Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

عطا آباد حادثے کے 12 سال: ماحولیاتی نقصان کا خدشہ

By Akhtar Rasool
جنوری 25, 2022 5 Min Read
0

گلگت – ایک قدرتی آفت کے نتیجے میں گلگت بلتستان میں بننے والی عطا آباد جھیل کو وجود میں آئے بارہ برس بیت چکے ہیں۔ اس دوران یہاں سیاحت کا بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے، جس سے ماحولیاتی آلودگی کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں

یاد رہے کہ یہ جھیل چار جنوری 2010ع کو عطا آباد نامی گاؤں کے قریب پہاڑ سرکنے (لینڈ سلائیڈنگ) اور دریائے ہنزہ کے بلاک ہونے سے وجود میں آئی تھی، جس میں بیس افراد ہلاک اور چھ ہزار سے زائد بے گھر ہو گئے تھے

اس حادثے میں گوجال سب ڈویژن سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا، جہاں ایک سو ستر سے زیادہ گھر اور ایک سو بیس سے زیادہ دوکانیں سیلاب کی زد میں آگئیں تھیں، جبکہ شاہرائے قراقرم کے بند ہونے سے خوراک اور دیگر ضروری ساز و سامان کی قلت بھی پیدا ہو گئی تھی

مقامی رہائشی امجد علی بتاتے ہیں کہ اس حادثے میں ان کے دو گھر اور کئی ایکڑ زمین زیر آب آگئی، مگر معاوضہ اس لحاظ سے نہیں ملا

انہوں نے بتایا ”جب یہ حادثہ پیش آیا اور یہ جھیل بن گئی، تو حکومت کی طرف سے ہمیں صرف چھ لاکھ روپے ملے تھے، باقی کچھ نہیں۔“

ان کا کہنا تھا کہ مختلف امدادی تنظیموں اور چین تک سے متاثرین کی امداد آئی، جس کے بعد لوگوں نے واپس اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی کوشش کی

امجد علی کا کہنا ہے کہ جھیل کے سیاحتی مرکز بننے کے ساتھ ہی یہاں کاروبار کا آغاز ہوا۔ اب یہاں چلنے والی زیادہ تر کشتیاں مقامی لوگوں کی ہیں، جبکہ کئی دکانیں اور ہوٹلز باہر سے آئے ہوئے لوگ چلاتے ہیں

انہوں نے بتایا کہ مقامی لوگ جھیل کے پاس اپنی زمینیں بیچ کر گلگت، اسلام آباد یا کراچی میں جائدادیں خرید چکے ہیں

حادثے کے بعد مقامی افراد نے سماجی کارکن بابا جان کی سربراہی میں متاثرین کے حق میں ایک مہم چلائی تاکہ انہیں ان کا حق اور معاوضہ مل سکے

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی، جب 11 اگست 2010 کو علی آباد کے علاقے میں متاثرین کے ایک مظاہرے کے دوران پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص اور ان کا بائیس سالہ بیٹا ہلاک ہوگیا، جس کے بعد مشتعل مظاہرین نے مقامی پولیس تھانے کو نذر آتش کر دیا تھا

بابا جان نے اس قتل کے خلاف بھی ایک مہم چلائی تھی اور اس کے ذمہ داروں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا، تاہم بابا جان کے خلاف ہی جلاؤ گھیراؤ کے الزام میں دہشت گردی کے مقدمات درج کرکے انہیں گرفتار کر لیا گیا

انہیں مقامی عدالت نے دہشت گردی اور لوگوں کو بھڑکانے کے الزام میں 71 برس قید کی سزا سنائی، جسے قریب دس سال بعد معطل کر کے بابا جان کو گذشتہ سال جیل سے رہا کر دیا گیا

عطا آباد حادثے کے بارہ سال پورے ہونے پر بابا جان نے خود پر درج مقدمات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’بے بنیاد ہیں۔‘

ان کے بقول جس دن احتجاج میں فائرنگ ہوئی، وہ وہاں موجود ہی نہیں تھے، بلکہ کہیں اور کسی جلسے میں خطاب کر رہے تھے

ان کا کہنا تھا ’باقی وقت ہی بتائے گا کون صحیح تھا، کون غلط۔‘

گلگت سے تعلق رکھنے والے بابا جان کا کہنا ہے کہ جو نقصان عطا آباد والوں کو ہونا تھا وہ ہو گیا، لیکن حکومت نے اس کے عوض چھ لاکھ روپے فی کس ادا کیے۔ باقی کچھ نہیں ہوا

ان کا کہنا تھا کہ جس عطا آباد جھیل سے سیاح لطف اندوز ہو رہے ہیں، اس کے نیچے لوگوں کی گھر بار، جائیداد اور یادیں سب کچھ دفن ہیں

انہوں نے کہا ”جن کے گھر ڈوبے تھے وہ تو بے گھر ہوگئے، اور جب حق مانگنے کی کوشش کی تو ان کے اوپر جھوٹے کیسز بنائے گئے، وہ بھی دہشت گردی کے۔ اپنا حق مانگنا کیا دہشت گردی ہوتا ہے؟“

ان کا کہنا تھا کہ حکومت مالی امداد دینے کے ساتھ ساتھ تربیت دیتی اور ہنر سکھاتی تو وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاتے

بابا جان کہتے ہیں ”اب جو جھیل وہاں کا سیاحتی مرکز بن گئی ہے وہاں سے بھی مقامی لوگوں کو فائدہ ہوتا، لیکن ایسا نہیں ہے۔ وہاں کی زمینیں سرمایہ داروں نے خریدی ہیں اور غریب لوگ وہاں سے ہجرت کرکے چلے گئے ہیں۔ دوسرے سرمایہ کار لوگوں نے عطا آباد کی زمینیں اونے پونے دام میں خرید لی ہیں۔“

ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاحتی مرکز بنی جھیل کی صفائی کا کوئی خیال نہیں کیا جا رہا. لوگ جو گند جھیل میں پھینک رہے ہیں وہ پانی میں شامل ہو رہا ہے ۔ ماحولیات پر کام کرنے والوں نے پہلی ہی اسے مستقبل کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے۔ یہ پانی زہر سے کم نہیں ہے

بابا جان نے بتایا کہ ڈبلیو ڈبلیو ایف نے گلگت بلتستان کی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) کو خبردار کر دیا ہے کہ عطا آباد میں ہوٹل تو بنے ہیں لیکن پانی کی نکاسی کا کوئی محفوظ نظام نہیں ہے۔ ہوٹلوں سے نکلا ہوا گندا پانی جھیل کے پانی میں شامل ہو رہا ہے، اور کئی کشتیاں وہاں چل رہی ہیں، جو ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہی ہیں

اس سلسلے میں ای پی اے گلگت بلتستان سے رابطہ کیا گیا تو ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ ادارے کو ڈبلیو ڈبلیو ایف کی رپورٹ مل چکی ہے

ان کا کہنا تھا: ’ماحولیات کے لحاظ سے ہم خود بھی محتاط ہیں، کیونکہ عطا آباد جھیل سے جو پانی نکلتا ہے وہ نشیبی علاقوں میں پینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔‘

عہدیدار کے مطابق: ’ہم کشتیوں کی باقاعدہ چیکنگ کرتے ہیں تاکہ آئل یا انجن آئل پانی میں نہ گرے۔ اس کے علاوہ اس علاقے میں سیورج لائن نہیں ہوتے، بلکہ ٹینک ہوتے ہیں۔ گٹر کے پانی کا اخراج ان ٹینکوں میں ہوتا ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’ہم ہوٹلوں اور کشتیوں کی باقاعدہ چیکنگ کرتے ہیں۔ جو کوئی بھی خلاف ورزی کرتا ہے اس کے خلاف بھرپور کاروائی کرتے ہیں۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کئی ہوٹلز کئی کئی مہینے بند رہے ہیں۔‘

عہدیدار کے مطابق مقامی انتظامیہ کی نگرانی میں ایک کمیٹی بھی بنی ہے، جس کا ایک رکن ای پی اے سے بھی ہے۔ ’باقی جو بھی کوتاہیاں ہوتی ہیں، اس کے بھرپور آزالے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

ماحولیاتی نقصان پر رہائشی امجد علی نے کہا کہ سیاحت سے لوگوں کی روزی روٹی چل رہی ہے تو اسے مکمل طور پر نہیں ختم ہونا چاہیے

امجد علی کہتے ہیں ”ہر کام منصوبہ بندی کے تحت ہونا چاہیے۔ کام بھی ہو، سیاحت بھی ترقی کرے اور ماحول بھی خراب نہ ہو۔ اس سلسلے مقامی انتظامیہ کو سوچنا چاہیے۔ مقامی کمیونٹی کے ساتھ مل کر لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔“

Tags:

Atta abadEnvironmentGilgitPakistan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کیا نوازشریف کو واپس لانے کے لیے خط و کتابت ضروری ہے؟

Next

برطانیہ کے سابق اسٹار فٹ بالر مائیکل اوون کی اسلام آباد آمد، لیاری بھی آئیں گے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme