Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

دنیا کی سب سے بڑی ڈارک نیٹ سائٹ کو کیسے بند کیا گیا؟

By Akhtar Rasool
اپریل 10, 2022 4 Min Read
0

برلن – سبیشیئن زویئبل نے ہائڈرا، ڈارک نیٹ پر دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ پلیس، کو بند کیے جانے والے وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا، ’اس وقت حیرت سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔‘

یہ ویب سائٹ سائبر کرائم یا انٹرنیٹ پر کیے جانے والے جرائم کا گڑھ تھی، جس پر چھ برس سے زیادہ تک منشیات اور غیر قانونی اشیا کی خرید و فروخت ہو رہی تھی، لیکن اس کے متعلق مخبری ہونے کے بعد جرمن پولیس نے اس کے سرورز پر چھاپہ مارا اور تقریباً 25 ملین ڈالر کی مالیت کے بِٹ کوائن قبضے میں لے لیے

زویئبل نے بتایا ”ہم اس پر کئی ماہ سے کام کر رہے تھے اور جب آخر کار ہم اس میں کامیاب ہو گئے تو ہمیں محسوس ہوا کہ ہم نے واقعی کوئی بڑا کارنامہ سر انجام دے دیا ہے“

پولیس کا کہنا ہے کہ اس مارکیٹ پلیس پر سترہ ملین کسٹمر اور اُنیس ہزار سیلر اکاونٹ رجسٹرڈ تھے، جن پر اب پولیس کی جانب سے قبضے میں لیے جانے کے نوٹس چسپاں ہیں

ہائڈرا (ڈارک نیٹ سائٹ) کسٹمر کو اسی روز سامان پہنچانے میں مہارت رکھتی تھی، اور اس کے لیے اس کے کارندے عوامی مقامات پر پہلے سے پیکٹ چھپا کر رکھ دیتے تھے اور پھر اپنے گاہکوں کو آگاہ کرتے تھے

واضح رہے کہ پچھلے چھ ماہ کے اندر ڈارک نیٹ پر کئی بڑی مارکیٹوں کو بند کر دیا گیا تھا، لیکن ہائڈرا ویب سائٹ پولیس کے قابو میں نہیں آ رہی تھی

یہ ویب سائٹ 2015ع میں شروع کی گئی تھی، جس پر منشیات، ہیک شدہ مواد، جعلی دستاویزات اور غیر قانونی ڈیجیٹل سروسز جیساکہ بٹ کوائن مکسنگ دستیاب تھی. کوائن مکسنگ میں سائبر مجرم چوری کیے ہوئے ڈیجیٹل کوائن کو جائز کوائن میں بدل دیتے ہیں

یہ سائٹ روسی زبان میں لکھی ہوئی تھی، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے سیلرز (فروخت کنندگان) روس، یوکرین، بیلاروس، قازقستان اور قریبی ممالک میں موجود تھے

سبیشیئن زویئبل کا کہنا ہے ”اس ویب سائٹ کو بند کرنے کا آپریشن اس خفیہ اطلاع کے بعد شروع کیا گیا، جس کے مطابق ویب سائٹ کے انفراسٹرکچر کو جرمنی میں لگایا جانا تھا۔“

انہوں نے کہا ”ہمیں کچھ اشارے امریکی حکام سے بھی ملے، جو ڈارک نیٹ کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے تھے۔ تو ہم نے اس کی تفتیش پچھلے سال جولائی یا اگست میں شروع کر دی تھی“

یہ جاننے میں کئی مہینے لگ گئے کہ جرمنی میں کون سی فرم ہائڈرا کو ہوسٹ کر رہی ہے۔ بالآخر اس کا پتا چل گیا، جو بظاہر ایک ’بلٹ پروف ہوسٹنگ‘ کمپنی تھی

واضح رہے کہ بلٹ پروف ہوسٹنگ کمپنی وہ ہوتی ہے، جو بغیر آڈٹ کیے کسی ویب سائٹ، مواد اور جرائم پیشہ ویب سائٹ کو ہوسٹ کرتی ہے اور پولیس کو معلومات فراہم کرنے سے گریز کرتی ہے

زویئبل نے بتایا کہ ان کے تفتیش کار دستیاب شہادتوں کو ایک جج کے پاس لے گئے تاکہ سرور کمپنی کے پاس جانے اور اسے بند کرنے کے لیے وارنٹ حاصل کیا جا سکے

اس کمپنی کو پولیس کا کہنا ماننے پر مجبور کیا گیا ورنہ اس کے عملے کو بھی گرفتار کر لیا جاتا۔ ویب سائٹ پر جانے والوں کو اب وہاں ایک پولیس نوٹس ملتا ہے، جس پر لکھا ہے کہ ’یہ پلیٹ فارم اور اس پر موجود مجرمانہ مواد قبضے میں لیا جا چکا ہے‘

اگرچہ جرمن حکام اپنی کامیابی پر خوشی منا رہے ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ جب تک ہائڈرا چلانے والے گروہ کو گرفتار نہیں کر لیا جاتا، انہیں خدشہ ہے کہ ایسی دوسری ویب سائٹس سامنے آ سکتی ہیں۔ل

زویئبل کہتے ہیں ”ہمیں معلوم ہے کہ وہ اپنے کاروبار چلانے کا دوسرا راستہ نکال لیں گے۔ غالباً وہ ایک نیا پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کریں گے، اور اس سلسلے میں ہمیں اپنی آنکھیں کھلی رکھنا ہوں گی۔ ہم مجرموں کو نہیں جانتے اس لیے اب یہ جاننا ہی ہمارا اگلا ہدف ہوگا“

یہ پیش رفت ڈارک نیٹ کے لیے ایک ایسے برے وقت میں سامنے آئی ہے، جب حالیہ مہینوں میں اور بھی کئی اہم ویب سائٹیں یا تو رضاکارانہ طور پر یا پولیس کی کارروائی کے نتیجے میں بند ہو چکی ہیں

زیادہ تر ایسی ویب سائٹوں نے اپنے آپریشن کو بتدریج کم کیا اور پھر خوب سارا پیسہ لے کر غائب ہو گئیں

جنوری میں چوری شدہ کریڈٹ معلومات بیچنے والی ڈارک نیٹ ویب سائٹ، یونی سی سی، کے ایڈمنسٹریٹرز نے صحت کی خرابی کو وجہ بتا کر کام بند کر دیا تھا

رضاکارانہ طور پر بند ہونے والی ویب سائٹوں میں گزشتہ برس اکتوبر میں وائٹ ہاؤس مارکیٹ، نومبر میں کینازون اور دسمبر ٹوریز شامل ہیں

محققین کا کہنا ہے کہ ڈارک نیٹ سائٹس کے بند کرنے کا سب سے عام طریقہ ’ایگزٹ اسکیم‘ ہے، جس میں ایڈمنسٹریٹرز رضاکارانہ طور پر سائٹس کو بند کر دیتے ہیں لیکن اس دوران اپنے کسٹمرز کا تمام پیسہ اپنے ساتھ لے اڑتے ہیں.

Tags:

Cyber Crime MafiasDark Internet SitesDark SitesGermanyHackers
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

اینڈرائڈ 13 میں ایک سم پر متعدد نمبرز چلانے کا فیچر دیے جانے کا امکان

Next

ایرانی سپریم لیڈر کا نمائندہ پاکستان میں منی لانڈرنگ میں ملوث, انکشاف

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme