Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Trees-laugh-and-cry
کالماہم ترینتازہ ترینماحولیات

درخت ہنستے بولتے اور روتے بھی ہیں۔۔

By Akhtar Rasool
جنوری 10, 2025 6 Min Read
0

ایک حالیہ سائنسی تحقیق کے بعد سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ درخت آپس میں ’گفتگو‘ کے ذریعے خطرات سے آگاہی حاصل کر سکتے ہیں۔

اسلام آباد کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے ماہر نباتیات ڈاکٹرضبطا شنواری نے یہ گتھی سلجھانے کے لیے ایک مثال دی کہ ’اگر ایک پودے کو اپنی نشوونما کے لیے کسی طرح غذا درکار ہوگی تو وہ ایک ایسا کیمیکل خارج کرے گا، جو آس پاس کے دوسرے پودوں کو اس مخصوص پودے کا پیغام پہنچا سکے اور دوسرے پودے پھر وہ کیمیکل خارج کرتے ہیں، جس سے درخواست گزار پودے کو نشوونما میں غذائی مدد مل سکے۔

یہ بھی پودوں کی گفتگو کا ایک انداز ہے۔ ان کیمیکلز کو ’فائٹو کیمیکلز‘ کہا جاتا ہے۔‘

علم نباتات کی تاریخ کافی دلچسپ اور گمبھیر ہر دو طرح کی ہے۔ ریسرچ بتاتی ہے کہ 10 ہزار سال قبل ’نیو لیتھک انقلاب‘ کے دوران پودوں کا پتہ ملا اور اس کو تحریری طور پہ ریکارڈ کرنا شروع کیا گیا۔ یعنی جب اس دور کے زرعی سماجوں نے پھول پتوں کو پہلی بار اگانا شروع کیا۔

ارسطو اور تھیوفراسٹس کی روایتی کہانیوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ قبل از مسیح چوتھی سے پودوں پر باریک بینی سے تحقیق کیا کرتے تھے۔

درختوں کی آبی ضروریات یا ’واٹر ان ٹیک‘ پر تحقیق 1640 میں ’جوہانیس وان ہیلمانٹ‘ نے کی تھی۔

1665 میں ’رابرٹ ہک‘ نے ’مائیکروسکوپ‘ کی ایجاد سے علم نباتات کو ایک نئی جہت سے روشناس کرایا۔ اور یوں پودوں کے خلیوں کی ساخت کو قریب سے دیکھا جا سکا۔

دوسری طرف 1686 میں ’جان رے‘ نے ’ہسٹوریا پلینٹرم‘ نامی کتاب بھی لکھ ڈالی، جو پودوں کی جدید ’درجہ بندی‘ یا ٹیکسانومی کی طرف ایک اہم قدم تھا۔

ارسطو کے شاگرد ’تھیوفراسٹس‘ کو ’بابائے باٹنی‘ مانا جاتا ہے۔

تھیو فراسٹس، سائنسدان، محقق، بوٹینسٹ، بیالوجسٹ اور فلسفی تھے، ان کے کام اور تحقیق کے باعث ہی وہ ’بابائے باٹنی‘ کہلائے۔

نیچرل سائنسز کے بنگالی ماہر ڈاکٹر جوگندر چندرا بوس نے 19ویں صدی کے اوائل میں پودوں میں ہنسنے، بولنے اور اداس ہونے کے باریک پہلوؤں کو بھی باریک نگاہ سے دیکھا اور اپنی تحقیق کے ذریعے دنیا تک پہنچایا۔

انہوں نےاپنے تجربے کو رقم کرتے ہوئے پودوں میں جذبات تلاش کیے۔

ان کے بقول ’ایک بار میں نے پودے کی ٹہنی کو چھڑی سے مارا، جس پر اس کی گروتھ کچھ لمحوں کے لیے جیسے متاثر ہوئی اور وہ ایک طرف ڈھلک سی گئی اور کچھ دیر بعد اپنی تکلیف سے آزاد ہوئی تو وہ ٹہنی دوبارہ اپنی اصل ساخت میں بحال ہو گئی، گویا اس نے میری چھڑی سے لگنے والی ضرب کو محسوس کیا تھا۔‘

باٹنی کے پروفیسر ڈاکٹر ضبظا شنواری کا ماننا ہے کہ درخت اپنی جنبش سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور یہ جنبش ان کے تنے سے نہیں، ان کی جڑوں سے محسوس کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے یہ جواب مجھے اس وقت دیا، جب میں نے اسلام آباد ایف نائن پارک کے دھول میں اٹے درختوں کی بد حالی پہ پہلے تو ایک نظم لکھنے کا سوچا، لیکن پھر خیال آیا کیوں نہ اس پر کچھ سائنسی تحقیق بھی کر لی جائے۔

درخت اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ ضروری ’موومنٹ‘ بھی کرتے ہیں۔

اگر مٹی میں کہیں زہریلا مادہ پھیلنے کا اندیشہ ہو تو درخت اس کو بھانپ لیتے ہیں اور ایسے کیمیکلز کا اخراج ممکن بناتے ہیں، جن سے زہریلے مادے کو کنٹرول کر سکیں۔

جب ماحول میں آلودگی بڑھ جاتی ہے، تو درخت ایسے کیمیکل بھی خارج کرتے ہیں، جس سے آلودگی جھڑ سکے اور اپنے سانس لینے کے عمل سے بھی آلودہ مادوں کو روک پاتے ہیں۔ یعنی اپنے لیے ’حفظِ ماتقدم‘ سے کام لیتے ہیں۔

بعض پودے جتھوں کی شکل میں بھی رہتے ہیں اور حسبِ ضرورت ایک دوسرے سے رابطے میں آتے ہیں۔

ان کی ایک مثال ’وائٹ ویڈز‘ کی ہے جو اپنے گرد جڑی بوٹیوں یا پھیلنے والی بیلوں کے درمیان رہتے ہیں اور ایک دوسرے کا ’فائیٹو‘ کیمیکلز کے ذریعے خیال رکھتے ہیں اور یہ ’سپیشی‘ کے حساب سے ہوتے ہیں۔

ان کا ماننا ہے کہ آج کل ایک جیسے پودے ایک ہی احاطے میں اگانے کا ’فیشن‘ ہے، جو پودوں کی بقا کے لیے اچھا نہیں کیونکہ ان کی کیمیائی نشوونما اس سے متاثر ہوتی ہے اور ان میں منفی مقابلہ شروع ہو جاتا ہے، جب کہ جنگلی حیات میں مختلف انواع کے پودے اکٹھے پنپ رہے ہوتے ہیں اور ان کا کیمیکل ایکسچینج فائدہ مند ہوتا ہے۔

ڈاکٹر ضابطا شنواری کی تحقیقاتی گفتگو اپنی جگہ اہم ہے لیکن ساتھ ہی پاکستان کے مشہور ’ہارٹی کلچرسٹ‘ توفیق پاشا پودوں کے انس کی بھی بات کرتے ہیں کہ کس طرح ایک پودا اپنے باغبان کو پہچانتا ہے۔

بقول توفیق پاشا ’میرے والد کے فارم پہ چیکو کا ایک پرانا پیڑ تھا، جس سے میرے والد کو بہت محبت تھی اور وہ روز ہی اپنے چیکو کے پیڑ کے پاس جاتے اور اس سے باتیں کیا کرتے تھے۔

’وہ درخت 25 برس سے ہمارے فارم میں تھا اور ہم اس کے چیکو کھایا کرتے۔ جس وقت میرے والد صاحب کا انتقال ہوا تو اس کے پانچویں دن وہ صحت مند درخت بھی مر گیا اور اس کی کوئی ظاہری وجہ نہیں دیکھی جا سکی۔‘

یعنی گویا پودے ہوں یا درخت اپنے باغبان سے قربت رکھتے ہیں۔ باٹنسٹ ڈاکٹر شنواری توفیق پاشا کے اس تجربے کو بھی پودوں کی کیمیائی کیفیات سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔

’پودے اپنے باغبان کی بات سنتے ہیں۔ ہم مٹی کھاد دینے میں اگر لاپرواہی کریں یا کمی بیشی کر دیں تو پودے اپنی نشوونما کے جھکاو سے اس کا اظہار کرتے ہیں۔

’پودوں کے نام بھی اسی اعتبار سے دیے جاتے ہیں، جیسے گلیات میں پایا جانے والا ’چھوئی موئی یا ٹچ می ناٹ‘ یا ’فارگیٹ می ناٹ یعنی مجھے بھلانا نہیں اور سدا بہار وغیرہ۔‘

اس کے علاوہ درخت بھی انسانوں کی طرح اکثر کچھ پودوں کی موجودگی پسند نہیں کرتے۔

اس کو ’الیلوپیتھی‘ کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے ایک پودا کسی دوسرے پودے سے لاحق ہونے والے بقا کے خطرے کو بھانپ لیتا ہے اور ایسے ’الیلوپیتھک کیمیکلز‘ کا اخراج کرتا ہے، جن کی وجہ سے دوسرے پودے کی ’گروتھ‘ رک بھی سکتی ہے اور یکسر ختم بھی کی جا سکتی ہے۔

اور یہ کافی عام ردعمل ہے جو ’دفاعی‘ طور پہ بھی اختیار کیا جاتا ہے اور ’غصے‘ میں بھی عمل پیرا ہوتا ہے۔ پودوں کے کانٹے بھی ان کا ’دفاعی نظام‘ ظاہر کرتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ’الیلوپیتھک‘ مزاج پودوں میں عام پایا جاتا ہے جس کے دوران اگر کسی پودے کی مٹی یا آب و ہوا بدل دی جائے تو وہ ارد گرد کے دوسرے پودوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اسے ’فائٹو ٹیررازم‘ بھی کہا جاتا ہے۔

اس کے دوسری طرف ’فائٹو کیمیکلز‘ اکثر پودوں کی نشوونما کو بڑھاؤ بھی دیتے ہیں۔ کلائیمٹ چینج سے جوڑ کر دیکھا جائے تو فصلوں کی نشونما رک بھی سکتی ہے۔

اگر پودوں کو 25 ڈگری سے اوپر کے درجہ حرارت پر لگایا جائے تو پودے اپنی نشوونما کو کھو دیتے ہیں، لیکن ’الیلو پیتھی‘ ایسے میں بھی پودوں کی گروتھ کو متاثر نہیں ہونے دیتی۔

یاد رہے پودے روتے بھی ہیں اور ضد بھی کرتے ہیں۔

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جب کسی شاخ کو کاٹا جاتا ہے اور اس جگہ سے جاری ہونے والا مادہ ’آنسو‘ ہوتا ہے اور اپنے دکھ کا اظہار کرتا ہے۔

اور اگر کسی درخت کو تعمیراتی کام کے دوران اس کے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی جائے تو اکثر درخت دیوار پھاڑ کے بھی تناور کھڑے نظر آتے ہیں، یہ ان کی ضد کو آشکار کرتا ہے۔

بسا اوقات پودوں کی مٹی اور ماحول کو بدل دینا ان کو ناراض بھی کر دیتا ہے اور وہ احتجاج بھی کرتے ہیں۔

اسلام آباد میں امپورٹ کردہ ’توت‘ کے درخت اسلام آباد میں اپنے ’پولن‘ کے ذریعے ناگواری کا اظہار کر رہے ہیں، جو برسوں سے جاری ہے، کیونکہ انہیں جاپان سے امپورٹ کیا گیا۔ یہ توت پاکستان کے ماحول کو اپنانے سے قاصر ہے اور ہم اسے ’پولن الرجی‘ کا نام دے بیٹھے ہیں۔

بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

allelopathic chemicalsallelopathyAristotle botanyBiodiversitybiodiversity preservationbotanical researchbotany historybotany innovationchemical defense in plantschemical ecologychemical exchangeclimate change effectsecological balanceecosystem preservationenvironmental challengesenvironmental conservationenvironmental impact on treesF-9 park Islamabadforest communicationgarden biodiversitygarden caregarden sciencegardening tipshorticultureimported treesindigenous plantsinvasive speciesIslamabad biodiversityIslamabad treesmulberry treesnatural remediesphytochemicalsphytochemistryphytoterrorismplant adaptationplant behaviorplant biodiversityplant careplant classificationplant communicationplant defense mechanismsplant ecologyplant ecosystemplant emotionsplant growthplant guardiansplant healingplant healthplant hormonesplant intelligenceplant interactionplant movementsplant physiologyplant protestplant reactionsplant relationshipsplant resilienceplant responsesplant scienceplant signalingplant stressplant taxonomyplant-climate interactionplant-environment interactionpollen allergyRobert Hooke microscoperoot signalingsustainable gardeningTheophrastus father of botanytoxic soil responsetree adaptationtree adaptation mechanismstree caretree communicationtree companionstree defensetree diversitytree emotionstree evolutiontree healthtree protectiontree resiliencetree signalingtree survival strategiesurban forestryurban plant carewhite weeds
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
A-new-study-tells-the-surprising-story-of-food-leakage-in-the-mothers-womb-during-pregnancy
Previous

ایک نئی تحقیق، دورانِ حمل ماں کے پیٹ میں خوراک کی رسہ کشی کی حیرت انگیز کہانی سناتی ہے۔۔

Fiction-from-Russian-Literature-The-Postmans-Bag-Konstantin-Ushinsky
Next

ڈاکیے کا تھیلا (روسی ادب سے منتخب افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme