Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

شو روم سے ملنے والی زیرو میٹر گاڑی میں بھی نقص نکل آئے تو کیا کرنا چاہیے؟

By Akhtar Rasool
مئی 17, 2022 6 Min Read
0

کراچی سے تعلق رکھنے والے اسد عظیم بیگ کا سوشل میڈیا پر کی گئی اپنی ایک وائرل پوسٹ میں کہنا ہے کہ ”ہم نے سوزوکی کی دو آلٹو کاریں کراچی کے ایک آٹو ڈیلر سے بک کی تھیں اور عید سے پہلے جب ہم گاڑیوں کی ڈیلیوری لینے پہنچے تو ایک گاڑی تو ٹھیک تھی لیکن دوسری گاڑی کے دروازے پینٹ ہوئے تھے۔ ہمیں کہا گیا کہ ایسا مسئلہ ہو جاتا ہے اور معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی گئی“

اسد عظیم بیگ لکھتے ہیں ”ہمیں عید سے پہلے گاڑی لینے کی جلدی تھی تو ہم گاڑی تو لے آئے لیکن عید کے بعد دوبارہ ڈیلر کے پاس گئے لیکن انہوں نے ہمارے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا۔ ہم نے سوزوکی کے کسٹمر کیئر سے بھی رابطہ کیا لیکن وہاں سے کوئی ردعمل نہیں آیا تو پھر ہم نے سوچا کہ ہم اس معاملے کو وائرل کرتے ہیں“

انہوں نے بتایا ”سوشل میڈیا پر معاملہ وائرل ہونے کے بعد ہمیں بلایا گیا تو ہم نے ان سے نئی گاڑی کا مطالبہ کیا لیکن وہ اس پر نہیں مانے اور پھر آخر میں ہم نے گاڑی کے دروازے تبدیل کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی“

اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ نہ صرف آٹو مینوفیکچر کمپنیوں پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے نظر آئے بلکہ کئی لوگوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے ایسے چند واقعات کا ذکر کیا اور اسد عظیم بیگ کو مشورہ دیا کہ وہ قانونی راستہ اختیار کریں

اسد عظیم بیگ کا کہنا ہے کہ متعلقہ ڈیلر نے گاڑی کے دورازے تبدیل کرنے کے لیے ان سے گاڑی واپس لے لی ہے، جو دو سے تین دن میں ان کو مل جائے گی

پاکستان میں نئی گاڑی کی خرید و فروخت سے متعلق سوشل میڈیا پر جاری بحث کے بعد یہ ضروری ہے کہ ملک میں کسی بھی کمپنی سے زیرو میٹر گاڑی خریدتے ہوئے کچھ چیزوں کو مدِ نظر رکھنا چاہیے اور اگر کسی شخص کو نقص کی حامل گاڑی ڈیلیور کر دی جاتی ہے، تو اسے کمپنی کے خلاف قانونی اقدامات کے بارے میں بھی علم ہونا چاہیے

حیرت انگیز طور پر پاکستان میں گاڑیوں کی خرید و فروخت کی معروف ویب سائٹ ’پاک ویلز‘ کے چیف ایگزیکٹو سنیل منج دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان میں کوئی بھی گاڑی، جو زیرو میٹر کہہ کر فروخت کی جاتی ہے، وہ زیرو میٹر نہیں ہوتی

سنیل منج کہتے ہیں ”تمام آٹو مینوفیکچرنگ کمپنیاں فیکٹری میں 30-35 کلومیٹر کی ٹیسٹنگ کر کے کاروں کو ٹرک پر لوڈ کر دیتے ہیں، ٹرک پر سوار یہ گاڑیاں پھر ٹرک اڈے پر آتی ہیں (کیونکہ کار کیرئیر بڑا ہوتا ہے اور کمرشل ٹرانسپورٹ ہونے کی وجہ سے شہر کے اندر نہیں آ سکتا)۔ بہترین طریقہ تو یہ ہے کہ گاڑی جب اڈے پر آئے تو وہاں سے ایک ایک گاڑی کو سنگل کار کیرئیر سے شو روم پہنچایا جائے لیکن کیا یہ جاتا ہے کہ اڈے سے گاڑیاں چلا کر شوروم لائی جاتی ہیں“

سنیل منج کا کہنا ہے ”کوئی ایک نہیں بلکہ سب مینوفیکچررز ایسے ہی کرتے ہیں۔ جب یہ گاڑیاں ایسے سڑک پر چلا کر لائی جاتی ہیں تو اس بات کے امکانات موجود ہوتے ہیں کہ کوئی حادثہ رونما ہو سکتا ہے، کوئی موٹر سائیکل یا سائیکل والا یا دوسری گاڑی والا اس گاڑی کو ٹکر مار سکتا ہے‘

سنیل منج نے بتایا کہ ایسا ہونے کی صورت میں کمپنی یہ نہیں کرتی کہ اس گاڑی کی جگہ آپ کو نئی گاڑی دے بلکہ آپ کو وہی گاڑی مرمت کر کے دی جاتی ہے

سنیل کہتے ہیں ”باہر کے ملکوں میں جب آپ گاڑی خریدتے ہیں تو آپ ایک گاڑی پسند کرتے ہیں لیکن اس میں کوئی نقص دیکھ کر آپ جب یہ کہتے ہیں کہ مجھے دوسری گاڑی دے دیں تو وہ آپ کو شوروم میں کھڑی دوسری گاڑی دے دیتے ہیں کیونکہ وہ ساری گاڑیاں اوپن لیٹر پر ہوتی ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا“

انہوں نے کہا ”پاکستان میں نئی گاڑی خریدنے کے لیے آپ اپنا شناختی کارڈ دیتے ہیں تو آپ کے نام پر ہی وہ گاڑی بنائی جاتی ہے لیکن راستے میں آتے آتے اگر اس گاڑی کو کوئی نقصان پہنچ جائے تو آپ کو نئی گاڑی نہیں بلکہ اسی گاڑی کو پینٹ یا سپرے کر کے دے دیا جاتا ہے“

سنیل کہتے ہیں کہ یہ دراصل دھوکہ دہی ہے اور پاکستان میں اکثر ایسا ہوتا ہے۔ سنیل کا مزید دعویٰ ہے کہ پاکستان میں اگر سالانہ بنیادوں پر دو سے ڈھائی لاکھ گاڑیاں فروخت ہو رہی ہیں اور وہ ساری سڑک پر چل کر شو روم تک جا رہی ہیں تو اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ ان میں سے دس گاڑیوں کو کوئی نہ کوئی نقصان تو پہنچے گا

وہ کہتے ہیں ’کمپنی چھوٹے موٹے نقصان کی صورت میں آپ کو وہی گاڑی مرمت کر کے دے دیتی ہے لیکن بڑے نقصان کی صورت میں گاڑی تبدیل کی جاتی ہے‘

نقص والی گاڑی ڈیلیور ہونے سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے، اس سوال پر سنیل منج اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی کمپنی سے زیرو میٹر گاڑی لیتے ہوئے بھی ان پر اندھا اعتماد نہ کیا جائے

وہ کہتے ہیں ’گاڑی کی ڈیلیوری دینے سے پہلے آپ سے ایک فارم پر دستخط کرائے جاتے ہیں تو وہ سائن کرنے سے پہلے گاڑی کی اچھے طریقے سے جانچ کر لیں. شوروم سے گاڑی لے کر نکلتے ساتھ ہی کمپنی کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے اس لیے آنکھیں کھول کر گاڑی کا معائنہ کریں، اسے اچھے طرح سے چیک کریں‘

انہوں نے کہا ’گاڑی خریدتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس پر پینٹ تو نہیں ہوا، اصل اور دوبارہ پینٹ میں فرق معلوم ہونا چاہیے، دروازے چیک کریں، گاڑی کے کارنر چیک کریں، اگر گاڑی میں آڈیو سسٹم موجود ہے، تو اس کے ریمورٹ تک کو چیک کریں، انوائسز اور ورانٹی بک بھی چیک کریں‘

سنیل منج کہتے ہیں ”پاکستان میں بد قسمتی سے زیرو میٹر گاڑی کو بھی ایسے ہی چیک کرنا ہوتا ہے، جیسے پرانی گاڑی کو خریدتے وقت آپ مختلف چیزیں دیکھتے ہیں“

لیکن ایک عام صارف ان باریکیوں کو کیسے پرکھ سکتا ہے؟ اس حوالے سے سنیل منج کہتے ہیں کہ نئی گاڑی کی ڈیلیوری لینے کے وقت اپنے ساتھ کسی ایسے فرد کو لے کر جائیں، جو ان باریکیوں کو سمجھتا ہو

سنیل منج نے مزید بتایا کہ اگر آپ کے ساتھ گاڑی کی ڈیلیوری کے وقت ساتھ جانے والا کوئی شخص نہیں تو پھر بہت سی پروفیشنل کمپنیاں بھی موجود ہیں، جو گاڑی کے معائنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں

وہ کہتے ہیں ’اس سہولت کا استعمال کرتے ہوئے آپ گاڑی کی ڈیلیوری سے قبل اس کا معائنہ کرا سکتے ہیں۔ اگر آپ نئی گاڑی بھی لینے جا رہے ہیں تو انسپیکشن ٹیم کو بلائیں اور اس سے گاڑی کا معائنہ کرائیں اور پھر گاڑی کی ڈیلیوری لیں‘

لیکن ان تمام احتیاطوں کے باوجود بھی اگر کسی کسٹمر کو کسی نقص کے ساتھ گاڑی ڈیلیور ہو جاتی ہے تو اس کے بعد وہ کیا قانونی راستہ اختیار کر سکتا ہے؟ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ہائی کورٹ کی وکیل فاطمہ بٹ کہتی ہیں کہ جب ایک صارف کسی کمپنی سے کوئی بھی چیز یا شے خریدتا ہے اور اس میں کوئی نقص نکل آئے یا وہ چیز کمپنی کے بتائے ہوئے معیارات پر پوری نہ اترتی ہو تو، صارف اس کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی کر سکتا ہے

فاطمہ بٹ نے بتایا ’اس کے لیے کنزیومر پروٹیکشن کا قانون موجود ہے۔ اس حوالے سے وفاق کا اپنا قانون جبکہ صوبائی سطح پر بھی قانون موجود ہیں‘

وکیل فاطمہ بٹ بتاتی ہیں کہ جب آپ کو اس بات کا پتا چل جائے کہ پراڈکٹ میں کوئی نقص ہے یا اس کی کوالٹی وہ نہیں، جس کا کمپنی نے دعویٰ کیا تھا تو آپ پندرہ دن کے اندر اندر متعلقہ کمپنی کو لیگل نوٹس بھیج سکتے ہیں۔ کمپنی قانونی طور پر ان پندرہ دن کے اندر آپ کو جواب دینے کی پابند ہے‘

’اگر کمپنی آپ کے لیگل نوٹس کا جواب نہیں دیتی تو آپ اپنا کیس کنزیومر کورٹ میں لے کر جا سکتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ سطح پر ہر صوبے میں کنزیومر کورٹ موجود ہیں‘

وکیل فاطمہ بٹ نے مزید بتایا کہ ’عدالت متعلقہ کمپنی کو بلا سکتی ہے، نوٹس جاری کر سکتی ہے، عدالت کمپنی کو یہ حکم دے سکتی ہے کہ وہ اس پراڈکٹ کو تبدیل کر کے صارف کو نئی چیز دے، جس میں کوئی نقص نہ ہو لیکن اگر پراڈکٹ تبدیل نہیں ہو سکتی تو کمپنی صارف کو جرمانہ ادا کرے۔ یہاں تک کہ اگر کمپنی صارف کے نقصان کا ازالہ نہیں کرتی تو عدالت کمپنی کے مالکان کو سزا بھی سنا سکتی ہے‘

فاطمہ بٹ کہتی ہیں ”کنزیومر پروٹیکشن کا قانون صرف گاڑیوں یا بڑی چیزوں پر ہی نہیں بلکہ کسی بھی کمپنی سے خریدی گئی چھوٹی سے چھوٹی چیز پر بھی لاگو ہوتا ہے“

Tags:

CarsNew CarsPakistanSuzaki
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پاکستان کے کن کن وزرائے اعظم کو اپنے قتل کیے جانے کا خدشہ رہا؟

Next

منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہوسکتا، تاحیات نااہلی کا فیصلہ پارلیمان کرے، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme