Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

sangat mag
اہم ترینتازہ ترینکالم

شبِ مردم گزیدہ

By Akhtar Rasool
مارچ 27, 2026 4 Min Read
0

شہر پر ایک عجیب سی رات اتری ہوئی ہے۔ یہ عام راتوں جیسی نہیں۔ اس کے قدم لڑکھڑاتے ہیں، اس کی سانس تیز ہے اور اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا جنون ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اس طویل شبِ تاریک کو کسی پاگل آدمی نے کاٹ لیا ہو، اس کے بعد سے یہ رات پاگل پن کی ایک لمبی داستان میں بدل گئی ہو اور اب اس کے جسم میں خوف، بے چینی اور ہذیان دوڑ رہے ہوں۔

ہم اسی شبِ مردم گزیدہ کی سیاہی میں جی رہے ہیں۔ ہماری سانسیں اس کی تاریکیوں میں زندگی کو ٹٹولنے کے لیے یہاں وہاں ہاتھ مارتی ہیں۔ زندگی نہیں ملتی۔ سانسیں تھک جاتی ہیں۔

یہ رات صرف اندھیری نہیں، بلکہ خوفناک حد تک بے چین ہے۔ اس کے سناٹے میں عجیب سی چیخیں گونجتی ہیں۔ کہیں مہنگائی کی، کہیں بے روزگاری کی، کہیں ناانصافی کی اور کہیں اس خاموش مایوسی کی، جو لوگوں کے چہروں پر جمتی جا رہی ہے۔ اور جمتے جمتے یہ ان کے چہروں کی دوسری کھال بن چکی ہے۔

یہ رات سڑکوں پر چلتی ہے، چوراہوں پر رُکتی ہے اور سرکاری عمارتوں کے باہر دیر تک کھڑی رہتی ہے۔ کبھی یہ عدالتوں کی سیڑھیوں پر بیٹھ جاتی ہے، کبھی پارلیمنٹ کی راہداریوں میں بھٹکتی ہے اور کبھی بازاروں میں گھومتی ہوئی عام آدمی کی جیب ٹٹولنے لگتی ہے۔

میرے شہر میں یہ رات بہت طویل ہو گئی ہے۔

گلیوں میں روشنی اب بھی جلتی ہے، بازار اب بھی کھلے رہتے ہیں، ٹی وی اسکرینوں پر بحثیں اب بھی جاری رہتی ہیں، لیکن ان سب کے باوجود ایک گہرا اندھیرا ہے جو لوگوں کے دلوں میں اتر چکا ہے۔ ایسا اندھیرا جسے صرف بجلی کے بلب روشن نہیں کر سکتے۔ حتیٰ کہ سورج بھی طلوع ہوتا ہے، لیکن یہ شبِ مردم گزیدہ گلیوں کوچوں میں دندناتی پھرتی ہے۔

ستم یہ ہے لیکن کہ شہر کے لوگ اب اس شبِ مردم گزیدہ کے ساتھ رہنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ وہ صبح اٹھتے ہیں، خبروں کے اخبارات کھولتے ہیں، اور پھر آہستہ آہستہ سمجھ جاتے ہیں کہ رات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ رات دراصل دن کے اندر بھی زندہ رہتی ہے۔

اس رات کا پاگل پن صرف اقتدار کی لڑائیوں میں نہیں، بلکہ اس خاموشی میں بھی ہے جو معاشرے کے اندر پھیل رہی ہے۔

لوگ اب چیختے نہیں، بس آہستہ آہستہ خاموش ہوتے جا رہے ہیں۔۔ اور جب ایک معاشرہ خاموش ہونا شروع ہو جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ رات واقعی بہت گہری ہو چکی ہے۔

ایک زمانہ تھا جب اس شہر کے درختوں پر امید کے پرندے بیٹھا کرتے تھے۔ تعلیمی اداروں میں خواب اگتے تھے۔ طلبہ کے چہروں پر سوال ہوتے تھے اور استادوں کی آنکھوں میں جواب۔۔ اب لیکن اس شہر کے درختوں پر خاموشی بیٹھی ہے۔

تعلیمی اداروں کے دروازوں پر سناٹا ہے، کتابوں کے صفحوں پر گرد ہے، اور سوال پوچھنے والے نوجوان اب احتیاط سے بولتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ اس رات کو کسی پاگل آدمی نے کاٹ لیا ہے، اور پاگل راتوں میں سوال پوچھنا خطرناک ہوتا ہے۔ آج ان سب کے درمیان ایک عجیب سا خوف پھیل گیا ہے۔ ایسا خوف جو لفظوں کو بھی محتاط بنا دیتا ہے۔۔ اور یہ احتیاط بالآخر خاموشی میں ڈھل جاتی ہے۔

اس شبِ مردم گزیدہ کے جسم میں پاگل کتے کے زہر کی طرح ایک بے قابو اضطراب دوڑ رہا ہے۔ اسی لیے کبھی اچانک شور مچتا ہے، کبھی اچانک خاموشی چھا جاتی ہے۔ کبھی امید کی کوئی چھوٹی سی چنگاری دکھائی دیتی ہے، اور پھر فوراً ہوا کا کوئی تیز جھونکا اسے بجھا دیتا ہے۔


یہ بھی پڑھیں

ایل فورٹی سیون: تورے بارو اور کراچی یونیورسٹی میں پڑھنے والے گڈاپ کے طلبہ (امر گل)


اس شہر میں لیکن ایک عجیب سی ضد بھی ہے۔

یہاں کچھ لوگ اب بھی چراغ جلاتے ہیں۔ کچھ استاد اب بھی سچ پڑھاتے ہیں۔ کچھ صحافی اب بھی سوال لکھتے ہیں۔ کچھ شاعر اب بھی اندھیرے کے خلاف لفظوں کے چھوٹے چھوٹے چراغ رکھتے ہیں۔

اور شاید یہی چراغ اس شبِ مردم گزیدہ کو سب سے زیادہ خوفزدہ کرتے ہیں، کیونکہ ہر شبِ مردم گزیدہ کے اندر کہیں نہ کہیں اس سحر کا خوف چھپا ہوتا ہے، جو زندگی سے لبریز ہے، زندگی کی رعنائیوں سے بھرپور ہے۔۔ وہ سحر جو صبحِ آزادی کی پیامبر ہے۔

وہ صبح جب آتی ہے تو پاگل پن ختم ہو جاتا ہے، زخم دکھائی دینے لگتے ہیں، اور لوگ سوال پوچھنا شروع کر دیتے ہیں۔

لیکن یوں لگتا ہے جیسے یہ رات صرف سیاہ نہیں بلکہ بیمار بھی ہے۔۔ اور بیمار راتیں لمبی ہوتی ہیں۔ طویل ہوتی ہیں۔۔ اور یہ رات بھی کوشش کرتی ہے کہ لمبی سے لمبی ہوتی جائے۔ طویل سے طویل تر ہوتی جائے۔

لیکن تاریخ کی کتابوں میں ایک بات بار بار لکھی گئی ہے: کوئی شبِ مردم گزیدہ ہمیشہ کے لیے نہیں رہتی۔ تاریخ کے پاس اس بات کی بہت سی گواہیاں موجود ہیں۔ کوئی رات ہمیشہ نہیں رہتی۔ چاہے وہ کتنی ہی تاریک کیوں نہ ہو، آخرکار کہیں نہ کہیں سے صبح کی ایک باریک لکیر نمودار ہو ہی جاتی ہے۔

مسئلہ صرف یہ ہے کہ یہ صبح خود بخود نہیں آتی۔ اس صبح کو لانا پڑتا ہے۔

وہ ان لوگوں کے ہاتھوں آتی ہے جو اندھیرے کے عادی نہیں ہوتے۔ جو سچ بولنے سے ڈرتے نہیں۔ جو اس شبِ مردم گزیدہ کو قسمت نہیں سمجھتے بلکہ اس کے علاج کے بارے میں سوچتے ہیں۔

میرے شہر کی اس طویل سیاہ رات، اس شبِ مردم گزیدہ کے بارے میں شاید سب سے خوفناک بات یہ نہیں کہ یہ تاریک ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم آہستہ آہستہ اس کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔

اور جب لوگ اندھیرے کے عادی ہو جائیں تو روشنی انہیں تکلیف دینے لگتی ہے۔ شاید اس لیے ہمیں اس رات کے پاگل پن سے زیادہ اپنے اندر پھیلتی ہوئی اس خاموشی سے ڈرنا چاہیے۔۔ کیونکہ اگر لوگ اندھیرے کو معمول سمجھنے لگیں،
تو پھر صبح صرف ایک کہانی بن کر رہ جاتی ہے۔


یہ بھی پڑھیں:

سمندر، ساحل کی سرحدوں کو ماننے سے انکار کر رہا ہے!

Tags:

Civil CourageCollective SilenceCrisis of GovernanceCultural ReflectionDark MetaphorDawn of FreedomEconomic InflationEducational Declineemotional narrativeFear in SocietyFreedom of Speechhope and resistanceHuman Rights AwarenessIntellectual ResistanceJudicial System CrisisLight vs DarknessLiterary EssayMedia DebatesModern Urdu Prosemoral awakeningNight of MadnessParliamentary PoliticsPolitical UnrestPower StrugglePsychological Darknesspublic consciousnessPublic Despairresistance literatureSilent SocietySocial CommentarySocial Crisissocial injusticeSocial ReformSymbolism in Urduunemployment crisisUrban AnxietyUrban DarknessVoice of TruthYouth Silenceآزادیٔ اظہاراجتماعی خاموشیاخلاقی بیداریادبی مضموناردو علامت نگاریاقتدار کی کشمکشامید اور مزاحمتانسانی حقوق آگاہیبے روزگاریپارلیمانی سیاستتاریک استعارہتعلیمی زوالثقافتی عکاسیجدید اردو نثرجذباتی بیانیہحکمرانی کا بحرانخاموش معاشرہروشنی اور اندھیراسچ کی آوازسماجی اصلاحسماجی بحرانسماجی تجزیہسیاسی بے چینیشبِ مردم گزیدہشہری اضطرابشہری اندھیراشہری حوصلہصبحِ آزادیعدالتی نظام بحرانعوامی شعورعوامی مایوسیفکری مزاحمتمزاحمتی ادبمعاشرتی خوفِمہنگائیمیڈیا مباحثےناانصافینفسیاتی اندھیرانوجوانوں کی خاموشی
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Malir River Sangat Mag
Previous

کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (قسط دوم)

iran war sangat mag
Next

سعودی فوجی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملہ، 12 امریکی اہلکار زخمی؛ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں تیزی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme