Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالمماحولیات

موسمیاتی تبدیلیاں، ایک سنجیدہ مسئلہ

By Akhtar Rasool
اگست 4, 2022 3 Min Read
0

آج سے قریباً دس سال قبل میرے ساتھی رپورٹر افتخار فردوس نے پہلی مرتبہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے بات کی۔ پہلے پہل تو سمجھ ہی نہیں آئی پھر افتی نے، جو ماشاءاللہ اب ایک بہت ہی مشہور اور مستند صحافی بن چکے ہیں، موٹا موٹا سمجھایا۔ ایلی نینو کی بات کی اور کہا کہ دنیا کا موسم آہستہ آہستہ بدل رہا ہے

ہزاروں سال سے جاری موسموں میں تغیّر کے آثار نمایاں ہیں اور سائنسدان اس حوالے سے پریشان ہیں اور ان کی ایک بڑی وجہ گلوبل وارمنگ ہے۔ انسان نے قدرتی ماحول کو انتہائی گرم بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں کا آغاز ہوا چاہتا ہے

بتدریج مختلف علاقوں کے موسم درجہ بہ درجہ تبدیل ہوتے جائیں گے۔ گرمی بھی کافی تیز ہو گی اور سردی بھی۔ بارشیں زیادہ ہوں گی اور دھوپ کی سختی کے باعث ہمارے گلیشیئر پگھل جائیں گے۔ موسم کی تبدیلی سے ہماری فصلیں بھی متاثر ہوں گی اور پھل بھی اور بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں شامل ہے، جہاں سے یہ موسمی تبدیلیاں شروع ہوں گی پھر آہستہ آہستہ، افتی کی فراہم کی گئی معلومات کے مطابق، تبدیلیاں ظہور پذیر ہونا شروع ہو گئیں۔ لیکن 2022 کے آغاز سے جو جو پلٹی موسم نے کھائی وہ عجیب ہی تھی اور پریشان کن۔ سردیاں کڑاکے کے ساتھ گزریں۔ ابھی سردیاں نکلیں کہ گرمی شروع ہو گئی

بہار کا موسم بیچ میں سے غائب ہو گیا۔ ساون کے اثرات مئی سے شروع ہوئے پسینے جو پہلے اگست اور جولائی میں آتے تھے۔ اب کی بار مئی سے شروع ہوئے۔ محکمہ موسمیات نے بھی ایک لمبے مون سون کی پیشن گوئی کی۔ پھر ہم سب نے دیکھا کہ اتنی بارشیں ہوئیں کہ کراچی جیسا شہر ڈوب گیا اور بلوچستان میں جو تباہی آئی، اللہ کی پناہ۔۔ ہر جگہ پانی ہی پانی۔۔ اب تک صرف بلوچستان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے 140 کے قریب افراد جاں بحق ہو چکے ہیں

ہزاردوں مویشی بھی مر گئے جب کہ سرکاری اراضی املاک کو ہونے والا نقصان اس کے علاوہ ہے۔ جب یہ بارشیں اور سیلاب خطرناک رخ اختیار کر رہی تھیں اس وقت حکومت اور حزب مخالف کی جماعتیں اقتدار کے کھیل میں مصروف تھیں۔ کراچی ڈوبنے کا تو بڑا واویلا ہوا ۔ سندھ حکومت پر بھی تنقید ہوئی حالانکہ کئی جگہوں پر 24 گھنٹوں میں 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو کراچی کی تاریخ کی تباہ کن بارشوں میں شمار ہوتی ہے۔ لیکن اس دوران بلوچستان، جو اصل میں ڈوب رہا تھا، کسی کو اس کی فکر بھی نہیں ہوئی

ایک ماہ قبل بلوچستان کے چلغوزوں کے جنگلات میں آگ بھڑک اتھی تھی تو اس وقت بھی نئی وفاقی حکومت اپنے اقتدار کو مضبوط بنانے میں مصروف تھی اور پی ٹی آئی کو اپنا پرانا اقتدار یاد آ رہا تھا۔ جب حکومت نے ایکشن لیا تو بہت دیر ہو چکی تھی ہمیں ہمسایہ ملک ایران کی مدد بھی لینا پڑی۔ اس وقت ملک کے دوسرے حصوں خصوصاً پختونخوا کے جنگلات میں بھی آگ لگنے کے واقعات رونما ہوئے تھے لیکن کسی نے اس جانب توجہ نہیں دی کہ اچانک پاکستان کے مختلف علاقوں کے جنگلات میں آگ کیوں بھڑک اٹھی۔ بلوچستان ڈوب رہا تھا اور ملک میں سیاست سیاست کھیلی جا رہی تھی

اس سے پہلے پختونخوا کے جنوبی اضلاع ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی سیلاب نے تباہی مچائی۔ دیر کے علاقے تیمرگرہ میں گاڑیوں کی پانی میں بہنے والی ویڈیو تو کافی مشہور بھی ہوئی۔ لیکن نہ حکومت نہ ہی اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے اس کو سنجیدگی سے لیا ۔ حکومت اور سیاسی جماعتوں بشمول سوشل میڈیا کے جنگجوؤں کو اس وقت خیال آیا جب بلوچستان کے قوم پرستوں نے اس معاملے کو بطور شکوہ اٹھانا شروع کر دیا

وہ منظر دکھاتے گئے جب لوگوں کے گھر پانی میں اور ان کے مویشی، بچوں اور دیگر املاک سمیت بہہ رہے تھے۔ تصویر وہ لرزانے والی تھی جب ایک باپ چار بچوں کی کیچڑ میں لت پت لاشوں کے ساتھ افسردہ کھڑا تھا۔ پھر سیلاب نے پنجاب کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔یہاں پر انڈیا سے بغیر اطلاع چھوڑے جانے والے پانی نے بھی کافی کام خراب کیا

ہر سال مون سون میں ہندوستان اپنا اضافی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے جو فصلوں کی تباہی کے ساتھ ساتھ زمین کے کٹاؤ اور املاک کو نقصان کا بھی باعث بنتا ہے۔ لیکن ہر سال اربوں کا نقصان پہنچنے کے باوجود بھی ہمارا ملک اس مسئلہ کا توڑ نہیں کر سکا نہ ہی اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا گیا۔ اب کی بار سیلاب نے فصلوں اور کھیتوں کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔

بشکریہ: ایکسپریس نیوز

Tags:

Climate changeEnvironmentPakistan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

فارسی کے میدان اور انگلش کے میڈیم کا آپس میں کیا تعلق ہے؟

Next

میٹا پر لوگوں کے میڈیکل ڈیٹا کے ایڈز فیسبک پر چلانے کا الزام

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme