Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Israeli-Guantanamo-experiments-on-more-than-4000-Palestinian
کالماہم ترینتازہ ترین

فی قیدی تین چمچ چاول

By Akhtar Rasool
اگست 11, 2024 5 Min Read
0

چند ہفتے قبل اسی صفحے پر ’’اسرائیلی گوانتانامو‘‘ کے عنوان سے فوج کے زیرِانتظام سدی تیمان کیمپ میں چار ہزار سے زائد فلسطینی قیدیوں پر ہر طرح کے اذیتی تجربات آزمائے جانے کا تفصیلی تذکرہ کیا گیا تھا۔ اس بابت ایک وکیل کے روبرو ایک قیدی کے شہادتی بیان کا خلاصہ بھی اس کالم کا حصہ تھا۔ تب تک اب تک پچپن دیگر فلسطینی قیدی رہائی کے بعد میڈیا کو خبردار کر چکے ہیں کہ اسرائیلی جیلوں بالخصوص سدی تیمان کیمپ کی خاردار تاروں کے پیچھے کیا قیامت برپا ہے، مگر ان بیانات کی سنجیدہ چھان پھٹک کے بجائے مغربی ذرایع ابلاغ نے حسبِ معمول روائیتی واویلا فرض کر کے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔

حالانکہ ان روح فرسا واقعات کی بازگشت انسانی حقوق کی فلسطینی، اسرائیلی و بین الاقوامی تنظیموں کے دفاتر سے اسرائیلی سپریم کورٹ تک ہر جگہ پچھلے کئی ماہ سے سنائی دے رہی ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں سات اکتوبر کے بعد سے جاری غیر انسانی سلوک کے سبب جو ساٹھ سے زائد اموات ہوئی ہیں۔ان میں سے صرف سدی تیمان کیمپ میں اب تک چھتیس فلسطینی قیدی مار دیے گئے ہیں۔ دو ہزار آٹھ اور چودہ میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دوران بھی اس کیمپ میں سیکڑوں فلسطینیوں کو رکھا گیا۔

اب ایک لیک وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ اسے اسرائیل کے چینل بارہ پر ایک رپورٹ کی شکل میں دکھایا گیا ہے۔ لگ بھگ تیس فلسطینی قیدی گودام نما ہال میں اوندھے بندھے پڑے ہیں۔ سب کی آنکھوں پر پٹی ہے۔ کیمپ کی حفاظت پر مامور اسرائیل کے ریزرو یونٹ نمبر ہنڈرڈ کے دس سے گیارہ فوجی اس ہال میں داخل ہوتے ہیں اور ایک قیدی کو بازؤوں سے پکڑ کے ہال کے ایک کونے میں لے جاتے ہیں۔ ان فوجیوں نے نگراں کیمروں سے بچنے کے لیے اپنے اوپر حفاظتی ڈھالیں تانی ہوئی ہیں۔ دوسرے منظر میں لیٹے ہوئے قیدی کے اوپر تین ڈھالیں ہیں اور ان کے سائے تلے جو دو فوجی نظر آ رہے ہیں وہ کوئی کارروائی کر رہے ہیں۔

جب اس قیدی کو کئی گھنٹے بعد حالت انتہائی غیر ہونے کے سبب جیل کے اسپتال پہنچایا جاتا ہے اور ڈاکٹر معائنہ کرتے ہیں تو خود انھیں یقین نہیں آتا کہ کس طرح کوئی نوکیلی دھاتی شے کسی انسان کی پشت میں ایسے گھسائی جائے کہ اس کی انتڑیاں تک ادھڑ جائیں اور مسلسل خون رسنے سے دھڑ مفلوج ہو جائے۔

جب خاردار تاروں کے پار کی دنیا نے یہ وڈیو رپورٹ دیکھی تو عراق کی ابوغریب جیل اور گوانتانامو میں تشدد کو اگلے لیول تک پہنچانے والے ملک امریکا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر کو بھی اعتراف کرنا پڑا کہ شاگرد (اسرائیل ) گرو ( امریکا ) سے اس میدان میں بھی بازی لے گیا ۔ ترجمان نے میڈیا کا منہ بند کرنے کے لیے کہا کہ قیدیوں کے انسانی حقوق کی پامالی اور ریپ جیسی اذیتوں کی بابت امریکا کی پالیسی ’’زیرو عدم برداشت‘‘ ہے۔ امید ہے اسرائیلی فوج کا محکمہ انصاف مجرموں کو جلد از جلد کیفرِ کردار تک پہنچائے گا۔

مگر خود اسرائیل میں کیا ہوا؟ ملٹری پولیس نے سدی تیمان کیمپ میں متعین دس ریزرو فوجیوں کو حراست میں لے لیا۔ان میں سے تین کو رہا کر دیا گیا۔ باقی سات کے خلاف ہنوز چھان بین جاری ہے اور باضابطہ فردِ جرم دو ہفتے بعد بھی عائد نہیں ہو پائی۔سیکڑوں اسرائیلی شہریوں نے سدی تیمان کیمپ کو گھیرے میں لے لیا۔انھوں نے قومی جھنڈے بلند کیے ہوئے تھے اور گرفتار ’’ریپ ہیروز‘‘ کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔

سرکردہ اسرائیلی رباعی ایال کارم نے دو ہزار دو میں فتوی دیا تھا کہ حالتِ جنگ میں دشمن کی عورتوں کا ریپ جائز ہے۔دس برس بعد انھوں نے کہا کہ ان کے فتوی کو غلط معنی پہنائے جا رہے ہیں۔ دو ہزار سولہ میں ایال کارم کو اسرائیلی فوج کا چیف رباعی مقرر کر دیا گیا۔ وہ آج تک مسند پر براجمان ہیں اور اسرائیلی فوجی اقدامات کو توراتی تعلیمات کی روشنی میں پرکھنے کی زمہ داری نبھا رہے ہیں۔

ان حالات میں سدی تیمان کے دس ریپسٹس کے خلاف زیادہ سے زیادہ کیا کارروائی ہو گی۔یہ سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ۔ ویسے بھی ریاستی سطح پر گزشتہ چھہتر برس سے یہ دعویٰ متواتر ہے کہ اسرائیل کی فوج اخلاقی اقدار کی پاسداری کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بااخلاق سپاہ ہے۔ ہر اسرائیلی شہری اس دعوی پر یقین بھی رکھتا ہے۔ ان پریقین لوگوں میں وہ سیکڑوں شہری بھی شامل ہیں جو گرفتار ریپسٹ فوجیوں کی رہائی کے حق میں قومی جھنڈے اٹھائے مظاہرے کر رہے ہیں۔

اگر انتہائی ’’بااخلاق فوج‘‘ لاکھوں لوگوں کو گھروں سے بے دخل کر کے سرحد پار دھکیل سکتی ہے، ہزاروں عورتوں بچوں کو غیر معینہ عرصے تک قید رکھ سکتی ہے۔نسل کشی کے لیے ہردم تیار ہے اور ریپ سمیت ہر ممکن ہتھیار آزما سکتی ہے تو سوچئے اگر یہی فوج ’’ بداخلاق ‘‘ ہوتی تو کیا کیا نہ کرتی ؟

یہ کوئی ایک قید خانے کی داستان نہیں۔ سب جانتے ہیں کہ اسرائیل کو اس وقت غزہ نامی دنیا کی سب سے بڑی جیل میں بند تئیس لاکھ قیدیوں کی زندگیوں سے کھیلنے اور بھوک پیاس اور دواؤں کے قحط سے مارنے کی کس قدر لامتناہی کھلی چھوٹ ہے۔

عالمی ادارہِ صحت تصدیق کر چکا ہے کہ غزہ جہاں اب صرف غلیظ پانی ہی دستیاب ہے۔ اس پانی میں پولیو وائرس پھل پھول رہا ہے اور غزہ کے بچوں کے لیے ہنگامی طور پر ایک ملین ویکسین خوراکیں بھیجنے کے لیے فوجی کارروائی میں وقفہ ضروری ہے۔مگر اس بارے میں اسرائیل پر کسی طرف سے دباؤ نہیں کہ وہ اربوں ڈالر کے کامیاب عالمی منصوبے کے غیر معمولی ثمرات کو خطرے میں نہ ڈالے جس کے نتیجے میں سوائے پاکستان اور افغانستان ہر جگہ سے پولیو مٹایا جا چکا ہے۔

جو قیدی باقاعدہ جیلوں میں بند ہیں انھیں بھی مٹانے کے لیے ’’ گیم آف ہنگر ‘‘ عروج پر ہے۔

کسی بھی جیل میں بین الاقوامی ریڈ کراس کا داخلہ بند ہے۔اندر کی خبریں یا تو چھوٹنے والے قیدیوں یا ضمیر کے ہاتھوں نوکری چھوڑنے والے گنتی کے پہرے داروں کے ذریعے رستی رستی پہنچ جاتی ہیں۔مثلاً ایک جیل سے باہر آنے والے ایک زندہ قیدی عاطف اواد کے مطابق گیارہ قیدیوں کو روزانہ دو پلیٹ بھر چاول ملتے ہیں۔یعنی فی کس تین چمچے چاول۔عاطف جب قید سے نکلا تو اس کا وزن پچیس کلو تک کم ہو چکا تھا۔گھر والے بھی نہ پہچان پائے۔

اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزل سموترخ نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ جب تک اسرائیلی یرغمالی رہا نہیں ہوتے بیس لاکھ فلسطینیوں کو بھوکے مارنا جائز ہے۔یورپی یونین کے وزیر خارجہ جوزف بوریل اور جرمنی و فرانس کے وزرائے خارجہ نے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے نیتن یاہو حکومت سے وزیر کے بجائے وزیر کے بیان سے لاتعلقی کا مطالبہ کیا ہے ( ایک زوردارِ قہقہہ بر اشرافیہِ غرب )۔

ایسا نہیں کہ مسلمان ممالک اس المیہِ عظیم سے لاتعلق ہیں۔گزشتہ ہفتے جدہ میں اسلامی کانفرنس وزرائے خارجہ کے یک روزہ غیر معمولی ہنگامی اجلاس میں ایک بار پھر موئے اسرائیل کو اسی طرح بددعائیں دی گئیں جس طرح دوپٹے پھیلا پھیلا کے ردالیاں لاش پر بین کرتی ہیں۔

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس۔

Tags:

abu ghraib torture and prisoner abuse (event)caci (business operation)dark moneyhezbollah attack on israelimproves your listening skillsIsraelisrael (country)Israel Attackisrael gazaisrael hamas warisrael lebanon border tensionsisrael newsisrael palestineisrael palestine conflictisrael palestine newsisrael palestine warisrael warisraeli defense forcesisraeli police clash with palestinianisraeli--palestinian conflict (event)israeli-palestinian conflictl-3 communications (business operation)learn while on the movelebanon israel tensionspalestine and israelpalestine vs israelPalestinianpalestinian familiespalestinian territories (country)Palestinianspolitical moneypresident obama cabinetrepublican national conventionrepublican national convention 2024republican national convention 2024 day 3war in israel explainedwar on terror
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Many-owners-of-victory-come-out-and-defeat-is-always-left-behind-The-story-of-Arshad-Nadeem-the-son-of-a-laborer-father-who-reached-the-world-record
Previous

’فتح کے کئی مالک نکل آتے ہیں اور شکست ہمیشہ لاوارث رہتی ہے۔‘ مزدور باپ کے بیٹے ارشد ندیم کی عالمی ریکارڈ تک پہنچنے کی کہانی

Ten-Lessons-to-Learn-from-the-Book-The-Laws-of-Human-Nature
Next

کتاب ‘دی لاز آف ہیومن نیچر’ سے سیکھنے کے لیے دس اسباق

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme