Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

جے یو آئی نے ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺷﯿﺮﺍﻧﯽ، ﺣﺎﻓﻆ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﺣﻤﺪ، ﻣﻮﻻﻧﺎ ﮔﻞ ﻧﺼﯿﺐ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺷﺠﺎﻉ ﺍﻟﻤﻠﮏ کو پارٹی سے خارج کر دیا

By Akhtar Rasool
دسمبر 25, 2020 3 Min Read
0

جمعیت علماء اسلام کی پارٹی ڈسپلنری کمیٹی نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے والے چار اراکین کی بنیادی رکنیت ختم کر دی اور انہیں پارٹی سے نکال دیا ہے

تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں مولانا فضل الرحمان کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے والے جے یو آئی کے ﺳﻨﯿﺌﺮ ﺭﮨﻨﻤﺎﺅﮞ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺧﺎﻥ ﺷﯿﺮﺍﻧﯽ، ﺣﺎﻓﻆ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﺣﻤﺪ، ﻣﻮﻻﻧﺎ ﮔﻞ ﻧﺼﯿﺐ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺷﺠﺎﻉ ﺍﻟﻤﻠﮏ  کو ﺟﻤﻌﯿﺖ ﻋﻠﻤﺎﺋﮯ ﺍﺳﻼﻡ ‏(ﻑ) ﻧﮯ ﭘﺎﻟﯿﺴﯽ ﺳﮯ ﺍﻧﺤﺮﺍﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺭﭨﯽ سے خارج کر دیا ہے اور ان کی  ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺭﮐﻨﯿﺖ ﺧﺘﻢ کر دی ﮔﺌﯽ ﮨﮯ

ﺫﺭﺍﺋﻊ کا کہنا ہے کہ ﭼﺎﺭﻭﮞ سینئر ﺭﮨﻨﻤﺎﺅﮞ ﭘﺮ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮈﺳﭙﻠﻦ ﮐﯽ ﺧﻼﻑ ﻭﺭﺯﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻋﺎﺋﺪ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ، ﺗﺎﮨﻢ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ﺭﮐﻨﯿﺖ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﻥ ﺭﮨﻨﻤﺎﺅﮞ ﮐﻮ ﺷﻮﮐﺎﺯ ﻧﻮﭨﺲ بھی ﺟﺎﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ کیے ﮔﺌﮯ
‏
ﺟﮯ ﯾﻮ ﺁﺋﯽ (ف) ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺟﺎﺭﯼ ﺍﻋﻼﻣﯿﮧ ﻣﯿﮟ یہ بھی واضح کر دیا ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﻨﺤﺮﻑ ﺍﺭﺍﮐﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﺭﮐﻨﯿﺖ ﺑﮭﯽ ﺧﺘﻢ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ

واضح ﺭﮨﮯ کہ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺭﻭﺯ ﺟﻤﻌﯿﺖ ﻋﻠﻤﺎﺋﮯ ﺍﺳﻼﻡ ‏(ﺟﮯ ﯾﻮ ﺁﺋﯽ) ﮐﮯ ﺳﯿﻨﺌﺮ ﺭﮨﻨﻤﺎؤں ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺧﺎﻥ ﺷﯿﺮﺍﻧﯽ ﻧﮯ، مولانا گل نصیب ، ﺣﺎﻓﻆ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﺣﻤﺪ اور دیگر نے مولانا فضل الرحمان کو کڑی تنقيد کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جماعت کو اصل مقصد سے ہٹا کر کرپٹ عناصر کے مفاد میں استعمال کر رہے ہیں

عرصۂ دراز سے ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺟﻤﺎﻋﺘﻮﮞ کے سیاسی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے ﺳﻨﯿﺌﺮ ﺻﺤﺎﻓﯽ  ﻣﯿﺎﮞ ﻣﺤﻤﺪ ﻧﺪﯾﻢ  کا ﺟﮯ ﯾﻮﺁﺋﯽ ‏(ﻑ) ﮐﮯ ﺫﺭﺍﺋﻊ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ کہنا ہے ﮐﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺭﮐﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻗﺮﺑﺎ ﭘﺮﻭﺭﯼ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺟﻤﻌﯿﺖ ﻋﻠﻤﺎئے ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﺎﻓﯽ ﻋﺮﺻﮯ ﺳﮯ ﮐﺸﻤﮑﺶ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﻓﻆ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﺣﻤﺪ ﺟﯿﺴﮯ ﺳﻨﯿﺌﺮ ﻟﯿﮉﺭ ﺳﻤﯿﺖ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﮯ ﺍﮨﻢ ﺭﮨﻨﻤﺎ ﮔﻮﺷﮧ ﻧﺸﯿﻨﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ اور ﺟﻤﻌﯿﺖ ﻋﻠﻤﺎئے ﺍﺳﻼﻡ ﻭﻥ ﻣﯿﻦ ﺷﻮ ﺑﻦ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ

میاں محمد ندیم ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﻣﯿﺮ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ انتخاب ﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺟﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﯽ ﻣﺮﮐﺰﯼ ﻣﺠﻠﺲ شوریٰ ﮐﮯ ﮐﺌﯽ ﺍﺭﺍﮐﯿﻦ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﻮ ﺍﻥ ﺭﮨﻨﻤﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﻧﺎﺭﺍﺿﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺪﻡ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﺗﮭﺎ، لیکن ﭘﺎﺭﭨﯽ ﻗﯿﺎﺩﺕ نے ﺍﺱ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﭘﺮ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎﺅﮞ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻗﺪﺍﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ.

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﺸﺎﻑ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﮯ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺮﮐﺰﯼ ﺭﮨﻨﻤﺎ ، ﺟﻮ ﺭﮐﻦ ﻗﻮﻣﯽ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﻨﯿﭩﺮ بھی ﺭﮦ ﭼﮑﮯ ہیں، طویل ﻋﺮﺻﮯ ﺗﮏ ﻋﻠﯿﻞ ﺭﮨﮯ، لیکن ﭘﺎﺭﭨﯽ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ مزاج پرسی ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ اور  ﻧﮧ ہی ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺍبطہ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ

ﻣﯿﺎﮞ ﻧﺪﯾﻢ کا کہنا ہے کہ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ناراض رہنماؤں کے سامنے ﺩﻭ ﺁﭘﺸﻦ ﮨﯿﮟ کہ یا تو وہ ﺟﻤﻌﯿﺖ ﻋﻠﻤﺎﺋﮯ ﺍﺳﻼﻡ ‏(ﺳﻤﯿﻊ ﺍﻟﺤﻖ) جوائن کریں، ﺟﻮ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺳﻤﯿﻊ ﺍﻟﺤﻖ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﮯ ﻏﯿﺮ ﻓﻌﺎﻝ ﮨﮯ یا پھر ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺁﭘﺸﻦ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﺭﺍﮨﻨﻤﺎ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﯾﮑﻮﺯﯾﺸﻦ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻭﺍ ﮐﺮ ﺍﺟﻼﺱ ﺑﻼﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺳﺐ ﻣﺮﮐﺰﯼ ﻣﺠﻠﺲ شوریٰ ﮐﮯ ﺭﮐﻦ ﮨﯿﮟ، ﺗﺎﮨﻢ ﯾﮧ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻓﻀﻞ ﺍﻟﺮﺣﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﯽ

سینئر تجزیہ نگار میاں ندیم کا ماننا ہے ﮐﮧ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﮐﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺍﻥ ﺭﮨﻨﻤﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﺣﺎﻣﯽ ﮨﮯ، ﺍﮔﺮ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺷﯿﺮﺍﻧﯽ، ﺣﺎﻓﻆ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﮔﻞ ﻧﺼﯿﺐ ﺟﯿﺴﮯ ﺳﻨﯿﺌﺮ ﺭﮨﻨﻤﺎﺅﮞ ﮐﻮ ﯾﮑﻄﺮﻓﮧ ﮐﺎﺭﻭﺍﺋﯽ ﮐﺮﮐﮯ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ اس سے ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﺒﺪﯾﻠﯿﺎﮞ ﺭﻭﻧﻤﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻣﮑﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻤﮑﻨﮧ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺳﮯ استعفیٰ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﮯ ﺳﻨﯿﺌﺮ ﺍﺭﺍﮐﯿﻦ استعفیٰ ﻣﺎﻧﮓ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ

ﻣﯿﺎﮞ ﻧﺪﯾﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺟﮯ ﯾﻮﺁﺋﯽ ‏(ﻑ) ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺍﻗﺪﺍﻡ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﮑﻤﻞ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﮐﮯ ﭘﯽ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺰﻭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺟﮯ ﯾﻮﺁﺋﯽ ‏(ﻑ) ﮐﻮ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

آئی جی سندھ کو اغوا نہیں کیا گیا تھا، مرتضیٰ وہاب

Next

چھ ماہ میں کے الیکٹرک کی چینی کمپنی کو  متوقع

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme