Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

pakistan-climate-change-impacts
کالماہم ترینتازہ ترین

پاکستان کے موسموں نے اپنا وقت اور مقام بدل لیا؟

By Akhtar Rasool
جنوری 29, 2024 3 Min Read
0

پاکستان کو ایک وقت میں چاروں موسم نصیب ہوتے ہیں اور ہر موسم کے لیے اپنے اپنے علاقے مخصوص ہیں۔ ہمیشہ میدانی علاقوں میں جب گرمی کی شدت سے ریل کی پٹڑیاں پگھلنے لگتی ہیں تو عین اسی وقت برزل پاس، بابو سر ٹاپ، درہ در کوٹ اور بیال کیمپ پر درجہ حرارت منفی سے بھی گر جاتا ہے۔

جب دھول اڑاتی آندھیاں گرم علاقوں کا مقدر بنتی ہیں تو انہی دنوں میں گلگت اور سکردو کے باغات میں طیور نغمۂ بہار گاتے ہیں۔

پاکستان میں دسمبر سردی کی شدت اور برف باری کے حوالے سے مشہور ہے جب کہ جون گرمی اور دھوپ کا زمانہ تسلیم کیا جاتا ہے۔

نہ جانے پوری دنیا کیلینڈر کی ترتیب بھول گئی ہے یا موسموں نے اپنا وقت اور مقامات بدل لیے۔۔ دسمبر میں ہمیشہ پہاڑوں پر برف رُوئی کے گالے بن کر اترتی تھی اور ہر طرف چاندی کا لیپ چڑھ جاتا تھا، جب کہ میدانی علاقے دسمبر کے آخری عشرے اور جنوری کے پہلے ہفتے تک دھند کی لپیٹ میں رہتے تھے۔

دسمبر کے ہی دن ہوا کرتے تھے جب پہاڑی سیر گاہیں سیاحوں سے کچھا کھچ بھری ہوتی تھیں۔ مری اور ناران کے ہل اسٹیشن گرمی کے سیزن کی طرح برف باری کے موسموں میں بھی شاداب رہتے تھے، مگر اب صورت حال مختلف ہے۔

دسمبر کا آخری عشرہ تو کجا ماہ جنوری بھی اپنے آخری عشرے تک پہنچ گیا مگر گلگت، سکردو، ناران، نتھیا گلی، ایوبیہ اور مری ویران پڑے ہیں۔

ناران کے تاجر ہر سال کی طرح امسال بھی اکتوبر میں اپنا کاروبار سمیٹ کر بالا کوٹ، ایبٹ آباد اور مانسہرہ پہنچ گئے تھے مگر وہ بھی حیران ہیں کہ برف باری نے کیوں اپنے نزول کا شیڈول بدل ڈالا۔

جن دنوں مری، نتھیا گلی، ایوبیہ اور ناران برف سے ڈھک جایا کرتے تھے اور لوگ گاڑیوں کے ٹائروں پر باندھنے کے لیے زنجیر تلاش کرتے پھرتے تھے، اب انہی تاریخوں میں خالی سڑکیں اور ویرانی منہ چڑاتی ہے۔

حیران کن بات ہے کہ جنوری کے آخری عشرے میں مری کا درجہ حرارت تو آٹھ ہو، جب کہ گرمی کے حوالے سے مشہور شہر ملتان میں تین!

اب دسمبر اور جنوری میں مری کی صبح سورج اپنی حدت بھری کرنیں نچھاور کرتا ہے اور میدانی علاقے دھند میں حد نگاہ صفر کے ساتھ نو گو ایریاز بنے ہوئے ہیں۔

برف باری کی وجہ سے بند ہونے والے راستے تو کھلے ہیں جبکہ دھند نے میدانی علاقوں میں دیواریں ایستادہ کر رکھی ہیں۔

2023 کے جون میں بھی بابو سرٹاپ پر ہونے والی برف باری نے موسمیات کے ماہرین کو حیران کر دیا تھا اور اب دسمبر ، جنوری میں سنو فال نہ ہونے سے بھی پریشانی لاحق ہے۔

میدانی زمینوں پر فصلوں کی کاشت اور برداشت بھی دو سے تین ماہ پہلے ہونے لگی ہے، جس کا سبب بیجوں کی سائنسی تیاری بتایا جاتا ہے مگر موسموں پر تو مصنوعی ذہانت کا کوئی اثر نہیں ہوتا، تو یہ کیوں اپنے گوشوارے بھول بیٹھے ہیں؟

دسمبر اور جنوری میں برف کی لڑیوں میں بدل جانے والی آبشاریں بھی سست روی سے سہی رواں تو ہیں۔ خشک سالی بلند وادیوں پر یوں دستک دے رہی ہے، جیسے آنے والے دنوں میں دریا بھی پتھروں سے ٹکراتی طغیانی سے خالی خالی ہوں گے۔

دسمبر اور جنوری کی اس غیر متوقع موسمی تبدیلی نے سیاحتی حوالے سے بھی منفی رجحان پیدا کیا ہے۔ جہاں سیاحوں کو اپنا شیڈول تبدیل کرنا پڑا ہے، وہاں ہل اسٹیشنز سے متعلق کاروباری افراد کو بھی مایوسی ہوئی ہے۔

تعلیمی اداروں اور دیگر محکموں میں ہونے والی سردی کی سالانہ چھٹیوں کے دوران بھی ہل اسٹیشنز آباد نہیں ہو سکے۔ موسمی تبدیلی کی وجہ سے دسمبر میں ہونے والی چھٹیوں کو جنوری میں منتقل کرنے کے مطالبات بھی سامنے آئے ہیں۔

دسمبر اپنی شناخت شاید اس لیے بھی کھو رہا ہے کہ جون میں برف باری نے موسموں کا ٹریک ہی بدل ڈالا۔ ممکن ہے مستقبل قریب میں موسمی شدت کا شیڈول گلوبل وارمنگ کا محتاج ہو جائے۔

پہاڑ اور میدان درختوں سے خالی ہو جائیں تو فطرت بھی کسی زمانی و زمینی گوشواروں کی پابند نہیں رہتی۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

ClimateClimate changeclimate change animationclimate change effectsclimate change impactclimate change impact on indiaclimate change impact on pakistanclimate change impactsclimate change in pakistanclimate change ministerclimate change newsClimate change pakistanclimate changes effects on pakistanClimate Crisiseffects of climate change animationimpacts of climate changePakistanpakistan floodspakistan newspakistani news
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
shrinking-beaches-and-sand-dunes-threaten-the-balance-of-the-environment
Previous

سکڑتے ساحل سمندر اور ریتیلے ٹیلے ماحول کے توازن کے لیے خطرہ

welfare-fascist-and-hyrbrid-state
Next

فلاحی، فاشسٹ، ہائبرڈ اور چھچھوری ریاست کا فرق:

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme