Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

The-brains-sewer-system-Urdu-story
ادباہم ترینتازہ ترین

دماغ کا سیوریج سسٹم (افسانہ)

By Akhtar Rasool
مئی 26, 2025 3 Min Read
0

یہ جون کا مہینہ تھا، آسمان آگ برسا رہا تھا، یار محمد گوٹھ کی تنگ گلی میں سکونت پذیر لوگ دہری مصیبت سے دوچار تھے، ایک طرف شدید گرمی کے موسم میں طویل لوڈشیڈنگ نے ان کا جینا دوبھر کر دیا تھا تو دوسری طرف حاجی عبدالرب کے مکان کی تعمیر ان کے لیے غیر معمولی اذیت کا باعث تھی۔ گلی پہلے سے بہت تنگ تھی، اوپر سے حاجی عبدالرب کے مکان کا تعمیراتی مٹیریل اور اس کی ترسیل کے لیے گاڑیوں کی آمد و رفت لوگوں کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہی تھی۔

حاجی عبد الرب کے بیٹے کی شادی تاریخ طے ہو چکی تھی، اس لیے مکان کی تعمیر ان کی مجبوری تھی، وہ دوسری جگہ منتقل بھی نہیں ہو سکتا تھا اور نہ ہی ان کے لیے پلاٹ خریدنا ممکن تھا۔

چھت بھرائی سے چند روز قبل ہی سے تنگ گلی میں ریتی بجری کا انبار پڑا ہوا تھا، ریتی بجری کے اس انبار کے باعث بچوں کو کھیلنے کا بہترین موقع مل گیا تھا۔

بچے بھی بیچارے کہاں جاتے۔۔ گرد و پیش کے کھلے میدان پلاٹنگ کی بھینٹ چڑھ چکے تھے، کھیل کے لیے ان معصوم بچوں کے لیے کھیل کا کوئی میدان باقی نہیں بچا تھا۔۔ پلاٹنگ کے باعث کھیل کے میدان تو دور کی بات معمولی پارک کی جگہ بھی نہیں بچی تھی، چنانچہ موقع ملتے ہی بچے ریتی بجری کے اس انبار پر کھیلتے رہتے۔

بچوں کے کھیل کے باعث ہر سُو ریتی بجری بکھری ہوئی تھی اور ٹوٹے پھوٹے مین ہولز کے اندر داخل ہو رہی تھی۔
حالانکہ گلی کی تنگی کے باوجود اس ریتی بجری کو سلیقہ سے رکھا جا سکتا تھا اور مین ہولز کو اس سے محفوظ بھی رکھا جا سکتا تھا، مگر کسی کو سیوریج کے نظام کی اس تباہی سے کوئی سروکار نہیں تھا، کوئی اس نظام کو تحفظ فراہم کرنے اور اس کو ”اون“ کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔۔۔ یہاں تک حاجی عبدالرب صاحب کو بھی اس ضمن میں کوئی پریشانی نہیں تھی، ان کو صرف اپنے تعمیر ہوتے مکان سے دلچسپی تھی۔۔۔ گویا کہ انفرادی خود غرضی، اجتماعی بے حسی کے سانچے میں ڈھل گئی تھی۔

اللہ اللہ کرکے چھت کی بھرائی کا عمل مکمل ہو گیا اور کچھ عرصے میں حاجی عبدالرب کے مکان کی تعمیر مکمل ہوگئی۔

مکان کی تعمیر کے بعد حاجی عبدالرب کے بیٹے کی شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔۔ شادی کے دن یار محمد گوٹھ کی اس تنگ گلی میں گٹر کا سمندر پھوٹ پڑا یہاں تک کہ گھروں میں گٹر کا گندا پانی داخل ہونا شروع ہو گیا۔۔۔ گٹر کے پانی اور اس سے ابھرتے شدید تعفن نے لوگوں کا جینا حرام کر دیا، خاص طور نمازی حضرات کے لیے اس نجاست سے محفوظ رہنا امرِ محال بن گیا۔

اس گندگی کے باعث حاجی عبدالرب کے بیٹے کی شادی کی تقریبات بری طرح متاثر ہو رہی تھیں۔۔ شدید غصے سے حاجی عبد الرب کا برا حال ہو رہا تھا۔۔۔

”کہاں ہیں ہمارے منتخب نمائندے؟ کہاں مر گئے ایم پی اے اور چیئرمین صاحب؟ اب آ جائیں نا ووٹ کے لیے۔۔۔ میں ان کو جوتے ماردوں گا۔“ حاجی عبدالرب شدید غصے کی حالت میں چیخ رہے تھے۔۔۔

”ایم پی اے یا چیئرمین صاحب آج اگر حاجی عبد الرب کے سامنے آ جائیں تو ان کی خیر نہیں ہے۔“ قریب ہی کھڑے ماما نورو نے بچل کے ساتھ سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔

حاجی عبد الرب ایم پی اے، ایم این اے اور چیئرمین صاحب کو مسلسل گالیاں دے رہے تھے، اچانک استاد خدابخش نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔

”جب تک ہمارے دماغ کا ’سیوریج سسٹم‘ ٹھیک نہیں ہوتا، ہماری گلی کے سیوریج سسٹم کو ایم پی اے، ایم این اے اور چیئرمین صاحب تو کجا، اقوامِ متحدہ بھی ٹھیک نہیں کر سکتی۔“ خدابخش نے اطمینان سے کہا اور اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔

Tags:

Absence of ParksAbsurd RealityBitter RealityBlocked StreetsBroken DreamsBroken Sewer SystemBroken SystemsChairman BlameChildren and PlayChildren PlayingCivic DecayCivic IrresponsibilityCivic UnrestCommunity DespairCommunity Helplessnesscommunity sufferingConstruction DisruptionConstruction MaterialConstruction MessConstruction PriorityConstruction vs CommunityConstruction Without PlanningCrumbling CitiesCrumbling Infrastructuredirty waterDysfunctional PoliticsEnvironmental Decayenvironmental neglectExtreme HeatFed Up CitizensFiction with MessageFictional NeighborhoodFictional SatireFragile Urban LifeGarbage OverflowGovernment negligenceGrassroots StrugglesGritty RealismGutter ProblemsHeatwave HardshipsHumorous CritiqueIndividualism vs CollectivismInformal SettlementsInfrastructure NeglectIrony of ProgressJune HeatKarachi FictionKarachi LifeLack of Civic SenseLack of PlaygroundsLeadership FailureLoad SheddingLocal AngerLocal FrustrationLocal governanceMarriage and MiseryMarriage ChaosMismanagementMPA CriticismNarrow StreetsNeglected NeighborhoodsNo Green SpaceNo Open SpacesNoise PollutionoverpopulationParental neglectPolitical AbsenteeismPolitical Indifferencepolitical satirePollution IssuesPoor InfrastructurePower AbusePower CutsPublic OutrageRural to Urban Shiftsand and gravelSarcastic ToneselfishnessSewage in HomesSewer OverflowSlum-like ConditionsSmelly StreetsSocial ApathySocial CommentarySocial NeglectStreet FloodingTense AtmosphereUnchecked Urban GrowthUnlivable ConditionsUrban Congestionurban dramaUrban FictionUrban KidsUrban NoiseUrban Planning FailureUrban PovertyUrban RealismUrban Strugglesurbanization issuesVoices from the StreetWater WoesWedding Disruption
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Gadap-Kathore-Malir-K-Electric-and-Collective-Punishment.
Previous

گڈاپ، کاٹھوڑ، ملیر، کے-الیکٹرک اور اجتماعی سزا

The-first-elements-of-life-in-space-Did-life-on-Earth-come-from-the-deserted-asteroid-Bennu
Next

زندگی کے ابتدائی اجزا خلا میں۔۔ کیا زمین پر زندگی ویران سیارچے ’بینو‘ سے آئی؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme