وہ سمندر جو ہماری آنکھوں کے سامنے فنا ہو رہا ہے: بحیرۂ کیسپین کی دم توڑتی لہریں
بچپن کی یادیں اکثر شفاف پانیوں اور لہروں کے شور سے عبارت ہوتی ہیں، لیکن ایرانی ماحولیاتی صحافی مریم کے لیے اپنی جائے پیدائش کی یادیں اب ایک ڈراؤنا خواب بن چکی ہیں۔ شمالی ایران کے ساحلی شہر ’رودسر‘ میں پلنے بڑھنے والی مریم نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ بحیرۂ…
پرندوں کی ثقافتی زندگی: جبلت سے ’شعور‘ تک کا ایک حیرت انگیز سفر
ایک خاموش دنیا، جہاں روایتیں پنکھ پھیلائے پرواز کرتی ہیں۔ یہ کہانی اس سوال سے شروع ہوتی ہے جسے انسان نے صدیوں تک اپنے لیے مخصوص سمجھا: کیا ثقافت صرف انسان کی میراث ہے؟ کبھی جواب اثبات میں تھا، بالکل سیدھا، لیکن اب ایسا نہیں، کیونکہ اس کا جواب نفی میں ہے،…
ہریالی کی ہجرت اور عالمی زراعت کا نیا نقشہ: کیا دنیا بھر میں خوراک کی پیداوار کا مستقبل بدلنے والا ہے؟
کبھی بہار صرف ایک موسم ہوا کرتی تھی۔ ایک احساس، ایک خوشبو، ایک آہٹ جو آپ کے صحن، گلی یا کھیت میں آہستہ سے اترتی تھی؛ لیکن اب کہانی بدل رہی ہے۔ جدید سائنسی مشاہدات بتاتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ اب بہار وقت سے پہلے آتی ہے، بلکہ اپنی جگہ بھی بدل رہی…
’چپکو آندولن‘ سے ’ٹری ہگرز‘ تک۔۔ فطرت سے محبت کی انوکھی کہانی
واشنگٹن ڈی سی کے قلب میں واقع ’نیشنل پارک‘ کی ہریالی میں دھوپ کی تمازت اب 80 ڈگری فارن ہائیٹ کو چھو رہی ہے۔ ’راک کریک پارک‘ کی ٹھنڈی ندی کے کنارے چار سالہ بچوں کا ایک غول کیچڑ میں ہاتھ ڈالے کیکڑا نما دریائی جھینگے (Crayfish) ڈھونڈنے میں مگن ہے۔ ان بچوں…
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (چھٹی قسط)
جب ہم قبرستان پہنچے تو گرمی اپنے عروج پر تھی۔ ایک بڑی سی چار دیواری کے اندر بے شمار چوکنڈی طرز کی قبریں موجود تھیں، جن کی اونچائی بیس فٹ سے بھی زیادہ تھی۔ وہ قبریں اس قدر بلند تھیں کہ قریب کھڑے بجلی کے کھمبے اور تار بھی ان کے سامنے چھوٹے محسوس ہو…
کارپوریٹ سسٹین ایبلٹی وعدے: حقیقی پیش رفت یا گرین واشنگ
حالیہ برسوں میں کارپوریٹ سسٹین ایبلٹی (Corporate Sustainability) وعدوں کی بڑھتی اہمیت حالیہ برسوں میں کارپوریٹ سسٹین ایبلٹی (Corporate Sustainability) کے وعدوں نے نمایاں توجہ حاصل کی ہے کیونکہ کاروباری ادارے ماحولیاتی ذمہ داری (Environmental…
ندی اور بوڑھا (سنہالی ادب سے منتخب افسانہ)
پچھلے دس یا اس سے بھی کچھ زیادہ سالوں سے، ہر دن بوڑھا زیادہ تر وقت ندی کے کنارے بیٹھا رہتا۔ اُس کی عمر بیاسی برس تھی اور اب اُس نے کام کاج چھوڑ دیا تھا۔ ندی، بالکل اُس کے گھر کے سامنے تھی اور کچھ صدیاں پُرانی تھی۔ اُس کی ساری زندگی اسی ندی…
امن کا طالب (افسانہ)
(اونچے اونچے محلوں کی دلفریبی میں بدامنی کو مت ڈھونڈ! ان تنگ و تاریک گلیوں میں جا، جنہیں بھوک، اور مفلوک الحالی نے اپنا مسکن بنا رکھا ہے۔) سیاہ لبادے والا، بات بات کی آہٹ لیتا ہوا شہر کی گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ اجین کے اونچے مکان آدھی رات کے سناٹے میں…