Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

ماحول دوست بایوپلاسٹک، جو  6 سے 12 ماہ میں گھل جائے گا

By Akhtar Rasool
اکتوبر 9, 2020 2 Min Read
0

ماحولیاتی ماہرین کے مطابق اس وقت پلاسٹک کی تھیلیاں اور ذرات کرہِ ارض کے لیے ایک ہولناک ماحولیاتی عفریت کی صورت اختیار کر چکے ہیں، اس سے نمٹنے اور اس کا متبادل پیش کرنے کے لیے عرصے سے کوششیں کی جارہی ہے ہیں، بالآخر اب جرمنی میں ایک ایسا بایوپلاسٹک تیار کر لیا گیا ہے جو کوڑے دان میں جا کر 6 سے 12 ماہ میں گھل کر ختم ہوجاتا ہے

عام طور پر روایتی پلاسٹک سے دو طرح کے مسائل جنم لیتےہیں، ایک تو وہ پیٹرولیم سے بنتا ہے، جس سے کاربن خارج ہوتا ہے اور دوم یہ کہ اگر اسے ری سائیکل کر بھی لیا جائے تو یہ اتنا اچھا متبادل نہیں بنتا

ممکن ہے کہ پلاسٹک کے حوالے سے یہ جان کر آپ حیران رہ جائیں کہ استعمال کے بعد پھینکا جانے والا پلاسٹک گھل کر ختم ہونے میں سینکڑوں سال لگا دیتا ہے.

اسی وجہ سے اب جرمنی میں واقع فرونیفر انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں نے ایک فالتو شے یعنی چربی اور لحمیات سے ماحول دوست پلاسٹک تیار کیا ہے۔ یہ پلاسٹک استعمال کے بعد 6 سے 12 ماہ کے دوران گھل کر ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے لیے ماہرین نے صنعتوں سے حاصل شدہ چکنائیاں جمع کیں جن میں پلاسٹک جیسی معدن پائی جاتی ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق اسے بنانے کا طریقہ قدرے پیچیدہ ہے۔ یعنی پہلے فرمنٹیشن چیمبر میں چربی اور چکنائیوں کو ڈالا جاتا ہے، پھر ان میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بیکٹیریا ملایا جاتا ہے جو اسے پولی ہائیڈروکسی بیوٹرائٹ (پی ایچ بی) میں تبدیل کر دیتا ہے لیکن بیکٹیریا ان کے اندر موجود رہتا ہے

اس عمل کے بعد بعض کیمیکل ڈال کر اسے سخت کر لیا جاتا ہیں جس کے بعد یہ پالیمر پلاسٹک کی صورت اختیار کر کے مکمل طور پر پلاسٹک بن جاتا ہے۔  اب اگر استعمال کے بعد اسے کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیا جائے تو وہاں موجود بیکٹیریا اسے ایک سال کے اندر اندر گھلا دیں گے

بلاشبہ یہ ایک ماحول دوست پلاسٹک کی ایک قسم ہے جسے ابھی حتمی آزمائش سے گزارا جانا باقی

Tags:

Bio-plasticEnvironmentGlobal warmingNature
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پاکستانی طلبا نے چاول کا معیار جانچنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس سافٹ ویئر تیار کرلیا

Next

ﻭﯾﮉﯾﻮ ﺷﯿﺌﺮﻧﮓ ﺍﯾﭗ ﭨﮏ ﭨﺎﮎ کو ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪ کر دیا گیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme