Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںقومی

سندھ کے تمام بیراجوں میں پانی کی قلت مزید بڑھ گئی

By Akhtar Rasool
اگست 26, 2021 2 Min Read
0

حیدرآباد : اوپر کی جانب سے بہاؤ میں کمی کی وجہ سے سندھ کے تینوں بیراجوں میں پانی کی قلت ہر گزرتے دن کے ساتھ بدتر ہوتی جارہی ہے، جس کے باعث آبپاشی حکام کو ’روٹیشن پروگرام‘ کا سہارا لینا پڑ رہا ہے

تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے پانی کے بہاؤ میں بھی کمی رکارڈ کی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ آبپاشی حکام سکھر بیراج کے بائیں کینال کے لیے روٹیشن پروگرام شروع کرنے پر مجبور ہیں تاکہ دائیں کینال کی نہروں کو پانی مہیا کیا جا سکے

بیراج حکام نے روہڑی اور نارا کی دو اہم نہروں کے بہاؤ کو کم کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ دائیں کینال کی نہروں کے لیے کم از کم بہاؤ کو یقینی بنایا جا سکے

اس وقت گڈو اور سکھر بیراجوں کو 19 فیصد اور 14 فیصد کی قلت کا سامنا ہے۔

بلوچستان کو گڈو اور سکھر کے دونوں بیراجوں پر پانی کی قلت سے استثنیٰ حاصل نہیں ہے، جہاں سے صوبے کو دو مختلف نہروں پر پانی ملتا ہے

گڈو بیراج پر بلوچستان میں 9 فیصد اور سکھر میں 35 فیصد پانی کی تقسیم کے معاہدے 1991 کے تحت 10 یومیہ بنیاد پر پانی کی تقسیم کے مطابق ہے

محکمہ آبپاشی کے اعداد و شمار کے مطابق کہ سکھر بیراج سے 7 اگست کو صرف 48 گھنٹوں کے لیے 2 لاکھ 50 ہزار کیوسک کا اخراج ہوا،ل

زیادہ سے زیادہ بہاؤ کے ساتھ بیراج کی سطح 200.45 فٹ پر 10 دن کے لیے صرف 3 سے 12 اگست تک برقرار رکھی جا سکتی ہے تاکہ نہروں کو بہاؤ فراہم کیا جا سکے

پانی کا بہاؤ 7 اگست کو 2 لاکھ 50 ہزار 354 کیوسک سے کم ہوکر 13 اگست کو 84 ہزار 350 کیوسک رہ گیا جو ‘نازک صورتحال’ کی نشاندہی کرتا ہے

بیراج کے دائیں کینال کی نہروں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بیراج کو تقریبا 150 ڈیڑھ لاکھ کیوسک پانی کی ضرورت ہے اور کوٹری بیراج کے لیے بہاو کی ضرورت ہے

سکھر بیراج کے دائیں کینال کی نہروں کو چاول اگانے والے علاقوں کے لیے بہاؤ کی ضرورت ہے اور کیرتھر برانچ سے بلوچستان کو پانی فراہم کیا جاتا ہے

حکام نے روہڑی کینال کا بہاؤ 12700 کیوسک سے کم کر کے 11700 کیوسک اور نارا میں 12650 کیوسک سے کم کر کے  11650 کیوسک کردیا

خیرپور فیڈر ایسٹ کا بہاؤ 2010 کیوسک سے کم ہوکر 1800 کیوسک اور خیرپور فیڈر ویسٹ کا 1450 کیوسک سے 1200 تک کم ہو گیا ہے.

Tags:

Indus RiverSindh BarrageSindh IrrigationSindh Water Crisis
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

روس اور چین کا افغانستان سے خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے پر اتفاق

Next

ترین گروپ سے گیارہ اراکین جلد علیحدہ ہوجائیں گے، نذیر چوہان کا دعویٰ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme