Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

فارسی کے میدان اور انگلش کے میڈیم کا آپس میں کیا تعلق ہے؟

By Akhtar Rasool
اگست 4, 2022 4 Min Read
0

اے شمع تری عمر طبیعی ہے ایک رات،
ہنس کر گزار یا اسے رو کر گزار دے۔۔

’شمع‘ عربی لفظ ہے، اس کے معنی ’موم‘ کے ہیں جب کہ اس ‘موم’ سے بنی ‘موم بتی’ بھی عربی میں ‘شمع’ کہلاتی ہے۔

شمعیں جتنی ہوں روشنی بھی اسی نسبت سے ہوتی ہے۔ اس بات کو ذہن میں رکھیں اور انگریزی لفظ واٹ (watt) پر غور کریں۔ یہ لفظ عام طور پر ’بلب‘ کے حوالے میں سننے کو ملتا ہے، مثلاً سو واٹ کا بلب یا ہزار واٹ کا بلب وغیرہ۔
واٹ (watt) دراصل پاور کی معیاری اکائی ہے اور اس کا استعمال اس شرح کی وضاحت کے لیے کیا جاتا ہے، جس پر برقی توانائی منتشر ہوتی ہے

عربی میں بلب کے تعلق سے ’واٹ‘ کو مجازاً ’شمع‘ کے مساوی شمار کیا جاتا ہے۔ یوں اگر بلب کے روشن ہونے کی طاقت بتانی ہو تو کہتے ہیں ‘هو ذو عَشْرِ شَمَعاتٍ أو مائة شَمْعَةٍ’ یعنی وہ دس واٹ یا سو واٹ کا بلب ہے

جس ظرف میں ’شمع‘ لگا کر روشن کی جاتی ہے، وہ ’شمع دان‘ کہلاتا ہے۔ اس ترکیب میں ’شمع‘ اگر عربی ہے، تو ’دان‘ فارسی ہے۔ دراصل یہ کلمہ ظرف ہے، جو مرکبات میں گھر، جگہ، مکان، مقام اور خانہ کے معنی میں بطور لاحقہ استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً قلمدان، آتشدان، نمکدان وغیرہ۔
’دان‘ سے مرکب اس فہرست میں ایک لفظ ’میدان‘ بھی ہے۔ یہ کھیل یا جنگ کے ’میدان‘ سے جدا ایک الگ ترکیب ہے، جس کا جُزِ اول ’مے‘ بمعنی شراب ہے۔ یوں جس طرح گُل سے گُلدان یا عطر سے عطردان ہے، ایسے ہی ’مے‘ سے ’میدان‘ ہے۔ اور اس کے معنی ’جام و ساغر‘ کے ہیں

جہاں تک کھیل کود یا جنگ و جدل کے ’میدان‘ کی بات ہے، تو اس کے عمومی معنی اُس صاف اور وسیع سطحِ زمین کے ہیں، جہاں پہاڑ اور عمارات وغیرہ نہ ہوں۔ اس نسبت سے کنایتہً بیابان کو بھی میدان کہتے ہیں

فارسی و اردو فرہنگ نویسوں نے ’میدان‘ کے لفظی اور اصطلاحی معانی کی طویل فہرست بیان کی ہے۔ ان میں بعض اصطلاحات مختلف شعبوں اور پیشوں سے متعلق ہیں

جوہریوں کی اصطلاح میں جواہر بالخصوص یاقوت یا زمرد کا طول و عرض ’میدان‘ کہلاتا ہے، جب کہ موسیقی کی اصطلاح میں طبلے کے گرد یا طبلق کا درمیانی حصہ، جس پر ہتھیلی کی تھاپ لگائی جاتی ہے، ’میدان‘ کی تعریف میں داخل ہے۔ ایسے ہی خطاطی کی اصطلاح میں قلم کا وہ حصہ جو چوڑا تراشا جاتا ہے، ’میدان‘ کہلاتا ہے

یہاں تک پہنچ کر ’میدان‘ کے معنی متعین ہوجاتے ہیں، تاہم فارسی فرہنگ نویس اس لفظ کی اصل سے بحث کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس میدان کی اصل ’دون‘ ہے، جب کہ ’دون‘ کے معنی ’لاغر یا پتلا کردینے والے‘ کے ہیں۔
پھر وہ اس کی توجیہہ یہ بیان کرتے ہیں کہ وسیع و عریض قطعہ زمین میں بطور سواری دوڑتے پھرنے سے گھوڑے دُبلے ہوجاتے ہیں۔ یوں یہ زمین اس ’دون‘ کی نسبت سے ’میدان‘ کہلاتی ہے

سچی بات تو یہ ہے کہ فرہنگ نویسوں کی یہ توجیہہ بیجا تکلف سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی ہے۔ ہمارے نزدیک اس لفظ کی اصل ’مید‘ ہے جو ’دان‘ کا لاحقہ لگنے پر ’میدان‘ ہوگیا ہے

آگے بڑھانے سے قبل ایک ضروری بات سمجھ لیں کہ قاعدہِ ادغام میں اکثر ایک یا ایک سے زیادہ الفاظ ساقط ہوجاتے ہیں، مثلاً مرغابی کی اصلاً مرغِ آبی ہے اور زندان کا لفظ زندہ اور دان سے مرکب ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ان دونوں تراکیب میں بالترتیب ’الف‘ اور ’دہ‘ ساقط ہوگئے ہیں۔
ایسے ہی ’میدان‘ بھی لفظ ’مید‘ اور ’دان‘ سے مرکب ہے، جو کثرت استعمال سے ’میدان‘ ہوگیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ خود ’مید‘ کے کیا معنی ہیں؟

گمان ہے ’مید‘ کا تعلق پروٹو انڈو یورپین زبان کے بنیادی لفظ مدھیو/ medhyo سے ہے، جب کہ مدھیو کے معنی ’درمیان اور وسط‘ کے ہیں

اس ’مدھیو‘ کو ذہن میں رکھیں اور ہندوستان کے وسطی صوبے ’مدھیا پردیش‘ کے نام پرغور کریں آپ کو سمجھنے میں دیر نہیں لگے کی کہ اس کو یہ نام کیوں دیا گیا ہے

قدیم ایران کی تاریخ میں ایک ’ماد‘ نامی ریاست کا تذکرہ ملتا ہے، یہ ’ماد‘ دراصل یونانی ’میڈیا‘ کی پہلوی صورت ہے۔ اہل یونان نے اس ریاست کو اس لیے ’میڈیا‘ پکارا تھا کہ یہ شمالی اور جنوبی ایران کے ’وسط‘ میں واقع تھی

برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ ’روٹ ورڈ’ مدھیو/ medhyo کے تعلق سے انگریزی الفاظ mid, media, amid, intermediate, middle, medal, medial, median, mediate, medieval, mediocre, Mediterranean وغیرہ پر غور کریں، ان سب میں آپ کو وسط، وسطی اور واسطے کا مفہوم نظر آئے گا۔
پھر واسطے کے لیے میڈیم/ medium کا لفظ عام استعمال ہوتا ہے، اسے ہم انگلش میڈیم اور انگریزی میڈیم کی تکرار میں بھی سنتے ہیں۔ یہی میڈیم ہندی زبان میں بصورت مادھیم/ माध्यम عام بول چال میں استعمال ہوتا ہے

اب وسط اور واسطہ کے معنی کے ساتھ ’مید‘ پر غور کریں تو آپ کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگے کہ ’میدان‘ وہ مقام ہے، جہاں دو متحارب فوجیں، کھیلوں کی دو ٹیمیں یا عام لوگ کھیلوں کے بہانے ملتے جلتے ہیں اور اس ملنے جُلنے میں واسطہ کا کردار ادا کرنے کی رعایت سے یہ مقام ’میدان‘ کہلاتا ہے

فارسی کے اور بہت سے لفظوں کی طرح ’میدان‘ جب عربی میں پہنچا تو اہل عرب نے اس میں کوئی لفظی تبدیلی نہیں کی، البتہ اس کے حرف اول ’میم‘ کو بجائے زبر کے زیر سے ’مِیدان‘ پکارا اور عربی قاعدے کے مطابق اس کی جمع ’میادین‘ بنا لی ہے۔

بشکریہ: اردو نیوز

Tags:

EnglishLanguagePersian
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بھارت میں مودودی اور سید قطب کی کتابیں نصاب سے خارج

Next

موسمیاتی تبدیلیاں، ایک سنجیدہ مسئلہ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme