Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Space-rocks-began-to-play-dodging-with-the-earth-in-2032-the-chance-of-an-asteroid-hitting-the-earth-doubled
سائنس و ٹیکنالوجیاہم ترینتازہ ترینخبریں

خلا کے پتھر زمین سے آنکھ مچولی کھیلنے لگے، 2032 میں سیارچے کے زمین سے ٹکرانے کا امکان دوگنا بڑھ گیا!

By Akhtar Rasool
فروری 11, 2025 4 Min Read
0

خلائی وسعتوں میں بھٹکتی چٹانوں کی کہانیاں ہمیشہ سے انسانی تخیل کو مہمیز دیتی رہی ہیں، لیکن جب کوئی سیارچہ زمین کے قریب آنے لگے، تو سائنسی برادری کے ساتھ عام لوگ بھی سانسیں تھام لیتے ہیں۔

22 دسمبر 2032 کو زمین کے قریب سے گزرنے والا ایک سیارچہ، جو گذشتہ سال دریافت ہوا اور اسے ’2024 وائی آر‘ کا نام دیا گیا ہے، اب مزید توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس کے زمین سے ٹکرانے کا امکان صرف 1 فیصد تھا، لیکن اب یہ بڑھ کر 2.3 فیصد ہو چکا ہے—یعنی 43 میں سے 1 امکان کہ یہ چٹان زمین سے ٹکرا جائے!

یہ کوئی عام پتھر نہیں، بلکہ 90 میٹر چوڑی خلائی چٹان ہے، جو اگر زمین سے ٹکرا جائے تو ممکنہ طور پر شدید تباہی مچا سکتی ہے۔ لیکن کیا واقعی ہمیں پریشان ہونا چاہیے؟

 خطرے کی گھنٹی یا ایک اور جھوٹا الارم؟

ناسا کے سینٹر فار نیئر ارتھ آبجیکٹ اسٹڈیز (CNEOS) نے اس خطرے کا ازسرِنو جائزہ لیا ہے۔ ماضی میں بھی کئی سیارچے خطرے کی فہرست میں شامل ہوئے، مگر جیسے ہی مزید ڈیٹا ملا، وہ فہرست سے خارج کر دیے گئے۔ ایسا ہی کچھ 2024 وائی آر کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔

سیارچہ 2024 وائی آر پہلی بار گذشتہ سال 27 دسمبرکو دیکھا گیا۔ چند دن بعد وہ دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا جب اسے ناسا کی زمین کے قریب موجود اور ممکنہ طور پر خطرناک سیارچوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا۔

ناسا کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے سیارچے کے مدار کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوں گی، خطرے کی شدت کم ہونے کی توقع ہے۔

اس وقت اس سیارچے کو ٹورینو امپیکٹ ہیزرڈ سکیل پر درجہ 3 دیا گیا ہے۔ یہ اسکیل صفر سے 10 تک خطرے کی شدت ناپتی ہے، جہاں صفر کا مطلب بالکل کوئی خطرہ نہیں اور 10 کا مطلب زمین پر تہذیب کے خاتمے کا امکان ہے۔ اگرچہ درجہ 3 کوئی معمولی بات نہیں، لیکن یہ بھی وہ سطح نہیں، جہاں دنیا کو گھبرا جانا چاہیے۔

تصادم کی شدت کا دار و مدار صرف شہابیے کے حجم پر نہیں بلکہ اس کے مواد کی ساخت پر بھی ہوگا۔ موازنہ کیا جائے تو ڈائنوسارز کے خاتمے کا سبب بننے والے شہابیے کا قطر 10 سے 15 کلومیٹر تھا۔

اس ضمن میں ایک اہم سوال، جو کسی عام آدمی کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے، یہ ہے کہ اگر کوئی سیارچہ واقعی زمین سے ٹکرانے لگے تو کیا ہوگا؟

واضح رہے کہ فی الحال، انسانیت کے پاس ایسے ممکنہ خطرناک سیارچوں سے نمٹنے کے چند منصوبے ضرور موجود ہیں، جن میں:

ایک خلائی جہاز کو سیارچے سے ٹکرا کر اس کا راستہ بدلنے کی کوشش

ایٹمی دھماکوں کے ذریعے سیارچے کو ہٹانے کا منصوبہ

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دنیا واقعی ایسے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے؟ ماہرین کا ماننا ہے کہ نہیں! اگرچہ نظریاتی منصوبے موجود ہیں، مگر عملی طور پر ہم ابھی تک کسی بڑے سیارچے کے حملے کو روکنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

خلا کے کھیل اور انسانی بے بسی

2032 میں زمین کسی قیامت خیز ٹکراؤ سے بچے گی یا نہیں؟ شاید چند ماہ میں اس کا واضح جواب مل جائے۔ مگر یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ ہم خلا میں بے شمار بے ہنگم بھٹکتی چٹانوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ اگرچہ سائنسی ترقی نے ہمیں کہکشاؤں کی وسعتوں تک پہنچنے کی صلاحیت دے دی ہے، مگر ہم ابھی تک اس قابل نہیں ہوئے کہ کسی مہلک سیارچے کو زمین سے ٹکرانے سے یقینی طور پر روک سکیں۔

یہ خلائی چٹانیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ کائنات کے پُراسرار نظام میں ہماری حیثیت محض ایک چھوٹے سے نکتے کی سی ہے، ایک ایسا نکتہ جو خود کو کائنات کا حاکم سمجھتا ہے، مگر ایک بھٹکتے ہوئے پتھر کی ضرب سے مٹی میں مل سکتا ہے۔ زمین پر ہم جنگیں لڑ رہے ہیں، سرحدیں کھینچ رہے ہیں، اور خود کو سب سے برتر سمجھ رہے ہیں، لیکن کہیں اوپر، خلا کی گمنام گہرائیوں میں، ایک بے جان چٹان کسی خاموش فیصلے کی مانند ہماری طرف بڑھ رہی ہے۔

اگر 2024 وائی آر واقعی زمین سے ٹکرا جائے، تو کیا ہم اپنی بے بسی پر حیران ہوں گے یا اپنی نادانی پر ہنسیں گے؟ کیا ہم اس لمحے میں سوچیں گے کہ ہم نے اپنی تمام تر ذہانت اور ٹیکنالوجی کے باوجود قدرت کے سامنے کتنے معمولی ثابت ہوئے؟ یا پھر، یہ محض ایک اور فلکیاتی الارم ہوگا، جو آنے والے وقتوں میں مزید سوالات اور مزید خوف کی لہر دوڑانے کے بعد خاموشی سے گزر جائے گا؟

یہ فیصلہ وقت کرے گا، مگر ایک بات طے ہے: انسانی تہذیب، جتنی بھی ترقی کر لے، آخرکار خلا کے عظیم کھیل کا محض ایک تماشائی ہی رہے گی اور کبھی کبھی، شاید ایک مہرہ بھی!

خلا میں تیرتی چٹانوں کا یہ کھیل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم زمین پر خواہ کتنے ہی طاقتور بن جائیں، کائنات کے سامنے محض ایک نکتہ ہیں۔۔ ایک بے بس، خاموش اور منتظر نکتہ!

Tags:

Asteroid 2024 YRAsteroid DeflectionAsteroid DetectionAsteroid Hazard LevelAsteroid Impact ConsequencesAsteroid Impact PreventionAsteroid Impact SimulationsAsteroid Material CompositionAsteroid Monitoring SystemsAsteroid OrbitAsteroid Research ProgramsAsteroid TrackingAstronomical CalculationsAstronomical StudiesAstrophysics StudiesCelestial Body ImpactCelestial EventsCelestial MechanicsCelestial ObjectsCosmic AnomaliesCosmic CatastropheCosmic EventsCosmic EvolutionCosmic ForcesCosmic PerspectiveCosmic ThreatsDinosaur Extinction EventEarth and Space RelationsEarth Impact RiskEarth Protection MeasuresEarth’s Place in the UniverseEmergency PreparednessExtraterrestrial HazardsFuture Space ChallengesFuture Space EventsGlobal Asteroid AwarenessGlobal Space PoliciesImpact EnergyImpact ProbabilityImpact ScenariosLarge AsteroidsMeteor ImpactMeteor StudiesNASA Asteroid MonitoringNASA Space ResearchNASA WarningsNear-Earth AsteroidsNear-Earth Object StudiesNuclear Deflection PlanPlanetary DefensePlanetary ProtectionPotential Impact EventScientific AdvancementsScientific ForecastingScientific PredictionsSpace AgenciesSpace and Earth InteractionSpace and Global SecuritySpace and HumanitySpace Awareness CampaignsSpace CollisionSpace CrisisSpace Dangerspace debrisSpace Disastersspace discoveriesSpace Engineeringspace explorationSpace Exploration ChallengesSpace GeologySpace GovernanceSpace HazardsSpace Impact RiskSpace InnovationSpace MissionsSpace ObservatoriesSpace Phenomenaspace physicsSpace Risk AnalysisSpace Risk AwarenessSpace Rock CollisionSpace Rock DangerSpace Rock InvestigationSpace Rock MovementsSpace Rock Sizespace scienceSpace StrategySpace StudiesSpace SurveillanceSpace Survival Strategiesspace technologySpace ThreatsSpace Travel RisksSpace VulnerabilitySpace Weather EventsSpace-Time EventsSpacecraft Impact StrategySpaceflight and DefenseSpaceflight SafetyTorino Impact ScaleUniverse Dynamics
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Urdu-Stories-and-fictions
Previous

کہانی کار کی کہانی، کہانی کی زبانی (افسانہ)

Malir-Political-Struggle-and-Future-of-indigenous-people
Next

ملیر کی سیاسی جدوجہد: مسائل، حکمت عملی اور مستقبل کی راہ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme