسے انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے خلاف ملک کی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی پولیس کارروائیوں میں سے ایک قرار دیا ہے

وفاقی استغاثہ نے کہا کہ اس گروپ پر الزام ہے کہ وہ ’سازشی نظریات‘ پر یقین رکھتا ہے، جس میں نام نہاد ’رائخ شہری تحریک‘ (ریچس بورگیو) کے بیانیے کے ساتھ ساتھ امریکہ کا سیاسی ’کیو اے نان‘ سازشی نظریہ بھی شامل ہے

استغاثہ کے حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کا تعلق نومبر 2021ع کے آخر میں قائم ہونے والی ایک دہشت گرد تنظیم سے ہے، جس نے خود کو جرمنی کے موجودہ ریاستی نظام سے انحراف کرتے ہوئے اس پر قابو پانے اور اس کی جگہ ریاست کی اپنی شکل دینے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس پورے منصوبے کا خاکہ پہلے ہی تیار کیا جا چکا ہے۔جرمنی کی قومی انٹیلیجنس ایجنسی کا اندازہ ہے کہ اس تحریک کے تقریباً اکیس ہزار پیروکار ہیں

گرفتار کیے گئے 25 مردوں اور عورتوں میں سے 24 کا تعلق جرمنی سے ہے اور ایک مشتبہ حامی کا تعلق روس سے ہے۔ اس سلسلے میں ایک گرفتاری آسٹریا اور ایک اٹلی میں بھی عمل میں آئی ہے۔ وفاقی پراسیکیوٹر کے دفتر نے بتایا کہ ان کی نگاہ 27 دیگر مشتبہ افراد پر بھی ہے

دوسری جانب حکومت کی اتحادی گرین پارٹی کی قانون ساز سارہ نینی کا ماننا ہے کہ یہ گروپ بغاوت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا

نینی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک پوسٹ میں کہا ”مزید تفصیلات سامنے آ رہی ہیں جو اس بارے میں شکوک پیدا کرتی ہیں کہ آیا یہ لوگ اتنے ہوشیار تھے کہ اس طرح کی بغاوت کی منصوبہ بندی اور اسے انجام دے سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ان کے خیالات کتنے ہی غیر پختہ ہوں اور ان کے منصوبے کتنے ہی نا امیدی پر مبنی ہوں لیکن یہ کوشش بھی خطرناک ہے“

جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق رائش سیٹیزنز موومنٹ بہت سی چھوٹی تنظیموں اور افراد پر مشتمل ہے، خاص طور پر جرمن ریاست برانڈنبرگ، میکلنبُرگ-ویسٹرن پومیرینیا اور باویریا میں۔ اس تحریک کے اراکین اور حامی نہ تو وفاقی جمہوریہ جرمنی اور نہ ہی اس کے کسی سرکاری حکام اور اداروں کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان افراد کا استدلال ہے کہ دوسری عالمی جنگ سے پہلے کےجرمن آئین کو کبھی مکمل طور پر کالعدم قرار نہیں دیا گیا تھا نہ ہی اسے منسوخ یا مسترد کیا گیا تھا، اس لیے 1949 ء میں مغربی جرمنی کی تشکیل اور اب دوبارہ متحد جرمنی کی قانونی حیثیت درست نہیں ہے

یعنی رائش سیٹیزنز موومنٹ سے وابستہ تمام افراد وفاقی جمہوریہ جرمنی کی موجودہ قانونی حیثیت کو چیلنج کرتے ہیں

واضح رہے کہ Drittes Reich کی اصطلاح تاریخ میں جرمن نیشنل سوشلسٹوں کے دور کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ 1920ء کے عشرے میں قومی تحریک چلانے والے اور نازی سوشلسٹوں نے اسے اپنے سیاسی پروپگینڈا کے لیے بطور قومیت پرستی بھی استعمال کیا۔ یہ دور ہٹلر کا نازی دور تھا اس لیے دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد اس اصطلاح کو انتہای تنقید کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا اور اسے ترک کر دیا گیا۔

Tags:

arrestsGermanyrebellion
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بلوچستان کے سیاسی حلقوں میں ہلچل: اسلم رئیسانی کی جے یو آئی میں شمولیت اور قومپرست جماعتوں کی حکمت عملی

Next

موقع ملنے پر کتنے فیصد پاکستانی بیرون ملک رہنا پسند کریں گے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme