Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

What-happens-if-a-man-refuses-to-earn
اہم ترینتازہ ترینکالم

مرد اگر کمانے سے انکار کرے تو کیا ہو گا؟

By Akhtar Rasool
جولائی 27, 2025 4 Min Read
0

اگر آج آپ کمانا چھوڑ دیں تو آپ کی اہمیت کیا ہے؟

یعنی ایک مرد اگر یہ کہہ دے کہ بھئی کمانا وغیرہ میرے بس کا روگ نہیں، نوکری ہو یا کاروبار، میرا موڈ نہیں بنتا، میں نے کچھ نہیں کرنا، میں بس سکون سے رہنا چاہتا ہوں۔۔۔ تو کون قبول کرے گا؟

پیدائش سے آپ کے گلے میں جو یہ پھندا ڈلتا ہے کمانے کا، مرنے کے بعد بھی نہیں اترتا۔ مر گئے آپ، زمین جائیداد چھوڑ گئے تو اس پہ جھگڑے ہوں گے، غائبانہ گالیاں آپ کا مقدر، نہیں کچھ چھوڑا تو اور زیادہ مسئلہ ہے، یعنی سمجھ لیجے کہ بزرگوار نہیں مرے، وراثت کا انتقال ہوا ہے۔

وراثت۔۔۔ یعنی وہی پھندہ اب آپ کے گلے میں ہے، انتقال تک، آپ کے یا وراثت کے۔

کمانے سے ہم مَردوں کو اس قدر محبت ہے کہ لفظ ’گھر داماد‘ تک کو گالی بنا لیا ہے۔ کبھی رشتے کے اشتہار تک میں آپ کو یہ نظر نہیں آئے گا کہ ’ضرورت ہے ایک بے روزگار مرد کی‘ یعنی باقی بھلے جو مرضی مسائل ہوں، ڈیمانڈز ہوں، کمانا اس قدر بیسک کوالیفیکیشن ہے کہ نہ بھی لکھا جائے تو یہ طے ہے کہ بھائی، چلتا پھرتا ہے تو کماتا تو ہوگا! بلکہ خدا معاف کرے، چلتا پھرتا نہیں بھی، کماتا تب بھی ہوگا۔

روزگار ایسا تگڑا جینڈر رول ہے ایک مرد کے لیے، کہ سائنس دان اسے ان کی فطرت کا حصہ تسلیم کرتے ہیں۔ پرووائیڈر، بریڈ ونر، کماؤ پوت، برسرِ روزگار۔۔۔۔ زندگی کی ڈکشنری میں مرد کی پہچان یہی ہے۔ اگر وہ کما نہیں رہا تو گویا اس نے مرد ہونا چھوڑ دیا ہے۔

اب اس تصور میں جکڑا ہر مرد، بچپن سے بڑھاپے تک اسی پھیر میں رہتا ہے۔ صبح، شام، رات، دن صرف محنت، آفس، دکان، ٹھیلا، کمپنی، کارخانہ۔۔ کچھ بھی ہو، مقصد ایک ہے: کمانا، اور کمانے کی یہ زنجیر محبت، صحت، رشتوں، نیند، سکون، ہر چیز کو جکڑ لے گی۔

بیماری سے یاد آیا، آپ بیمار بھی ہوں گے تو سامنے تیمار دار کا تیسرا سوال لازمی یہی ہوگا، دفتر کب جوائن کرنا ہے؟ اس سوال کا مطلب کیا ہے؟ یعنی کہ صاحب یہ جو بستر پہ تم پڑتے ہو، کب تک یہ سلسلہ چلے گا؟ کماؤ گے کب؟ کھلاؤ گے کب؟

فلم، ڈرامہ، کتابیں، جہاں بھی جتنی بھی کہانیاں ہیں، دکھا دیں کوئی ایک ہیرو کہ جو سرے سے کچھ بھی نہ کرتا ہو؟

یعنی پیدائش سے یہ طے ہے کہ میاں مرد، تم ایک سکہ ہو جس نے چلنا ہی چلنا ہے، اس سکے کا دوسرا رخ اگر کوئی ہوا بھی، تو اس کی اہمیت پہلے ہی رخ سے طے کریں گے یعنی ’ویلیو‘ سے، نیٹ ورتھ سے، کہ سکہ ہے کتنے کا؟

محبت تک اندھی نہیں رہی یار اب تو، اپنے گھر بات کریں ذرا شادی کی، امی پوچھیں گی بیٹے، میرے لعل، کیا تنخواہ ہے تیری، اس میں گھر پورا چلا لے گا؟ خاتون کے یہاں بات کریں تو ان کا بھی آف کورس پہلا سوال یہی ہوگا۔۔۔ کدھر گئی وہ جنگجو قسم کی محبت، جس میں سب کچھ جائز ہوتا تھا؟

مرد کی بے روزگاری جنگ اور محبت کی ’سب کچھ جائز‘ والی لسٹ میں بھی ناجائز تھی!

میں اس مرد کو امپاورڈ مانوں گا کہ جو بولے وہ نہیں کمائے گا اور اسے قبول بھی کر لیا جائے بہ رضا و رغبت، یہاں بہ رضا اور بقضائے الہٰی ماننے میں فرق ملحوظ رکھیے گا۔

تو مرد جو ہے، وہ لگا ہوا ہے دن رات، لگاتار، وہ تھکے گا بھی، سب کچھ چھوڑنا بھی چاہے گا تو اس کے پاس آپشن نہیں ہے، اس کے پاس رونے والا راستہ بھی نہیں ہے، اس کی خاموشی میں ڈھونڈ لے کوئی اگر کچھ تلاش کرنا ہے، باقی کہیں ایک نشان نہیں ملے گا۔

یہ خاموشی ہے جس کی وجہ سے اس موضوع پہ بولتا ہوا میں، میں بھی آپ کو عجیب لگ رہا ہوں۔

آپ ایسا کچھ بولیں گے تو آپ، سست، کاہل، نکمے، ہڈ حرام یا کچھ بھی کہلا سکتے ہیں لیکن کہیں تو بس ہونی چاہیے کہ نہیں؟

صحت، سکون، رشتوں کی محبت، اچھی نیند، فرصت۔۔۔ کم از کم یہ سب کچھ تو پیسے کے ساتھ بندھی نہیں ہونی چاہیے یار۔ کوئی دن ہو کہ جب کہا جائے آج کچھ نہیں کرنا، آج بس سانس لینی ہے اور وقت گزارنا ہے۔۔۔ ایسا وقت آخری بار کب گزارا تھا آپ نے؟

ٹھیک ہے آپ مرد ہیں لیکن سبھی کچھ آپ نے کیوں اٹھانا ہے؟ آپ لگوا کے لائے ہوں گے لوہے کے کندھے اوپر سے، لیکن زنگ تو لوہے کو بھی لگ جاتا ہے بابا!

ایک اچھا باپ، اچھا شوہر، اچھا بیٹا، اچھا دوست، اچھا انسان بغیر پیسے کے ہونا کیسے ممکن ہے، یہ راستہ کوئی دکھا دے، میں مان جاؤں گا کہ جینڈر رول کا ظلم وغیرہ سب بے کار کی باتیں ہیں، جس کا جو دل کرتا ہے وہ کرے، مجھے میری زندگی جینے دے!

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

Tags:

alternative masculinitybreadwinner rolebreak the cyclebreaking stereotypesburnout in mencareer expectationsCultural Normsdaily hustledignity without incomeeconomic pressureeconomic rolesEmotional burdenemotional laboremotional rightsemotional suppressionEmotional Well-Beingemployment pressureexpectation to provideexpectations from menfair masculinityfinancial burdensfinancial freedomfinancial pressure on menfinancial stressforced labor rolesfreedom from rolesgender equality for menGender Roleshealthy masculinityhousehusband stigmaincome and marriageincome and respectincome inequalityinner peaceinvisible pressureinvisible sufferingjobless stigmalife without earningmale empowermentmale identitymale mental healthmale silencemale vulnerabilityman as providermanhood and identitymanhood definitionmasculine identitymasculinity and burnoutmasculinity and moneymasculinity crisismasculinity normsmasculinity stereotypesMen and Emotionsmen and lovemen and relationshipsmen and workmen's healthmen’s daily grindmental exhaustionmental pressure on menmodern man dilemmamoney and worthnet worth identitynon-working menpressure of providingproductivity obsessionpsychological burdenquiet sufferingredefining manhoodredefining successredefining success for menredefining valuerest for menright to relaxself-worth and moneyself-worth crisissick leave shamesilent strugglessocial acceptancesocial role of menSocietal Expectationssocietal judgmentsocietal validationstrength misconceptionsstress in mensystemic expectationstime to resttoxic expectationstoxic masculinitytraditional gender rolesunemployed menunhealthy masculinityunhealthy normsunpaid dutiesunpaid emotional tollvalue of menvalue without moneyWork-life imbalanceworking menworking to be valued
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
scrolling-on-your-mobile-phone-screen
Previous

موبائل فون کی اسکرین پر اسکرولنگ کرتے ہوئے آپ کا انگوٹھا روزانہ کتنا فاصلہ طے کرتا ہے؟

The-Secret-of-Life-urdu-Fiction
Next

زندگی کا راز (افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme