Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

شدید بارشوں کے بعد کراچی میں سبزیوں کے بحران کا خطرہ، سبزی منڈی ذرائع

By Akhtar Rasool
جولائی 28, 2022 3 Min Read
0

پاکستان کے مختلف علاقوں میں گذشتہ چند روز سے جاری مون سون کی شدید بارشوں کے بعد ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی سبزی منڈی میں سبزیوں کی رسد انتہائی کم ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے سبزیوں کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے

بیوپاریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سبزیوں کی رسد آنے والے کچھ ہفتوں تک پوری نہیں ہوسکے گی، جس سے قیمتیں بڑھنے اور سبزیوں کی مانگ میں بے پناہ اضافے کے باعث ’ایک نیا بحران‘ جنم لے سکتا ہے

ایم نائن سپر ہائی وی پر واقع کراچی کی مرکزی پھل اور سبزی منڈی کے بیوپاری محمد خالد کے مطابق ’23 جولائی سے شروع ہونے والی مون سون کی بارشوں کے باعث سندھ اور بلوچستان کے کئی اضلاع کو شدید متاثرہوئے ہیں جس کے باعث سبزیاں کراچی کی منڈی میں نہیں پہنچ رہیں۔‘

محمد خالد نے بتایا ’کراچی میں سندھ کے دیگر اضلاع اور دوسرے صوبوں سے آنے والی سبزیوں کی رسد میں 60 سے زائد فیصد کمی ہوگئی ہے۔ جس کے باعث قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔‘

ان کے مطابق ’پندرہ کلو والے ٹماٹر کی پیٹی جو کچھ روز قبل دو ہزار تک بک رہی تھی، وہ ان بارشوں کے بعد منگل کو ساڑھے تین ہزارسے چار ہزار روپے تک بیچی گئی، اس سے آپ اندازہ لگالیں کہ رسد کم ہونے سے قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔‘

محمد خالد کے مطابق کراچی میں سبزیاں سندھ کے دیگر اضلاع کے علاوہ تمام صوبوں سے لائی جاتی ہیں۔ جیسے آلو پنجاب کے ساہیوال اور دیگر اضلاع سے لایا جاتا ہے۔ ٹماٹر اور پیاز کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر شہروں سے کراچی لائے جاتے ہیں۔ جبکہ بدین، ٹھٹھہ، حیدرآباد اور صوبے کے دیگر اضلاع سے ہری سبزیاں جیسا کہ لوکی، توری، کریلا، ہری مرچ، کھیرا، دھنیا اور پودینہ لایا جاتا ہے

اس کے علاوہ بہت تھوڑی مقدار میں سبزیاں ملیر اور کراچی کی دیگر جگہوں سے بھی آتی ہیں، مگر ان کی مقدار بہت کم ہے

محمد خالد کے مطابق: ’شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورت حال کے بعد شاہراہیں بہہ جانے سے سندھ اور بلوچستان کا زمینی راستہ بند ہوگیا۔ اس کے علاوہ صوبے کے کئی اضلاع میں شدید بارش کے بعد فیصلیں زیر آب آگئی ہیں۔ جس سے کھیتوں میں کھڑی سبزیاں خراب ہو گئی ہیں۔‘

ان کے مطابق ’اب اگر سبزی کا ایک ٹرک آتا ہے تو پچاس بیوپاری کھڑے ہیں خریدنے کے لیے۔ جس کے بعد بولی لگتی ہے، اس طرح انتہائی مہنگے داموں سبزی خریدی جاتی ہے، اس لیے سبزی کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔‘

حالیہ بارشوں کے بعد بلوچستان میں جگہ جگہ سیلابی ریلوں کے باعث سڑکیں بہہ جانے سے کوئٹہ اور کراچی کا راستہ منقطع ہوگیا ہے

دوسری جانب پشاور کو کراچی سے ملانے والی انڈس ہائی وے کو ڈیرہ غازی خان اور تونسہ شریف کے درمیان چوکی والا کے مقام پر رود کوہی بہا کر لے گئی۔ جس کے باعث جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع اور پنجاب کے دیگر حصوں سے کراچی آنے والی سبزیوں کی ترسیل بھی نہیں ہوپا رہی

کراچی کے صدر ٹاؤن میں واقع امان ٹاور کے پاس سبزی فروخت کرنے والے دکان دار محمد ریاض نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا: ’یہ انتہائی خطرناک صورت حال ہے۔ شاہراہوں کے سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے بعد زمینی راستہ تو کچھ دنوں میں بحال ہوجائے گا۔ مگر جہاں سبزیاں کاشت کی تھی، وہاں پانی بھرنے کے بعد اب جب تک پانی خشک نہیں تب ہوتا تک دوبارہ کاشت ممکن نہیں، ایسے میں آنے والے وقت میں ایک بڑا بحران جنم لے سکتا ہے‘

’ایسی صورتحال میں قیمتوں کا بڑھنا عام بات ہے۔ میں نے کل پندغ کلو ٹماٹر کی پیٹی پانچ ہزار روپے میں خریدی، اس میں چار سے پانچ کلو خراب ٹماٹر نکلے۔ اب مجھے بتائیں کہ میں یہ کتنے ریٹ پر بیچوں؟‘

Tags:

Crops DestroyedHeavy RainPakistanSindhUrban FloodingVegetable Shortage
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

چین کا بے قابو راکٹ: زمین پرکہیں بھی گر سکتا ہے

Next

ایئر بلیو حادثے کو بارہ سال گزر گئے۔۔ کیا تحقیقات ہوئیں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme