Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

سیاحت سے آبی پرندوں کو خطرات لاحق ہو گئے

By Akhtar Rasool
مئی 22, 2022 3 Min Read
0

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں آبی پرندوں کی آبادی میں کمی ہو رہی ہے۔ کیپ ویرڈی کے سال نامی جزیرے پر محققین سرخ چونچ والے ٹروپیکل پرندے کی نسل کو سیاحت کے بڑھتے خطرات سے تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

واضح رہے کہ سرخ چونچ والے شاندار ٹروپیکل پرندوں کو مہاجر پرندے بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اپنا زیادہ تر وقت سمندر پر گزارتے ہیں۔ یہ پرندے بحیرہ اوقیانوس کے اوپر ہزاروں کلومیٹر پرواز کرتے ہیں اور زمین پر صرف بریڈنگ یا افزائشِ نسل کے لیے اترتے ہیں اور اونچی چٹانوں میں اپنے گھونسلے بناتے ہیں۔ لیکن ان کی عادات کے بارے میں زیادہ معلومات عام نہیں

کیپ ویرڈی کے محققین نے حال ہی میں یہاں جزیرہ ء سال پر اِن پرندوں کی دنیا میں سب سے بڑی کالونیوں میں سے ایک کا پتہ لگایا ہے

آرٹر لوپیس پراجیکٹ "بائیو ڈائیورسٹی” میں بطور فیلڈ ٹیکنیشن کام کر رہے ہیں۔ یہ مقامی تنظیم سیاحت کے بڑھتے رجحان سے منسلک خطرات سے اِن پرندوں کی حفاظت کر رہی ہے۔ آرٹر لوپیس کہتے ہیں ”یہ پرندے بہت خوبصورت ہیں۔ ان کی لمبی دم ہوتی ہے“

آرٹر اپنی ٹیم کے ساتھ پرندوں کی ٹیگنگ کرتے ہیں اور اس دوران خون کے نمونے کے ذریعے پرندے کی جنس کا تعین بھی کیا جاتا ہے

لیکن مشکل یہ ہے کہ ان پرندوں کے لیے یہ سب لوگ، ایک بن بلائے مہمان کی طرح ہیں۔ بقول آرٹر لوپیس: ”ہم ان کے پیروں سے سیمپل لیتے ہیں۔ ان کے پیروں سے جانے والی رگ کی پہلے صفائی کی جاتی ہے اور پھر نمونہ لیا جاتا ہے“

جمع کردہ نمونوں کے ذریعے اِن پرندوں کی عادتوں، خوراک، اور نقل مکانی کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے کیا کھایا اور اس جزیرے کا ماحول کس طرح تبدیل ہو رہا ہے۔ پروں سے بھی کافی معلومات ملتی ہے

آرٹر لوپیس بتاتے ہیں ”ان نمونوں کے ذریعے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ یہ پرندے سال کے کون سے دنوں میں پر تبدیل کرتے ہیں۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اِن کی خوراک ٹھیک ہے‘‘

تحقیق کے اس عمل کے دوران ان پرندوں کے پروں میں کئی زہریلے جراثیم پائے گئے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ پرندے کتنی آلودہ چیزیں ہضم کر رہے ہیں اور اس سے ہمارے سمندروں اور آبی حیات کی صحت کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔ ان پرندوں کے سیمپلز لینے کے بعد ان کو گھونسلوں میں واپس بھیج دیا جاتا ہے اور پھر دیگر گھونسلوں کا معائنہ کیا جاتا ہے

بدقسمتی سے سرخ چونچ والے ٹروپیکل پرندوں کی افزائش بھی خطرات کی زد میں ہے۔ ان کے گھونسلوں کے قریب سیاح، دھوپ میں لیٹ کر جسم تاپتے ہیں، جبکہ ساحل سمندر پر تعمیرات کی وجہ سے پرندوں کی قدرتی رہائش گاہیں بھی ختم ہو رہی ہیں۔ رات میں پرندوں کو سمندر پر روشنی کی آلودگی پریشان کرتی ہے۔ اس کے علاوہ آوارہ کتے بھی پرندوں کا شکار کرتے ہیں اور پلاسٹک کی آلودگی الگ سے ایک انتہائی سنگین مسئلے کی شکل اختیار کر چکی ہے

پراجیکٹ بائیو ڈائیورسٹی کے شریک ڈائریکٹر، ایلبرٹ ٹیکسونیرا کا کہنا ہے”انسانی سرگرمیاں آبی پرندوں کو اپنی بریڈنگ کی جگہ سے مزید دور دھکیل رہی ہے“

ایلبرٹ ٹیکسونیرا نے کہا ”آبی پرندوں کے ساتھ آج کل سب سے بڑا مسئلہ ان کی افزائش میں کمی کا ہے۔ سیاح ہر جگہ جانا چاہتے ہیں۔ پرندوں کی کالونیوں جیسے حفاظتی مقامات پر تعمیرات کی منصوبہ بندی کی جاری ہے۔ لہٰذا مسئلہ یہ ہے کہ انسانوں کو پرندوں کی کالونی کے قریب لانے کا مطلب، یہاں فوڈ ویسٹ پہنچانا ہے، اور اس کا مطلب ہے کہ آوارہ کتے اور چوہے وغیرہ بھی یہاں پہنچ جائیں گے‘‘

لیکن اس سب کے باوجود محققین مایوس نہیں ہیں. آرٹر اپنے دفتر میں نمونے تیار کر تے ہیں تاکہ انہیں پراسیسنگ کے لیے یونیورسٹی آف بارسلونا روانہ کیا جائے۔ محققین وہاں ان پرندوں کے جمع کردہ ڈیٹا کی مدد سے مزید انکشافات کرتے ہیں

اس ٹیم کو امید ہے کہ ان کی تحقیق، سرخ چونچ والے ٹروپیکل پرندوں کی حفاظت کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو گی۔ اور اِن پرندوں کے نازک ایکوسسٹم کو سمجھنے کے ساتھ ہم اپنی دنیا کی صحت کو بھی سمجھنے کے قابل ہو جائیں گے.

Tags:

TourismTropical BirdsWaterfowl
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پانچ سال کی مہلت: کیا پاکستان میں سود سے پاک بینکاری کے نظام کا نفاذ ممکن ہے؟

Next

سیاست دان ہی نہیں، ہر کوئی سیاست کر رہا ہے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme