Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

لاہور کے نجی اسکول میں طالبات کا ساتھی طالبہ پر تشدد: واقعے کے نفسیاتی اور سماجی عوامل پر بحث چھڑ گئی

By Akhtar Rasool
جنوری 22, 2023 8 Min Read
0

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے ایک نجی اسکول میں تین نوعمر طالبات کی جانب سے اپنی ایک ساتھی طالبہ پر تشدد کے واقعے کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے دو دن بعد بھی اس پر خوب بحث جاری ہے

ہفتے کے روز لاہور کی ایک مقامی عدالت نے صوبائی دارالحکومت کے ایک نجی اسکول میں ایک طالبہ پر مبینہ تشدد کرنے والی تین نوعمر طالبات کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی تھی

اس حوالے سے جج نے معاملے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے پولیس کو اس واقعے میں ملوث تینوں طالبات کو 30 جنوری تک گرفتار نہ کرنے کے احکامات جاری کیے تھے

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر شروعات میں تو وڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سے صارفین جذبات میں آ کر ان لڑکیوں کو کڑی سزائیں دینے کی بات کرتے رہے تاہم وقت کے ساتھ کچھ وکلا اور دیگر صارفین کی جانب سے اس بارے میں ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کی تجویز دی گئی

وکیل صلاح الدین اس بارے میں لکھتے ہیں ”اس واقعے کی ایف آئی آر بھی درج ہو چکی ہے؟ سزا کے طور پر ہفتہ بھر کے لیے معطلی اور ایک ہی جملہ ایک ہزار مرتبہ لکھنے کی روایت ختم ہو چکی ہے؟“

گلوکارہ حدیقہ کیانی نے ٹوئٹر پر اس واقعے پر تفصیل سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ”اس طرح سے رونما ہونے والے ان تمام واقعات کے بارے میں سوچیں، جن کی وڈیو نہیں بن پاتی مگر ہمارے بچوں کا ایسی صورتحال کا ہر روز سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح کے واقعات کو ہم اسے اس طرح نہیں جانے دے سکتے۔ اپنے بچوں سے بات کریں، ان کی توجہ حاصل کریں اور شفقت سے ان کی نگہبانی کریں۔۔۔ اپنے بچوں کا تحفظ کریں اور انہیں دنیا کا سامنا کرنے کے لیے مضبوط بنائیں“

کچھ صارفین نے اسے ’ایلیٹ کلاس‘ کے مسئلے کے طور پر پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان ہی بچوں میں سے اکثر کل بیوروکریسی، عدلیہ اور دیگر اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوں گے

کچھ صارفین نے اگر اس واقعے کی تھانے اور کچہری تک پہنچنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، تو وہیں صارفین نے نوعمر طالبات کو قبل از گرفتاری ضمانت ملنے پر عدلیہ پر تنقید کی ہے

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وڈیوز اور پھر ان پر ہونے والے تبصروں کی طرح اس وڈیو سے متعلق کئی زاویوں سے گفتگو ہو رہی ہے

کچھ صارفین کو یہ شکوہ بھی ہے کہ جب کوئی معاملہ سوشل میڈیا کے دور میں کسی معاملے پر غم و غصے کا اظہار کرنے سے لائیکس تو ملتے ہیں لیکن اصل مسئلے سے توجہ ہٹ جاتی ہے

صارفین کی بڑی تعداد جہاں یہ وڈیو کو شیئر کر کے اس واقعے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہی ہے، وہیں ایسے صارفین بھی موجود ہیں، جنھلہوں نے اس طرح کے واقعات سے نمٹنے کے لیے کچھ عملی تجاویز بھی دی ہیں

صحافی ضرار کھوڑو نے صارفین سے ٹوئٹر پر یہ درخواست کی کہ وہ ان طالبات کے رہائشی پتہ ظاہر نہ کریں

اس حوالے سے دیگر صارفین کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان طالبات کے نام بھی خفیہ رکھنے چاہییں کیوںلنکہ اس سے ان کی زندگیوں پر اثر پڑ سکتا ہے

سید احمد حسن شاہ نامی صارف نے لکھا کہ گھر، اسکول اور معاشرے میں اصلاحی رویے کی ضرورت ہے

ان کے مطابق اس واقعے کا منفی پہلو صرف طالبات کا ایک ساتھی طالبہ پر تشدد کرنا ہی نہیں بلکہ واقعے کی جگہ پر وہاں موجود تماشہ دیکھنے والوں کا کردار بھی قابل گرفت ہے، جو اس پر خوش ہو رہے تھے اور وہ اس واقعے کو روکنے کے بجائے ویڈیو بنانے اور اپ لوڈ کرنے میں مشغول تھے

علی حفیظ نامی صارف نے لکھا کہ اس واقعے پر غفلت کی مرتکب اسکول کی انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لینے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے ایک طالبہ کی جان خطرے میں تھی

ان کے مطابق ’ابھی تک اس اسکول کی طرف سے اس واقعے پر کوئی معافی نہیں مانگی گئی اور نہ ہی میں نے یہ دیکھا کہ طلبہ کی ذہنی اور جسمانی صحت سے متعلق کوئی حفاظتی انتظامات اٹھانا اس سکول کے کلچر کا حصہ ہو۔‘

سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی شزا فاطمہ خواجہ نے سوالات اٹھائے اور پوچھا ’کب جبر ایک جرم بن جاتا ہے اور جبر اور تشدد میں کہاں فرق کیا جاتا ہے؟‘

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ایک صارف نے یہ بھی لکھا کہ ’بچوں کو سخت سزائیں دینے کی بات کرنے کی بجائے، اس بارے میں بات کریں کہ اصل مسئلہ کیا ہے۔‘

اس حوالے سے طالبات کو سزائیں دینے اور انہیں جیل بھیجنے کی بات کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے صارف مینا نے کہا ’میں نے پاکستان میں بچہ جیلوں کا حال بھی دیکھا ہے، وہاں ایک بچہ ریڑھی سے سیب چوری کرنے کے جرم میں چھ ماہ سے قید تھا۔‘

ایف آئی آر میں کیا لکھا گیا ہے؟

پاکستان میں سوشل میڈیا پر گذشتہ دو روز سے اس واقعے سے متعلق وڈیو کو بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے

اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تین نوعمر طالبات اپنی ایک ساتھی طالبہ کو تشدد کا نشانہ بنا رہی ہیں

متاثرہ طلبہ کے والد نے اس واقعے کے خلاف مقامی تھانے میں ایف آئی آر بھی درج کروائی ہے

ایف آئی آر میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ان کی بیٹی کو ساتھی طالبات نے منصوبہ بنا کر تشدد کا نشانہ بنایا، جس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے چند روز قبل ایک طالبہ کے والد کو ایک وڈیو بھیجی تھی، جس میں طالبہ کی جانب سے منشیات کے استعمال کی بات کی گئی تھی

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اس کی بنیاد پر اب اس طالبہ نے بدلہ لینے کے لیے دیگر دو طالبات کے ساتھ مل کر ان کی بیٹی کو ’جان سے مارنے‘ کی کوشش کی

مقدمہ درج ہونے کے بعد ان تین طالبات نے ایک مقامی عدالت سے رجوع کیا اور پچاس پچاس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ان کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی

لاہور کے ایک سینیئر پولیس افسر نے بتایا کہ اُن کے سامنے پہلی بار اس نوعیت کا مقدمہ آیا ہے اور انہوں نے احتیاط سے نہ صرف مقدمے کا اندراج یقینی بنایا بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ ان نوعمر طالبات کے مستقبل کو پولیس کارروائی سے نا قابل تلافی نقصان نہ پہنچے

ان کے مطابق یہ ایک عام ایف آئی آر سے ہٹ کر طالبات کا مسئلہ تھا، جو کہ ایک حساس نوعیت کا معاملہ ہے۔ چونکہ متاثرہ لڑکی کے والد نے ایف آئی آر میں طالبات کی جانب سے نشے کے استعمال اور اقدام قتل جیسے الزامات بھی عائد کیے ہیں، تو ان پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے

قانون اور ماہرین کیا کہتے ہیں؟

جہاں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر اس وڈیو کو شیئر کیا جا رہا ہے، وہیں بہت سے صارفین پاکستان کے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال اور نوعمر طلبہ تک اس کی رسائی کے معاملے پر بھی بحث کر رہے ہیں

خیال رہے کہ لگ بھگ چار ماہ قبل یعنی ستمبر 2022 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب کے تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا تھا

اس وقت ایک اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی خرید اور فروخت کی پاداش میں کم از کم دو برس قید اور زیادہ سے زیادہ عمر قید جیسی سزائیں جلد ہی متعارف کرائی جائیں گی

اس اجلاس میں پنجاب کے تعلیمی اداروں میں ایسی سرگرمیوں کی بیخ کنی کے لیے قانون سازی متعارف کرانے پر اتفاق ہوا تھا اور فیصلہ ہوا تھا کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کو روکنے کے لیے سخت قانون سازی کو یقنی بنایا جائے گا۔ اجلاس کے دوران یہ بھی بتایا گیا تھا کہ تعلیمی اداروں سے منشیات کے خاتمے کے لیے ایک آزاد ادارہ اور اینٹی نارکوٹکس پولیس سٹیشنز کا قیام عمل میں لایا جائے گا

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا تعلیمی اداروں میں ایسے واقعات قانون سازی سے حل کیے جا سکتے ہیں؟ اس حوالے سے لمز میں قانون پڑھانے والی ھبا اکبر کہتی ہیں ”چونکہ اس معاملے میں کم عمر لڑکیاں ملوث ہیں اس لیے یہی بہتر ہوتا کہ اس معاملے کی ایف آئی آر درج نہ کروائی جاتی اور اسکول اور گھر کی سطح پر ہی اسے حل کر لیا جاتا“

ان کے مطابق ”یہ قانونی سے زیادہ معاشرتی مسئلہ ہے۔ ایسے واقعات میں کہیں اسکول میں طالبات کا آن لائن جبر، ہراسانی اور منشیات کے استعمال جیسے مسائل سامنے آتے ہیں، مگر ان سب مسائل کا حل سزائیں نہیں“

ھبا اکبر کے مطابق پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی نے منشیات کے استعمال کو روکنے کے لیے قانون سازی سے متعلق بیانات دیے مگر مسئلہ یہ ہے کہ نارکوٹکس کے معاملے پر پہلے سے ہی پاکستان کے بہت سخت قوانین موجود ہیں اور ان کی روشنی میں ملک میں موجود ان مسائل پر قابو پانے کی ضرورت ہے اور یوں تعلیمی ادارے بھی اس طرح کی برائیوں سے بچ سکیں گے

ان کے مطابق ’ہم ہمیشہ سزاؤں کی طرف جاتے ہیں جبکہ ہمیں منفی رجحان کو معاشرتی اعتبار سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔‘

ھبا اکبر کے مطابق والدین کو اپنے بچوں سے ڈر کا تعلق رکھنے کے بجائے دوستی کا رشتہ استوار کرنا چاہیے تاکہ وہ اس پر بات کر سکیں۔ ان کے مطابق ’یہ تو کہا جاتا ہے کہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں مگر یہ نہیں کہا جاتا کہ بچوں سے دوستی رکھیں اور اگر وہ کسی معاشرتی دباؤ کی وجہ سے منشیات کے استعمال جیسے مسائل کا شکار ہیں تو پھر اسے شرم کا مقام نہ بنائیں بلکہ انھیں اعتماد دیں کہ وہ یہ سب بلاخوف شیئر کر سکیں۔‘

ھبا اکبر کے مطابق پاکستان جیسے معاشرے میں طالبات اس وجہ سے بھی اپنے مسائل پر بات نہیں کرتی ہیں کہ ’اگر گھر والوں کو پتہ چل گیا تو پھر وہ جلدی ان کی شادی کروا دیں گے یا دیگر پابندیاں عائد کریں گے۔‘

انگبیں مرزا لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ میں آفس آف ایکسیس ایبلٹی اینڈ انکلیوژن کی ڈائریکٹر ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ پورے معاشرے کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے

ان کے مطابق وہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں جو سب سے بڑی کمی محسوس کرتی ہیں وہ یہ ہے کہ یہاں سوک ایجوکیشن کا تصور نہیں ہے

انگبیں مرزا کے مطابق سوک ایجوکشن کے ذریعے بچوں کو بتایا جا سکتا ہے کہ آئین اور قانون کیا ہے اور اس پر عملدرآمد معاشرے کے آگے بڑھنے کے لیے کتنا اہم ہوتا ہے۔

’اختلاف کیسے کرنا ہے، معاشرتی ذمہ داریاں کیا ہیں، کسی کی بات بری لگے تو کیا کرنا ہے۔۔۔ یہ سکول کا کام بنتا ہے کہ وہ بچوں کو سوشلائز کریں اور مختلف موضوعات اور مسائل پر بحث کا آغاز کریں۔‘

پروفیسر عدنان فیصل اس بات سے متفق ہیں کہ مسئلہ قانون کا نہیں بلکہ قانون کی عملداری کا ہے اور اگر اس میں کوئی خامی ہے تو پھر سکول کی انتظامیہ کو کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے۔

ان کے مطابق قانون کے مطابق کسی تعلیمی ادارے کی حدود میں سگریٹ اور پان کی دکان بھی نہیں کُھل سکتی تو ایسے میں اگر سکول کے اندر تک منشیات پہنچ جائے تو پھر ایسے میں ہمارا مستقبل اندھیرے میں جانے کا خدشہ ہے۔

عدنان فیصل کے مطابق تعلیمی اداروں کی ذمہ داریوں میں سے ہے کہ وہ طلبہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت اور تحفظ پر بھی کام کریں۔

Tags:

cjp takes notice on use of drugs in educational institutesdeath in a schooldefence school lahore incidentdrug addiction in education institutionsdrug addiction in education institutions in pakistanDrugsdrugs in educational institutes |drugs in educational institutions of pakistandrugs in pakistandrugs in pakistani universitieseducational institutionsfellow students in a private schoolgirls ragging in lahoreLahorelahore dha school caselahore female student in dha schoollahore private schoollahore school girls viral videoprivate schoolprivate school in lahoreprivate school incidentprivate school raggingragging in schoolsaqib nisar notice on use of drugs in educational institutesSchoolschools in lahoresupply of drugs in educational institutions of pakistanteacher in multan beaten by studentsuse of drugs in educational institutesviolence of fellow studentsviolence student
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ری امیجننگ پاکستان سیمینار: ”پارٹیاں بہت ہیں، ہم کوئی نئی پارٹی نہیں بنا رہے“ شاہد خاقان عباسی

Next

سعودی عرب: میسی بمقابلہ رونالڈو صرف ٹریلر، فلم تو ابھی باقی ہے!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme