Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

سرکاری اسپتالوں کا وہ رخ، جو عوام سے اوجھل رہتا ہے۔۔

By Akhtar Rasool
نومبر 12, 2022 5 Min Read
0

پہلا منظر:

اسٹریچر پر پڑی لڑکی زندہ تو تھی مگر حالت مُردوں سے بھی بدتر تھی۔ پیلی پھٹک رنگت، آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئیں، پپڑی زدہ ہونٹ اور بے چینی کا وہ عالم کہ تکیے پر سر مارتی تھی

سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹروں کے لیے یہ منظر معمول کا حصہ ہے۔ دُور دراز دیہات سے آئی چارپائی پر پڑی نیم مردہ حاملہ عورت، تین چار ضعیف بڑی بوڑھیاں اور ایک آدھ کمر خمیدہ شاطر نظر آتی دائی

’جی تین دن سے چھوری کو درد لگے، بچے کا سر بالکل سامنے، ہر منٹ پر لگے کہ اب نکلا کہ اب، زور لگا لگا کے بے حال چھوری، ذرا دیکھو ڈاکٹر جی‘

ڈاکٹر جی دیکھتی ہیں اور چیختی ہیں، ’موت کے دروازے پر پہنچا کر لے آئے ہو تم لوگ، جلدی نہیں لا سکتے تھے؟‘

’وہ جی مائی ساتھ ہی ہے، بڑی قابل سمجھ دار ہے، گاؤں میں سب چھورے چھوریاں اسی کے ہاتھوں سے ہوتے ہیں۔‘

’ہاں بڑی سمجھ دار ہے، ایسے ہی ہوتے ہوں گے جیسے یہ بچہ ہے۔ مرچکا ہے یہ بچہ، دل کی دھڑکن نہیں ہے، لڑکی کی جان بھی خطرے میں ہے، بچہ دانی پھٹ چکی ہے اور خون پیٹ میں جمع ہورہا ہے، آپریشن کرنا پڑے گا۔ چار بوتل خون کا بندوبست کرو۔‘

’ہائے ڈاکٹر جی آپریشن؟ بڑا یا چھوٹا؟‘

’مائی، لڑکی مر رہی ہے، تمہیں بڑے چھوٹے کی پڑی ہے۔‘

’ڈاکٹر صیب، سنا ہے بڑے آپریشن کے بعد عورت کسی کام کی نہیں رہتی۔‘

’او مائی، یہ جو لڑکی لائے ہو نا، یہ ابھی بھی کسی کام کی نہیں رہی۔ بچ جائے تو شکر کرنا۔ چلو خون کا بندوبست کرو۔‘

’خون؟ وہ کہاں سے ملے گا جی؟‘

’خون دینا پڑے گا، اس کے شوہر، باپ بھائی تو ہوں گے نا ساتھ، وہ دے دیں ایک ایک بوتل۔‘

’نا جی نا، شوہر تو نماڑا کمزور بڑا ہے، وہ کیسے دے گا خون کی بوتل؟ اس کے بھائیوں سے پوچھ لو۔‘

’او مائی! تم کیا لگتی ہو؟‘

’جی بہو ہے یہ میری۔‘

’ایک بات بتاؤ مائی، اس کے پیٹ میں بچہ تمہارے بیٹے کا ہے یا اس کے بھائیوں کا؟‘

’توبہ توبہ! ڈاکٹر صیب، بے شرمی کی باتیں تو نہ کرو نا۔‘

’تو کیا کروں؟ تم لوگ سنتے جو نہیں۔‘

’جی آپ کے پاس سے خون نہیں ملے گا؟‘

’ہاں وہ سامنے ٹونٹی لگی ہے، بھرلو جاکر خون کی بوتل۔‘

لڑکی بے چاری مر رہی ہے اور انہیں بیٹے کی کمزوری یاد آرہی ہے

آہستہ آہستہ ساری بوڑھی عورتیں کھسکنا شروع ہوجاتی ہیں، آخر انہوں نے لڑکی کو اسپتال پہنچا دیا ہے، اب ڈاکٹر جانیں اور ان کا کام۔۔

’ڈاکٹر شہلا، اس بے چاری کے منحوس گھر والے تو غائب ہوگئے ہیں، تمہارے پاس صدقے زکوٰۃ کے کوئی پیسے پڑے ہیں کیا؟‘

’دیکھتی ہوں۔‘

’پلیز! چوکیدار کو دے کر کینولا تو منگواؤ، اور سنو بلڈ بینک فون کرو، اگر ڈونیشن کی کوئی دو چار بوتلیں ہوں تو بھیج دیں ہمیں، بلڈ پریشر گر رہا ہے، فوراً آپریشن نہ کیا تو مرجائے گی۔‘

’رضیہ، آپریشن تھیٹر کو کہو تیاری کریں۔ فرزانہ، سینیئر ڈاکٹر کو کال کرو کہ ہمیں ان کی ضرورت ہے، کیس پیچیدہ ہے۔ فیروزہ تم اینیستھٹسٹ کو کال کرو فوراً پہنچیں، ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے، چلو شاباش بچیو جلدی جلدی۔‘

رجسٹرار ڈاکٹر ہاؤس جاب کرنے والوں کو چاروں طرف دوڑاتی ہے، خون کا بندوبست، دوائیوں کا انتظام، آپریشن تھیٹر کی تیاری، انیستھٹسٹ اور سینیئر ڈاکٹر کو کال

ایک ڈاکٹر بھاگی ہوئی آتی ہے، ’انیستھٹسٹ کو کال نہیں مل رہی‘

’افوہ، ڈاکٹر ناصر سوئے ہوں گے، انہیں جگانا اتنا مشکل ہے، لیکن وہ بھی کیا کریں، سارا دن آپریشن تھیٹر میں پتا نہیں کتنے آپریشن کروائے، پانچ بجے تو گھر گئے، اور اب رات کی ڈیوٹی، چلو دوبارہ کال کرو، نہ اٹھائیں تو ان سے سینیئر کو بلا لو۔‘

ایک اور ہاؤس جاب کرنے والی ڈاکٹر بھاگی آتی ہے، ’جی سینیئر ڈاکٹر سے بات ہوگئی ہے، وہ کہہ رہی ہیں کہ ٹرانسپورٹ بھیجو‘۔

’چلو بچے، ایمبولینس کے ڈرائیور کو کال کرو کہ فوراً انہیں لے کر آئے، جلدی کرو جلدی۔‘

’خون ملا کہ نہیں؟ سسٹر جی پیشاب کی نالی تو ڈال دیں، ہاتھ میں کینولا بھی لگا دیں۔‘

’ڈاکٹر جی ہاتھ میں کوئی نس ہی نہیں مل رہی، لگتا ہے سارا خون نچڑ گیا۔‘

’چلیں پاؤں میں دیکھ لیں، لیب ٹیسٹ بھی بھیج دینا، ہیموگلوبن کا تو پتا چلے۔‘

’جی خون کی صرف ایک بوتل پڑی ہے بلڈ بینک میں‘، ایک اور خبر آتی ہے۔

’اف خدایا! ایک بوتل سے تو یہ نہیں بچ سکتی۔‘

اسٹریچر پر سترہ اٹھارہ برس کی لڑکی بے جان پڑی ہے۔

ایک منحنی سی لڑکی آگے آتی ہے ’میڈم میں دے دوں؟ میرا بھی یہی گروپ ہے‘۔

’ڈاکٹر نوشین، آپ دیں گی؟ سوچ لیں ہاؤس جاب میں پہلے ہی اتنی بھاگ دوڑ کرنی پڑتی ہے۔‘

’کچھ نہیں ہوتا میڈم، میرا ہیموگلوبن اچھا ہے، پھر بن جائے گا خون دو چار ہفتوں میں۔‘

ڈاکٹر آتی ہے، ’میڈم، ڈرائیور کہہ رہا ہے کہ میں کھانا کھا رہا ہوں، کچھ دیر بعد جاتا ہوں‘۔

’افوہ! اسے کہو، تمہیں کھانے کی پڑی ہے، یہاں بے چاری مر رہی ہے۔ جاؤ دوبارہ فون کرو۔‘

دوسرا منظر:

’ہائے ہائے! آج تو میں ڈاکٹروں نرسوں کو بلا بلا کے تھک گئی کوئی میری بات ہی نہیں سنتی۔‘

’میرا بھی درد کے مارے بُرا حال ہے، مجھے چیک بھی نہیں کیا کسی نے، کتنی دیر ہوگئی؟‘

’بس ایسی ہی ہیں یہ نرسیں ڈاکٹریں، مریض درد سے بے حال رہتا ہے، اور ان کے نخرے ہی نہیں ختم ہوتے۔ بس آنیاں جانیاں دیکھا کرو، پتا نہیں کام کرنے آتی ہیں یا گپیں مارنے؟‘

صاحبو! ان سرکاری اسپتالوں میں بھاگ دوڑ کرنے والے ڈاکٹر وہ جونئیر ہوتے ہیں جن کا دردِ دل اور انسانیت کی خدمت کا عزم انہیں ہر قربانی دینے پر آمادہ کر لیتا ہے، لیکن پھر بھی کب تک؟

وقت کانچ کے بنے ان انسانوں کو آہستہ آہستہ پتھر میں بدل دیتا ہے، کہ ان کے اردگرد موجود تمام نظام ادھورا اور ٹوٹا پھوٹا ہے، آخر وہ کب تک لڑیں؟ کس کس سے لڑیں؟ حد تو یہ ہے کہ موت کے دروازے پر کھڑے مریض کے پیارے بھی اجنبی بن کر ذمہ داری سے دامن چھڑا جاتے ہیں۔

اس حمام میں سب ننگے ہیں، صرف ڈاکٹر نہیں!

بشکریہ: ڈان نیوز
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

DoctorsGovernmentHospitalsPakistan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ایک دعاِ مغفرت عقلِ سلیم کے لیے بھی۔۔

Next

گردشِ ایام (افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme