Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

’جیسا کرو گے ویسا بھرو گے‘، ہر بار یہ بات ٹھیک نہیں ہوتی

By Akhtar Rasool
اپریل 19, 2023 4 Min Read
0

’جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے‘ دنیا کی ہر زبان میں موجود ہونے کے باوجود، یہ بات بالکل غلط ہے

تاریخ اٹھا کے دیکھ لیں۔۔ دنیا میں اکثر معاملے بے نتیجہ رہ جاتے ہیں!

بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ جس نے ’جیسا‘ کیا ہو، اس نے ’ویسا‘ ہی بھگت بھی لیا ہو۔ فرض کیا ہزار میں سے ایک بار ایسا ہو بھی جائے تو نوٹ کیجیے گا کہ عمل بہت زیادہ شدید تھا اور جو آپ کہتے ہیں کہ ’نتیجہ بھگتنا پڑا‘ وہ مقابلتاً بہت ہی کم تھا

ہٹلر نے لاکھوں بندے مارے دوسری عالمی جنگ میں، خود اپنے آپ کو شوٹ کر کے اس نے خود کشی کر لی، تو وہ ’جیسی کرنی ویسی بھرنی‘ کہاں گئی؟

کچھ افواہیں یہ بھی پھیلیں کہ ہٹلر غائب ہو گیا یا زہر کھا کے مرام۔ جیسے بھی مرا ہو، لاکھوں لوگوں کا قتل جن میں مرد، عورتیں، معذور، بوڑھے، بیمار، جنگی قیدی، یہودی، سرب، جرمن، چیک، اطالوی، فرانسیسی، یوکرینی اور ہزاروں بچے شامل تھے، کیا ان سب کی اذیت ناک ہلاکتوں کا بدلہ واحد ہٹلر کی موت ہو سکتی ہے؟

لاکھوں لوگ۔۔ یہ ایک ایسا لفظ ہے، جس میں پوری کائنات بند ہے۔ کہنے میں آپ ایک دم بے درد ہو کے اسے بول سکتے ہیں۔ سوچنے بیٹھا جائے تو ہر مرنے والے کی الگ کہانی ہوگی، الگ خواب ہوں گے، الگ اذیت ہوگی اور پھر پیچھے رہ جانے والوں کی زندگیاں ہوں گی۔ کیا ان سب کی مجموعی اذیتوں کو صرف ایک بندے کی موت پورا کر سکتی ہے؟

سوچیں، یہاں ’جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے‘ کا سین کدھر گیا؟

سرل جان ریڈکلف نے پاکستان اور انڈیا میں تقسیم کی لکیر کھینچنا تھی۔ ایک ایسا آدمی، جس نے زندگی میں کبھی ادھر کا رخ نہیں کیا تھا، اسے یہاں بھیجا گیا۔۔ وہ آیا، اس نے لکیریں کھینچیں اور نکل گیا۔۔ ایک کروڑ چالیس لاکھ لوگ اس نئے نویلے ’بارڈر‘ کے بعد ’غلط ملک‘ میں تھے۔ لاتعداد بے قصور انسان اِدھر سے اُدھر آنے جانے کے چکر میں کٹ گئے، مر گئے۔۔

ریڈکلف بعد میں برطانیہ واپس چلے گئے۔ مختلف اداروں کی صدارت کی، حکومتی اعزازت سمیٹے، نوابی زندگی گزاری، لیکچر دیے، کتابیں لکھیں اور 1977 میں اطمینان سے مر گئے۔۔ 1947ع کے بعد تیس سال وہ زندہ رہے، ’جیسی کرنی‘ کے مطابق ان کے ساتھ بھی کوئی ’ویسی بھرنی‘ نہیں ہوئی، ہو بھی نہیں سکتی تھی

یہ بڑی مثالیں تھیں۔ ان میں کئی اور لوگ شامل کیے جا سکتے ہیں

کسی شخص کا عہدہ جتنا بڑا ہوگا، فیصلے اتنے ہی اہم ہوں گے اور ان کے اثرات بھی اسی طرح لاکھوں لوگوں پہ ہوں گے

تاریخ میں کسی کا نام سنہرے حرفوں سے لکھا جائے یا اسے گالیاں دی جائیں، اسے خاک کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔ نہ اسے ’بھگتنا‘ پڑتا ہے۔ جو مر گیا، اسے کیا پتہ کہ پچاس سال بعد کون اسے کیسے یاد کر رہا ہے؟ صرف اتنا ہے کہ وہ بندہ اس وقت اپنی زندگی میں خود تاریخ بنا رہا ہوتا ہے اور اسے اگر کسی چیز کی پروا ہوتی ہے تو وہ جیت۔۔ فتح یا طاقت ہوتی ہے، جسے اس نے ہر حال میں اپنی موت تک قائم دائم رکھنا ہوتا ہے

اگر آپ ہٹلر یا ریڈکلف والے معاملے میں کہتے ہیں کہ ’جنگ اور محبت میں سب جائز ہوتا ہے‘ تو یہ ایک اور بھیانک قسم کی مثال ہے

جنگ اور محبت میں سب جائز ہوتا تو لوگ کبھی شادی کرتے اور نہ ہی اس دنیا میں گوانتاناموبے کا وجود ہوتا!

تو کیا جیسی کرنی ویسی بھرنی والا ’کائناتی اصول‘ صرف ہم جیسے غریبوں کے لیے ہے؟ وہ لوگ، جن کے فیصلوں سے متاثر ہونے والے نسبتاً کم ہوتے ہیں؟

اس محدود ترین دائرے میں بھی دیکھ لیں۔ آپ کے سامنے کوئی آدمی ساری زندگی دوسروں کی گردنوں پہ پیر رکھ کے اوپر چڑھے گا، ٹھیک یا غلط، ہر طریقے سے اپنا راستہ بنائے گا، کسی کو کچلے گا، کسی کو نقصان پہنچائے گا، جس پہ مہربان ہوگا اسے صرف دھکا دے دے گا، کامیاب ترین ہو کے ریٹائر ہوگا اور باقی زندگی سکون سے گزار کے مر جائے گا۔ اسے بھی اپنے ’کیے‘ کا کوئی واضح نتیجہ نہیں بھگتنا پڑا

ہوتا صرف ایسا ہے کہ زندگی میں چند بڑے لوگ اگر اپنی کسی غلطی سے رگڑے میں آ جاتے ہیں تو ان کے ماضی سے ایسے کئی ’عبرتناک‘ واقعات انہی کے جاننے والے ڈھونڈ ڈھانڈ کے نکال لیتے ہیں اور اس محاورے کی کسوٹی پہ چڑھا کر آپ کو بتاتے ہیں کہ دیکھیں فلاں نے برا کیا تھا تو اس کے ساتھ آخر برا ہی ہوا

آپ خود سوچیں، اپنی معلوم تاریخ میں کسی سفاک، ظالم یا چالاک آدمی کے ساتھ اس کے غلط کاموں کے حساب سے، اس کی زندگی میں کتنا ہی برا ہوا ہے آج تک؟

بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

hasnain jamalhasnain jamal independent urduHassnain Jamalhusnain jamalhusnain jamal 125husnain jamal bookhusnain jamal columnshusnain jamal darhi walahusnain jamal exclusivehusnain jamal interviewhusnain jamal latest interviewhusnain jamal new bookhusnain jamal podcasthusnain jamal with sukhan livemohammad hasnain ameeni naatqari jamal hasnainqari jamal hasnain multanreality of darhi wala by husnain jamalsukhan live with husnain jamal
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

یہ چیٹ جی پی ٹی کیا بلا ہے؟

Next

ایک تھا بادشاہ (ترک ادب سے منتخب افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme