Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

ماحول دوست بیٹری فری ڈیوائسز بنانے میں سرگرم پاکستانی پی ایچ ڈی اسکالر

By Akhtar Rasool
مئی 28, 2023 3 Min Read
0

ہم میں سے ہر ایک کو کبھی نہ کبھی موبائل فون یا دیگر آلات میں استعمال ہونے والی بیٹریوں کی چارجنگ کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں ہم سوچتے ہیں کہ کیا ان بیٹریوں کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی ہے؟

ممکن ہے ابھی تو اس کا جواب اثبات میں نہ ہو لیکن مستقبل میں اس مسئلے سے چھٹکارا ملنا شاید ممکن ہو، کیونکہ دنیا میں اس حوالے سے تحقیق اور تجربات جاری ہیں اور ایک پاکستانی نوجوان بھی ایسی ہی ایک ریسرچ کا حصہ ہیں

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ابوبکر امریکہ کے جارجیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں بحیثیت پی ایچ ڈی اسکالر ایک ایسے پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد بیٹری فری سسٹم یا ڈیوائسز بنانا ہے، جو ماحول دوست بھی ہوں

ابوبکر بتاتے ہیں ”بیٹری فری سسٹمز کے پیچھے بنیادی مقصد یہ ہے کہ آج کل موبائل فون، لیپ ٹاپ، ٹی وی کے ریموٹ کنٹرول یا دیگر ڈیوائسز میں سینسرز یا بیٹریاں ہوتی ہیں، جو لیتھیم سے بنتی ہیں اور ری سائیکل بھی نہیں ہوسکتیں“

ابو بکر نے کہا ”نوکیا کمپنی کے 3310 موبائل فون یا دوسرے سادہ فون کے مقابلے میں آج کل کے موبائل فونز میں بہت جدت آگئی ہے، لیپ ٹاپ میں جدت آ گئی ہے لیکن بیٹری ٹیکنالوجی بہت آہستہ آہستہ ترقی کر رہی ہے۔ اسی طرح بیٹریوں میں جو میٹریل استعمال ہوتے ہیں، وہ بھی ری سائیکل نہیں ہو سکتے۔ اس پر بھی ریسرچ ہو رہی ہے لیکن اس کی رفتار کم ہے“

انہوں نے بتایا کہ اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے وہ ایسی ڈیوائسز بنانے پر ریسرچ کر رہے ہیں، جن کے اندر بیٹری نہ ہو اور وہ اپنی توانائی کی ضرورت سولر انرجی، حرکی توانائی (Kinetic Energy) وغیرہ سے حاصل کریں، یعنی ’ہم بیٹری کو ڈیوائسز میں سے نکالنا چاہ رہے ہیں۔‘

ابوبکر نے گذشتہ برس کووڈ-19 کی وبا کے دوران محققین کی ایک ٹیم کے ساتھ مل کر ’فیس بٹ‘ (FaceBit) نامی ایک ڈیوائس بنائی تھی، جسے این-95 ماسک میں لگایا جا سکتا ہے اور جو پہننے والے کو اس کی سانس کی رفتار، دل کی دھڑکن اور جسم کے درجہ حرارت وغیرہ کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے، جنہیں بلیو ٹوتھ کے ذریعے موبائل فون پر دیکھا جا سکتا ہے

اس حوالے سے انہوں نے بتایا ”یہ ایک ایسی ڈیوائس ہے، جو آپ کی بات چیت سے، کھانسنے سے، چلنے پھرنے سے توانائی حاصل کرتی ہے“

اگرچہ اس ڈجیٹل ماسک کو کمرشل استعمال کے لیے نہیں بنایا گیا تھا لیکن ابوبکر کے مطابق انہوں نے کچھ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کو یہ فراہم کیا اور انہیں اس کا کافی اچھا رسپانس ملا

بحیثیت ایک پاکستانی ریسرچ اسکالر ابوبکر اپنی تحقیق اور اس کے نتائج کو اپنے ملک میں استعمال کرنے کے خواہشمند ہیں، لیکن ان کے خیال میں پاکستان کو جدت کے اس مقام تک پہنچنے میں کم از کم پچیس سال لگیں گے

انہوں نے کہا ”پاکستان میں ہارڈویئر انڈسٹری بہت کم ہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو اس پر کام کر رہے ہیں۔ زیادہ تر لوگ مارکیٹ سے کچھ پارٹس خرید کر انہیں آپس میں جوڑ کر کوئی چیز بنا دیتے ہیں لیکن ہارڈویئر مینوفیکچرنگ پر اتنی زیادہ توجہ نہیں ہے۔ پاکستان، امریکہ یا دیگر دنیا کے ٹرینڈز کو فالو کر رہا ہوتا ہے لیکن ہم ہارڈویئر ڈیزائن میں پندرہ سے پچیس سال پیچھے چل رہے ہیں“

ان کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان میں بیٹری فری پروڈکٹس کا مستقبل تو نظر آرہا ہے لیکن یہ ٹرینڈ آہستہ آہستہ ہی پروان چڑھے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تعلیمی ادارے اس فیلڈ پر توجہ دے کر طلبہ کو تربیت دے سکتے ہیں اور مختلف پروجیکٹس بنا سکتے ہیں، مثال کے طور پر ایسے ریموٹ کنٹرول، جن میں سیل ڈالنے کی ضرورت نہ پڑے

واضح رہے کہ دنیا بھر میں زیادہ تر بیٹریوں میں لیتھیم کا استعمال ہوتا ہے، جو ایک سستی دھات ہے، لیکن اس کے وسائل آہستہ آہستہ کم ہوتے جا رہے ہیں۔ ابوبکر کے مطابق لیتھیم سے بنائی گئی بیٹری کچھ عرصے میں ایکسپائر ہو جاتی ہے اور اسے ری سائیکل کرنے کا عمل اتنا موثر نہیں ہے، جو ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ہے۔

Tags:

batterybattery recyclingbattery technologybattery teslacatl sodium ion batterycondensed batteryeco friendly batteryelectric car batteryindian eco friendly batteryion batterylfp battery reviewli ion batterylithium ion batteryproduction of eco friendly battery in indiarock batterysand batterysodium ion batterysodium ion battery reviewsodium ion battery vs lithium iontesla batterytesla battery 2023
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

چیٹ جی پی ٹی سے چلنے والے گلاسز؛ خصوصیات کیا ہیں؟

Next

پی ٹی آئی کے خلاف کريک ڈاؤن، مبصرين کيا کہتے ہيں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme