Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

نیوزی لینڈ کے قریب سترہ سو لوگوں کا ملک، جو 148 ڈالر کے بدلے جزیرے پر ایک مربع کلومیٹر کی سرپرستی آپ کے نام کرتا ہے!

By Akhtar Rasool
ستمبر 22, 2023 4 Min Read
0

سمندر کے جزیرے خریدنے کی خبریں تو سننے میں آتی رہتی ہیں، لیکن شاید پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ ایک چھوٹے سے ملک کی جانب سے ان کے سمندری حدود کا سرپرست بننے کی پیشکش کی گئی ہے۔ اس ملک کا نام نیو Niue ہے اور یہ نیوزی لینڈ کے قریب بحر الکاہل میں واقع ایک جزیرہ ہے

نیو کا رقبہ محض 260 مربع کلو میٹر اور آبادی 1700 کے لگ بھگ ہے۔ ملک کا زیادہ تر رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے لیکن زیادہ لوگوں کا ذریعہ معاش ماہی گیری ہے۔ اگرچہ یہاں لین دین نیوزی لینڈ کی کرنسی میں ہوتا ہے، لیکن یہ ایک خود مختار جزیرہ ہے

نیو کے وزیراعظم کا نام والٹن ٹیگلیگی ہے۔ ان دنوں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر دنیا بھر کے حکومتی سربراہان اور اعلیٰ عہدے داروں کے ساتھ نیویارک میں تھے

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم ٹیگلیگی نے نیویارک میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے ملک کے سمندری پانیوں کے تحفظ کے لیے بہت سنجیدہ ہیں اور اس کے لیے انہیں دنیا بھر سے سرپرستوں کی ضرورت ہے

ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کا منصوبہ یہ ہے کہ جزیرے کی سمندری حدود کے چالیس فی صد علاقے کو عالمی سطح پر سرپرستی میں دے دیا جائے۔ وہ سمندر کو کسی بڑے ادارے کی سرپرستی میں دینے کی بجائے اس کے چھوٹے چھوٹے یونٹ بنا کر عام لوگوں کو اس عمل میں شامل کرنا چاہتے ہیں

ٹیگلیگی کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے ایک مربع کلومیٹر کے یونٹ بنائے گئے ہیں، جن کی تعداد ایک لاکھ ستائیس ہزار ہے۔ کوئی بھی شخص صرف 148 ڈالر سے بیس سال کے لیے ایک مربع کلومیٹر کی سرپرستی لے سکتا ہے

اس منصوبے کے ذریعے نیو کی حکومت کو ایک کروڑ اَسی لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم ملنے کی توقع ہے، جس سے وہ اپنے سمندری حدود کے پانیوں کو آلودگی، تیزابیت اور غیرقانونی ماہی گیری جیسے مسائل سے بچانے پر صرف کر سکیں گے

بحرالکاہل کے ایک دور افتادہ حصے میں نیوزی لینڈ سے دو ہزار چار سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس جزیرے کو بھی آب و ہوا کی تبدیلی سے انہی خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو گنجان آباد ملکوں کو لاحق ہیں

یہاں کا مرطوب موسم گرم ہو رہا ہے۔ سمندر میں پلاسٹک اور پیٹروکیمیکلز کے کچرے کی مقدار بڑھ رہی ہے۔ جزیرے کی سمندری حدود کی مچھلیوں پر غیر قانونی بیرونی ماہی گیر شب خون مار رہے ہیں۔ جزیرے میں میٹھے پانی کی سطح گھٹ رہی ہے۔ جس پر قابو پانے کے لیے نیو کی مالی ضروریات بڑھ رہی ہیں۔ جس کے لیے اس نے اپنے علاقائی پانیوں کی سرپرستی بیچنے کا سوچا ہے

نیو ایک چھوٹا ملک ہے لیکن اس کے مسائل بڑے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ تو مالی وسائل کا ہے۔ خاص طور پر تعلیم اور روزگار کی سہولیتں بہت محدود ہیں۔ ایک ہزار سات سو نفوس پر مشتمل آبادی ملک کے لیے اتنی آمدنی پیدا نہیں کر سکتی، جس سے ملکی ضروریات پوری کی جاسکیں۔ لوگ نیو کو چھوڑ کر نیوزی لینڈ اور دوسرے ملکوں میں جا رہے ہیں۔ 1960 کی دہائی میں نیو کی آبادی پانچ ہزار سے زیادہ تھی، جو اب گھٹ کر سترہ سو کے لگ بھگ ہو گئی ہے

بہت چھوٹا ملک ہونے کے باوجود کچھ چیزیں اسے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں منفرد بناتی ہیں۔ اس ملک میں فوج اور پولیس نہیں ہے۔ لیکن ایک ہائی کورٹ ہے، جس کے تین جج ہیں۔ نیو میں جرائم کے واقعات کی شرح تقریباً صفر ہے۔ بیرونی جارحیت سے بچاؤ کا معاہدہ نیوزی لینڈ کے ساتھ ہے

نیو ایک جمہوری ملک ہے، جہاں ہر تین سال کے بعد الیکشن ہوتا ہے، جس میں وزیر اعظم کا انتخاب کیا جاتا ہے، لیکن یہاں کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے

ملک کا دارالحکومت الوفی ہے، جس کی آبادی ایک ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ الوفی میں ایک انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی موجود ہے، تاہم اس کا رن وے چھوٹا ہے۔ یہاں ایئر کنٹرول کا نظام نہیں ہے۔ پائلٹ کو اپنی بصیرت اور سوجھ بوجھ کے مطابق جہاز اتارنا اور اڑانا پڑتا ہے

ورلڈ فیکٹ بک کے مطابق نیو میں کام کرنے کے قابل افراد کی کل تعداد چھ سو تریسٹھ ہے۔ سن 2021 میں ملک کی کل قومی آمدنی ایک کروڑ نوے لاکھ ڈالر اور فی کس سالانہ آمدنی تقریباً گیارہ ہزار ڈالر تھی

نیو کی ایک اور انفرادیت یہاں کی چونے کے پتھر کی سمندری چٹانوں کا وسیع سلسلہ ہے، جو سیاحوں کے لیے بڑی کشش رکھتا ہے۔ سمندر کی تہہ میں یہ چٹانیں اس طرح دکھائی دیتی ہیں، جیسے لہروں کے ساتھ رنگ برنگے پھول لہرا رہے ہوں

اس طرح کی چٹانیں سمندر میں پانے جانے والی زندہ خلیوں کے سنگم سے بنتی ہیں۔ وہ اگرچہ سمندر کی تہہ میں ہوتی ہیں لیکن تہہ سے جڑی نہیں ہوتیں

اگرچہ وہ پانی میں پودوں کی طرح لہرا رہی ہوتی ہیں لیکن وہ پودے نہیں ہوتے۔ وہ زندہ خلیے ہوتے ہیں جو کئی صورتوں میں زہریلے بھی ثابت ہوتے ہیں۔

Tags:

1600 establishments in asia1600 establishments in englandarchaeological sites in atticaauckland new zealandbritish rule in singaporechina investment in pakistancities in metro manilacompanies established in 1600countries in north americacountries in the caribbeanCountrydiscovery of new zealandfacts about new zealandfirst people in new zealandgeography of new zealandhistory of new zealandhistory of rhode islandimproves your listening skillsis new zealand part of australiaisland countrieslanguages of new zealandlearn while on the movemoving to new zealandNew Zealandnew zealand (country)new zealand historynew zealand is part of what continentnew zealand itinerarynew zealand lord of the ringsnew zealand travelnew zealand warssmall island developing statestallest tower in the worldtesla hornsdale battery paid in fullwhy isnt new zealand part of australia
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

والدین کے لئے بچوں کی ذہنی صحت کے بارے میں جاننا کتنا ضرروی ہے؟

Next

باغیوں کے علاقے ’چمبل‘ کی کہانی، جہاں اب سیاح ڈاکوؤں کا روپ دھارتے ہیں۔۔

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme