Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

خالصتان حامی امرت پال سنگھ کی بڑھتی مقبولیت سے بھارتی سکیورٹی ادارے اس قدر خائف کیوں ہیں؟

By Akhtar Rasool
فروری 26, 2023 4 Min Read
0

گذشتہ جمعرات کو امرتسر کے نزدیک اجنالہ قصبے کے پولیس اسٹیشن کا تلوار اور لاٹھیوں سے مسلح سکھوں کے ایک ہجوم نے محاصرہ کر لیا۔ وہ لو پریت سنگھ نام کے ایک مبلغ کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے، جنہیں اغوا اور ایذا رسانی کے ایک معاملے میں پولس نے گرفتار کر رکھا تھا

اس ہجوم کی قیادت نوجوان ریڈیکل سکھ رہنما امرت پال سندھو کر رہے تھے۔ جمعے کو پولیس نے لو پریت سنگھ کو بے قصور قرار دیتے ہوئے جیل سے رہا کر دیا۔ اس واقع کے بعد دلی اور بھارتی پنجاب میں پولیس اور خفیہ ادارے چوکس ہیں

امرت پال سنگھ کی مقبولیت پنجاب میں تیزی سے بڑھی ہے، لیکن تازہ واقع کے بعد ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ پولیس اور خفیہ ادارے امرت پال کے بیانات میں خالصتان کے نظریے کی بو محسوس کر رہے ہیں

اطلاعات کے مطابق بھارت کے خفیہ ادارے ان کی سرگرمیوں پر کئی مہینے سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خالصتان حامی نوجوان مبلغ امرت پال کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت پر سکیورٹی اداروں کو تشویش ہے

انتیس سالہ امرت پال سنگھ سندھو دبئی میں اپنے والد کے ساتھ ٹرانسپورٹ کا کاروبار کرتے ہیں۔ پہلی بار وہ اس وقت نظروں میں آئے، جب دو برس قبل نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک چل رہی تھی

وہ اداکار اور سیاسی کارکن دیپ سدھو کی تنظیم ’وارث پنجاب دے‘ سے وابستہ ہو گئے۔ یہ تنظیم پنجابیوں کے حقوق کے لیے ایک پریشر گروپ جیسا تھا۔ اس وقت تک نہ ان کی مونچھ اور داڑھی تھی اور نہ ہی وہ پگڑی باندھتے تھے۔ جب دیپ سدھو کی ایک کار حادثے میں موت ہوئی اور امرت پال سنگھ دبئی سے واپس آئے تو ان کے داڑھی بھی تھی اور پگڑی بھی

انہوں نے اس تنظیم کی صدارت اپنے ہاتھوں میں لی اور خالصتان کے سابق رہنما بھنڈرانوالہ کے گاؤں میں دستار بندی کی تقریب منعقد کی۔ امرت پال نے اس موقع پر بھنڈرانوالہ کے طرز کا لباس پہن رکھا تھا اور ان کے ہزاروں حامی خالصتان کے حق میں نعرے لگا رہے تھے

اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے امرت پال نے کہا تھا ’میں بھنڈرانوالہ سے ترغیب حاصل کرتا ہوں۔ میں ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلوں گا۔ میں ان کی طرح بننا چاہتا ہوں، جو ہر سکھ چاہتا ہے لیکن میں ان کی نقل نہیں کر رہا، میں تو ان کے قدموں کی دھول بھی نہیں ہوں۔‘

انہوں نے اس موقع پر مزید کہا تھا ’ہم اب بھی غلام ہیں۔ ہمارا پانی لوٹا جا رہا ہے، ہمارے گروؤں کی بے حرمتی کی جا رہی ہے۔ پنجاب کے نوجوانوں کو پنتھ (مذہب) کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق اس موقع پر امرت پال سنگھ نے کہا تھا ’سدھو جیسے مذہب کی خدمت کرنے والے لوگ حادثے میں نہیں مرتے۔ ہمیں پتہ ہے کہ ان کی موت کیسے ہوئی اور انھیں کس نے مارا‘

پی ٹی آئی کے مطابق انہوں نے اندرا گاندھی کے قتل کا حوالہ دے کر وزیر داخلہ امت شاہ کو مارنے کی دھمکی دی تھی، لیکن امرت پال نے اس کی واضح الفاظ میں تردید کی ہے کہ انھوں نے کبھی ایسی کوئی دھمکی نہیں دی ہے

امرت پال روانی کے ساتھ پنجابی، انگریزی اور ہندی بولتے ہیں۔ وہ اب بھنڈرانوالے کے طرز کا ہی کپڑا پہنتے ہیں اور ان کے آس پاس کئی مسلح بندوق بردار ہوتے ہیں۔ 29 سالہ خود ساختہ مبلغ جگہ جگہ دستار بندی کی تقریب کرتے ہیں

علاوہ ازیں انہوں نے ریاست میں منشیات کے خلاف مہم بھی چلا رکھی ہے۔ جمعرات کو پولیس اسٹیشن پر یلغار سے پہلے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے امرتپال سنگھ نےکہا کہ ’اگر کوئی ہندو راشٹر قائم کرنے کی بات کر سکتا ہے اور اس کے حق میں نعرے لگا سکتا ہے۔ اگر لوگ کمیونزم سے ترغیب پا کرکمیونسٹ ریاست قائم کر سکتے ہیں، تو پھر ایک پرامن خالصتان کی تمنا کو جرم کیوں قرار دیا جائے‘

خالصتان کے حق میں وہ پہلے بھی اس طرح کا بیان دے چکے ہیں۔ لیکن جمعرات کو اجنالہ میں امرت پال سنگھ کے مسلح حامیوں کا پولیس اسٹیشن پر حملہ اور اس کے بعد لوپریت کے خلاف سارے کیسز کی واپسی اور ان کی رہائی نے امرت پال کا قد بہت بڑھا دیا ہے۔ ان کی مقبولیت اور اہمیت خاصی بڑھ گئی ہے

میڈیا میں سکیورٹی کے ایک اعلیٰ اہلکار کے حوالے سے لکھا گیا ہے ’ابھی وہ نکتہ نہیں آیا جب خطرے کی گھنٹی بجا دی جائے لیکن یہ اچھی علامت کے آثار نہیں ہیں۔ بالکل اسی طرح بھنڈراوالے کا عروج ہوا تھا ۔ ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ گذشتہ مرتبہ کی طرح اسے نہ تو پاکستان کی حمایت حاصل ہے اور نہ ریاست میں انتہا پسندی کی طرف مائل ہونے کا کوئی رحجان نظر آتا ہے۔‘

جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے کہا ہے ’آج ہم آگ سے کھیل رہے ہیں، اسے ہمیں ابتدا میں قابو میں کر لینا چاہیے۔ آج امرت پال کی حمایت زیادہ نہیں ہے لیکن کل یہ صورتحال نہیں ہوگی‘

معروف صحافی ہرتوش سنگھ بل کا بھی یہی کہنا ہے کہ ’پولیس نے امرت پال سنگھ کے اشتعال انگیز بیانات اور ان کے مسلح حامیوں کے خلاف کارروائی نہ کر کے اپنے لیے مستقبل کے حالات پیچیدہ کر لیے ہیں

ایک اہم پہلو یہ ہے کہ پولیس نے امرت پال سنگھ سے ابھی تک ایک بار بھی کسی معاملے میں پوچھ گچھ نہیں کی ہے

پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی حکومت ہے۔ اس کی قومی سیاست میں بڑی تمنائیں ہیں۔ پنجاب میں بھنڈراوالے کی خالصتان تحریک پر گہری نظر رکھنے والی صحافی نیرجا چودھری اپنے کالم میں لکھتی ہیں کہ ’اگر مذہبی کشیدی جاری رہی تو سکھ برادری تقسیم ہو جائے گی اور ہندو زیادہ غیر محفوظ محسوس کریں گے۔ اس کا فائدہ بی جے پی کو ہو گا۔‘

خالصتان تحریک کا خطرہ قومی سطحپر ہندوؤں کو بی جے پی کے پیچھے متحد کر سکتا ہے۔ صورت حال جو بھی ہو، امرت پال سنگھ سندھو کے اچانک غیر معمولی عروج نے امرتسر سے لے کر دلی تک سکیورٹی اداروں اور سیاسی جماعتوں، سبھی کو سرگرم کر دیا ہے۔

Tags:

amrit pal singhamritpal singhamritpal singh interviewamritpal singh khalistanamritpal singh khalsaamritpal singh latest newsamritpal singh liveamritpal singh newsamritpal singh on khalistanamritpal singh speechamritpal singh waris punjab debhai amritpal singhfir on amritpal singhkhalistan amritpal singhkhalistan supporter amritpal singhkhalistani leader amritpal singhwaris punjab de amritpal singhwho is amritpal singh
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

’تاج محل کو منہدم کر دیں‘ نصیر الدین شاہ کے بیان پر نئی بحث چھڑ گئی۔۔

Next

مودی سرکار پر اعلیٰ عدلیہ کے ریٹائر ججز کو نوازنے کے الزامات، معاملہ ہے کیا؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme