Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

نیوزی لینڈ: گائیوں کے ڈکار کو ماحول دوست بنانے کے لیے محلول تیار

By Akhtar Rasool
نومبر 11, 2022 2 Min Read
0

گائیں اپنے ڈکار کے ساتھ ماحول دشمن میتھین گیس کا اخراج کرتی ہیں، جسے کم کرنے کے لیے اب نیوزی لینڈ کے سائنسدانوں نے کوبوچا نامی ایک خاص محلول تیار کیا ہے

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فونٹیرا ریسرچ سینٹر کی پرنسپل سائنسدان شلومی باسیٹ کا کہنا ہے ”کوبوچا ایک قدرتی محلول ہے, جو نہ صرف نیوزی لینڈ کے فارمز میں بلکہ دنیا بھر میں میتھین گیس کے اخراج کو کم کر سکتا ہے“

شلومی نے کہا ”میرے لیے کامیابی کا لمحہ وہ تھا، جب ہمیں اس محلول کے مویشیوں پر آزمائشی استعمال کے نتائج ملے اور ہم یہ بتا سکے کہ میتھین گیس کا اخراج بیس فی صد کم ہوا تھا اور مزید کم ہو رہا تھا۔ مزید تجربات ابھی جاری ہیں لیکن یہ کامیابی کا احساس دلانے والا لمحہ تھا“

اس محلول کو پانی یا دودھ میں ملا کر تیار کیا جاتا ہے، جو 2024ع میں مارکیٹ میں دستیاب ہوگا یعنی مجوزہ ٹیکس کے لاگو ہونے سے ایک سال پہلے

گذشتہ ماہ ہی نیوزی لینڈ نے ملک میں موجود تین کروڑ ساٹھ لاکھ گائیوں اور بھیڑوں کے جسمانی افعال کے نتیجے میں خارج ہونے والی ان گیسوں پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی تھی، جو آلودگی کا سبب بن رہی ہیں

تاہم نیوزی لینڈ کے طاقتور فارمنگ کے شعبے نے فوری طور پر اس تجویز کی مذمت کی تھی

زرعی صنعت کے مرکزی لابی گروپ فیڈریٹڈ فارمرز سے وابستہ کاشت کاروں نے متنبہ کیا تھا کہ اس تجویز سے اندرون ملک خوراک کی پیداوار کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے

کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے ’نیوزی لینڈ جیسے چھوٹے ملک کو بری طرح نقصان پہنچے گا‘ اور مویشیوں کے باڑوں کی جگہ درخت لے لیں گے

نیوزی لینڈ کی فارمنگ کی صنعت اس کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے، لیکن وہ ملک کے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں سے تقریباً نصف کا سبب ہے

اس ملک کی آبادی صرف پچاس لاکھ ہے لیکن یہاں بڑے گوشت اور ڈیری مصنوعات کے لیے ایک کروڑ کے لگ بھگ مویشی اور دو کروڑ ساٹھ لاکھ بھیڑیں پائی جاتی ہیں

نیوزی لینڈ کی حکومت نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو صفر کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ اس منصوبے کے تحت یہ عزم بھی شامل ہے کہ باڑوں میں پالے جانے والے مویشیوں کے میتھین گیس کے اخراج میں 2030ع تک دس فی صد اور 20250ع تک سینتالیس فی صد کمی لائی جائے گی۔

Tags:

burpsEco-FriendlyNew ZealandSolution
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

مودی سرکار اسلام یا مسیحیت اپنانے پر ریزرویشن کے خلاف کیوں؟

Next

پاکستان میں مرچوں کی کم ہوتی پیداوار کی وجوہات کیا ہیں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme