Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

موسمیاتی تبدیلی سے کمزور ملکوں میں تصادم میں اضافے کا خدشہ!

By Akhtar Rasool
ستمبر 1, 2023 4 Min Read
0

معاشی بدحالی، غربت اور غذائی قلت کے ساتھ اس وقت دنیا کو جو ایک بہت بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ آب و ہوا کی تبدیلی کا ہے، جس نے دنیا بھر میں موسموں کو تبدیل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے گلیشئیرز پگھل رہے ہیں۔ سمندروں کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اور دنیا بھر میں ساحلوں کے قریب آباد شہروں کے ڈوب جانے کے خطرات بہت بڑھ گئے ہیں۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اس حوالے سے ایک نئے خطرے کے بارے میں خبردار کیا ہے

آئی ایم ایف نے بدھ کے روز ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے دنیا بھر کے کمزور ممالک میں تنازعات کے مزید بڑھنے اور اموات میں اضافے کا خطرہ ہے

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر آب و ہوا کی تبدیلی سے صرف بد امنی اور بے چینی کے نئے واقعات میں ہی اضافہ نہیں ہوگا بلکہ یہ لڑائیوں کی صورت حال کو بھی مزید بدتر بنا دے گی، کیونکہ پانی اور خوراک کے مسائل نئے تنازعات اور نئی جنگوں کو جنم دیں گے، جس سے بھوک، افلاس، غربت اور نقل مکانی جیسے مسائل مزید پیچیدہ ہو جائیں گے

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سن 2060 تک مبینہ کمزور اور تصادم سے متاثرہ ریاستوں، [جنہیں (ایف سی ایس) Fragile and conflict affected situations کہا جاتا ہے] میں تنازعات اور لڑائیوں کے سبب ہونے والی اموات میں 8.5 فیصد کا اضافہ ہو سکتا ہے، جب کہ درجہ حرارت میں انتہائی اضافے والے ملکوں میں ہونے والی اموات 14فیصد تک زیادہ ہو سکتی ہے

ورلڈ بینک کی درجہ بندی کے مطابق انتالیس ملکوں میں تقریباً ایک ارب لوگ رہتے ہیں اور دنیا کی 43 فیصد آبادی ایف سی ایس کے زمرے میں آتی ہے۔ ان ممالک میں سے نصف سے زیادہ افریقی ملک ہیں، جو موسمیاتی تبدیلیوں کے غیر مناسب بوجھ کا شکار ہیں

آئی ایم ایف نے متنبہ کیا ہے کہ ان ممالک میں سن 2060 تک 50 ملین سے زیادہ لوگ، خوراک کی کم پیداوار اور اناج کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں

اس نے مزید کہا کہ موسمیاتی دھچکوں کے نتیجے میں ہونے والے معاشی نقصانات دیگر ممالک کے مقابلے میں کمزور ممالک میں زیادہ ’شدید اور مستقل’ ہوتے ہیں

آئی ایم ایف نے ایک الگ بیان میں کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ اگلے ہفتے کینیا میں پہلی افریقی موسمیاتی سربراہی اجلاس کے لیے جمع ہونے والے رہنما کمزور ممالک کو درپیش مسائل کا حل تلاش کریں

آئی ایم ایف نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے ”ہر سال، دیگر ممالک کے مقابلے کمزور ریاستوں میں قدرتی آفات سے تین گنا زیادہ لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ کمزور ریاستوں میں آنے والی آفات دوسرے ملکوں کی آبادی کے دوگنا سے زیادہ حصے کو بے گھر کرتی ہیں“

آئی ایم ایف نے کہا کہ 2040 تک ان ممالک کو سال میں 61 دن اوسطاً 35 ڈگری سیلسیئس سے زیادہ درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو کہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے

”انتہائی گرمی اور اس کے ساتھ آنے والے شدید موسمیاتی واقعات انسانی صحت کو خطرے میں ڈال دیں گے اور اس سے زراعت اور تعمیرات جیسے اہم شعبوں میں پیداواری صلاحیت اور ملازمتوں کو نقصان پہنچے گا۔“

واضح رہے کہ نیروبی میں 4 سے 6 ستمبر کے درمیان سربراہی کانفرنس ہورہی ہے، جس کا مقصد 1.4 ارب افراد پر مشتمل براعظم افریقہ کو درپیش موسمیاتی چیلنجوں سے نمٹنا ہے۔ یہ کانفرنس نومبر اور دسمبر میں متحدہ عرب امارات میں اقوام متحدہ کے موسمیاتی مذاکرات کے اگلے دور سے پہلے ہو رہی ہے

افریقی حکومتیں برسوں سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ دنیا کے سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے والے ممالک اپنے اخراج سے ہونے والے نقصانات کی بھرپائی کریں

انٹرنیشنل کرائسس گروپ میں سینیئر تجزیہ کار نازنین مشیری کا کہنا ہے کہ دوبئی میں سی او پی 28 کی ہونے والے سربراہی اجلاس سے قبل ماحولیات اور تنازعات پر ایک ساتھ غور کرنا ضروری ہے

نازنین مشیری کہتی ہیں ”ہمیں صرف قرن افریقہ کی صورت حال پر غور کرنے کی ضرورت ہے، جہاں موسمیاتی تبدیلی اور تنازعات کے علاوہ پچھلے مسلسل پانچ برسوں کے دوران خراب موسم باراں، غیر معمولی سیلاب اور دنیا کی بدترین غذائی ہنگامی صورت حال نے عدم استحکام میں مزید اضافہ کر دیا ہے“

دیکھنا یہ ہے کہ یہ معاملہ صرف انتباہات اور کانفرنسوں تک ہی محدود رہتا ہے یا پھر دنیا آب و ہوا کی تبدیلی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے واقعی سنجیدہ اور قابلِ عمل اقدامات بھی کرے گی، جو فی الحقیقت کرہ ارض کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

Tags:

africa climate movementafrique subsahariennealliance for climate educationarmed conflictband news tvbandnewsbandnews tvClimateclimate actionclimate action summitclimate activistClimate changeClimate Change Conferenceclimate change eventclimate conferenceClimate Crisisclimate crisis documentaryclimate documentaryclimate documentary 2019climate educationclimate financeclimate justiceclimate lesson planclimate marchclimate migrationclimate newsclimate of the partiesclimate policyclimate refugeeclimate refugeesclimate videoConflictconflict & gendercop 28cop28current affairsdaily climate showdaily current affairsDeveloping CountriesDubaidubai expo citydubai newsEnvironmental Justicefeminism climate changefeminist climate changegas stove bangermany climate activist (cr)Globalglobal energy forumglobal newsglobal stocktakeGlobal warminginternational committee of the red crossjornalismo bandJusticeland conflictlaw of armed conflictmen climate changenews nairobiour changing climatepatriarchy climate changepos_ukraine-russiapos_ukrainecrisissustainabilitysustainable financethe daily climate showuae cop28united nations climate change conferenceupsc current affairsyoutubenewsyoutubenotícias
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

مضبوط رشتے، صحت کا راز اور دو کہانیاں

Next

بنگلادیش کے نوبل انعام یافتہ پروفیسر یونس سیاست میں آنے کے بعد مقدمات کی زد میں۔۔ نوبل انعام یافتہ رہنماؤں کا اظہار تشویش

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme