Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اسپورٹساہم ترینتازہ ترینخبریں

نابینا ریس ڈرائیور، جو 180 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی بھگا سکتا ہے!

By Akhtar Rasool
مئی 14, 2023 4 Min Read
0

لیما سے چوالیس کلومیٹر جنوب میں واقع یہ مقام، جو عام دنوں میں پُرسکون رہتا ہے، گاڑی کے انجن کی چیخ و چنگھاڑ سے گونج رہا تھا

لال رنگ کی ٹیوٹا کورولا لاچوٹانا سرکٹ پر ایک سو اسی کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ رہی تھی۔ لیکن کیا یہ کوئی ایسی بات ہے، جس پر حیران ہوا جائے؟ نہیں، ہر گز نہیں۔۔

لیکن حیرانی کا لمحہ چند گھڑیوں کے فاصلے پر آپ کا منتظر ہے

کچھ اور چکر لگانے کے بعد گاڑی مقررہ مقام پر آ کر رُکتی ہے۔۔ ڈرائیور اپنا ہیلمٹ اتار کر کیمرے کی جانب دیکھتے ہوئے انگوٹھے کا نشان بنا کر کہتا ہے ”میں پاچو کانٹ ہوں اور میں نابینا ہوں“

ان کے کانوں سے منسلک سماعتی آلے کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ حقیقت میں وہ قوتِ سماعت سے بھی محروم ہیں

ایک متحرک شخص،
اڑتالیس سالہ پاچو کانٹ کچھ دیکھ نہیں سکتے۔ وہ صرف روشنی کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں

’ریٹینائٹس پگمینٹوسا‘ نامی بیماری نے ان کی بینائی کو متاثر کیا۔ 2005ع میں وہ نابینا ہو گئے تھے

لیکن ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے بعد معلوم ہو جاتا ہے کہ اس بیماری نے ان کی بینائی تو چھین لی، لیکن ان کی شخصیت کی توانائی کو متاثر کرنے میں ناکام رہی

ریسنگ سوٹ میں ملبوس پاچو کانٹ کہتے ہیں ”جب میں نابینا ہوا تو میں نے فیصلہ کیا کہ یہ مجھے روک نہیں پائے گی“

جب ان کو گاڑی چلانا ترک کرنا پڑا تو وہ بتاتے ہیں کہ یہ ان کے لیے مشکل مرحلہ تھا لیکن انہوں نے زندگی کو اپنے شوق کے گرد ازسرنو ڈھالنے کا ارادہ کیا

وہ بتاتے ہیں ہیں کہ ان کو بچپن سے ہی گاڑیوں سے محبت تھی

لیما میں ان کی ایک ورکشاپ ہے اور وہ ساتھ ساتھ گاڑیاں اور ٹرک بیچنے اور خریدنے کا کام بھی کرتے ہیں

اپنے دفتر میں وہ فون کے وائس اسسٹنٹ کی مدد سے اتنے متحرک انداز میں سودے طے کرتے ہیں کہ کبھی کبھی تو یہ سوچ پیدا ہوتی ہے کہ کیا وہ واقعی نابینا ہیں بھی یا نہیں؟

لیکن یہ شک اس وقت غائب ہو جاتا ہے، جب وہ ورکشاپ میں داخل ہوتے ہیں۔ وہ اپنے دوست پیرو پولار کے کندھے کو پکڑ کر چلتے ہیں

دراصل یہ کہانی پیرو کے بغیر ادھوری ہے۔ جب انہوں نے ایک ساتھ مقامی ریسوں میں حصہ لینا شروع کیا تو پیرو گاڑی چلاتے تھے جبکہ پاچو گاڑی کے کام کاج، مرمت اور حکمت عملی کو دیکھتے تھے

پاچو کو یاد ہے کہ کس طرح سے وہ بھی ریس میں گاڑی چلانے لگے۔ ”ایک دن میں نے پیرو سے کہا تمہاری کار میں چلانا چاہتا ہوں، اس نے کہا ضرور، جب چاہو۔“

یہ ایک عجیب خیال تھا لیکن کچھ تیاری کے بعد یہ حقیقت بن گیا۔ پیرو ہمیشہ ساتھ بیٹھ کر پاچو کو بتاتے ہیں کہ کس وقت کیا کرنا ہے

ریس کے سرکٹ پر تیاری کی مدد سے انہوں نے اشاروں کی ایک ایسی زبان تخلیق کر لی ہے کہ انجن کے شور میں بھی جب پاچو کو آواز سنائی نہیں دے سکتی، وہ ان کی بات پر عمل کر سکیں

مثال کے طور پر جب پیرو ان کی کلائی کو چھوتے ہیں تو پاچو کو علم ہو جاتا ہے کہ اب بریک لگانی ہے۔ اگر وہ دو بار چھوتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ زور سے بریک لگانی ہے

ایمرجنسی کے لیے بھی ایک مخصوص اشارہ طے ہے

پاچو نے قہقہ لگاتے ہوئے بتایا ”جب وہ میرے بازو پر مسلسل ہاتھ مارے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ پاگل آدمی رک جاؤ، ورنہ ہم دونوں مر جائیں گے“

پریکٹس کے بعد پاچو نے ریس میں حصہ لینا شروع کیا تو ان کے مطابق وہ لوگوں کو دکھانا چاہتے تھے کہ ’کوئی مشکل بڑی نہیں ہوتی۔‘

اب پاچو کو لاچوٹانا ریس سرکٹ کا دو عشاریہ تین کلومیٹر کا ٹریک یاد ہو چکا ہے۔ ان کا اگلا چیلنج کسی ایسے مقام پر ریس کرنا تھا، جو ان کے لیے انجان ہو

ایکواڈور کے ایک حالیہ دورے کے دوران وہ یہ چیلنج بھی پورا کر چکے ہیں

پاچو کہتے ہیں ”وہاں بہت سے شائقین تھے اور میرے لیے یہ ایک متاثر کن تجربہ تھا“

لاچوٹانا سرکٹ پر ان کا سب سے تیز چکر ایک منٹ تیس سیکنڈ کا ہے۔ وہ بتاتے ہیں ”یہ تیز گاڑی بھگانے کی بات نہیں بلکہ لوگوں کو یہ پیغام دینے کی بات ہے کہ آپ کبھی رک نہیں سکتے، آپ کو آگے ہی چلنا ہے“

پاچو ایک کاروباری آدمی ہیں، گاڑیوں کے شوقین اور ایک باپ بھی ہیں۔ ان کی پندرہ سالہ بیٹی اس وقت سے ان کے ساتھ رہتی ہے، جب ان کی اپنی بیوی سے علیحدگی ہو گئی تھی

جب ان کی بیٹی پیدا ہوئی تو ان کی بینائی جا چکی تھی۔ وہ کہتے ہیں ”اگر میری بینائی بحال ہوئی تو میں سب سے پہلے اپنی بیٹی کو دیکھوں گا“

لیکن پاچو کو ریٹینا ٹرانسپلانٹ درکار ہے، جو دستیاب نہیں

تاہم وہ مایوس نہیں، انہیں امید ہے کہ ایک دن سائنس کی مدد سے ان کی بینائی بحال ہو جائے گی

وہ کہتے ہیں ”میں اپنی بیماری کی وجہ سے رک نہیں سکتا اس لیے میں ہر دن بہتر باپ، بہتر شخص اور بہتر بزنس مین بننے کی کوشش جاری رکھتا ہوں۔۔“

Tags:

bad driversbauce racingBlindblind driverblind driverscancelled f1 racecar race drivercar racing newsdrag racedriveDriverdriver attentiondriver lifedriver nabinadriversev drag racef1 race cancelledf1 race cancelled 2020fastest drag race everferrari drag raceferrari rolling raceferrari sf90 racehypercar drag racelife of drivermoto car racenabina drivernot stopping at a red lightracetest drivetired driver
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

فیسبک اور انسٹاگرام پر ’ریلز‘ سے آمدنی کے منصوبے کا اعلان

Next

آسمانی بجلی کو گرنے سے روکنے کی مشین بنا لی گئی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme