Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

پاکستان کے گرم ترین شہر جیکب آباد میں پانی کی قلت غربت میں اضافے کا سبب کیسے؟

By Akhtar Rasool
مئی 18, 2022 3 Min Read
0

موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے کئی علاقے اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے ہیٹ سٹروک کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے، جو بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پاکستان کا صوبہ سندھ ’ہیٹ ویو‘ کے ہائی الرٹ پر ہے، جس کے شہر جیکب آباد میں ہفتے کے آخر میں درجہ حرارت 51 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا

شہر میں نہریں جو قریبی کھیتوں کے لیے آبپاشی کا ایک اہم ذریعہ ہیں، خشک ہو چکی ہیں

واضح رہے کہ جیکب آباد کے بڑھتے درجہ حرارت کے باعث عالمی تحقیق میں اسے ناقابل رہائش شہر قرار دیا گیا ہے

جیکب آباد کے ڈپٹی کمشنر عبدالحفیظ سیال کہتے ہیں ’یہ شہر موسمیاتی تبدیلی کی فرنٹ لائن پر ہے۔ اس لیے یہاں معیار زندگی متاثر ہو رہا ہے۔‘

جیکب آباد اور آس پاس کے دیہاتوں میں دس لاکھ افراد میں سے زیادہ ترسخت غربت کی زندگی گزار رہے ہیں

پانی کی قلت اور بجلی کے بحران نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے

جیکب آباد کے ایک اسکول کے بارہ سالہ طالب علم سعید علی کو تشویشناک حالت میں ہسپتال لایا گیا، جو اسکول سے واپس گھر جاتے ہوئے گرمی کی وجہ سے چکرا کر گر پڑے تھے

بچے کی والدہ شہیلہ جمالی نے اے ایف پی کو بتایا ’ایک رکشہ ڈرائیور میرے بیٹے کو یہاں لے کر آیا۔ یہ چل بھی نہیں پا رہا تھا‘

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سعید کی حالت تشویشناک ہے، تاہم غربت کے ہاتھوں مجبور بچے کی والدہ کہتی ہیں کہ وہ اگلے ہفتے اسکول واپس جائے گا

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ وہ بڑے ہو کر مزدور بنے‘

مقامی این جی او کمیونٹی ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے زیر انتظام ایک نئے ہیٹ اسٹروک کلینک میں سعید کا علاج کرنے والے نرس بشیر احمد نے کہا کہ ’تشویشناک حالت میں آنے والے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے. پہلے گرمی جون اور جولائی میں اپنے عروج پر ہوتی تھی لیکن اب یہ مئی میں آ رہی ہے۔‘

دھوپ میں کام کرنے پر مجبور مزدور سب سے زیادہ کمزور ہیں۔ اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے رشید رند نے بتایا کہ ’شدید گرمی کی وجہ سے بعض اوقات یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم کام چھوڑ دیں، لیکن اگر میں کام نہیں کر سکتا تو کما نہیں سکتا‘

لوہار شفیع محمد نے کہا کہ ’یہ ایسا ہے جیسے چاروں طرف آگ جل رہی ہو۔ ہمیں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ بجلی اور پانی ہے‘

بجلی کی قلت کا مطلب یہ ہے کہ دیہی علاقوں میں روزانہ صرف چھ گھنٹے اور شہر میں بارہ گھنٹے بجلی دستیاب ہوتی ہے

پاکستان بھر بنیادی ڈھانچے کے بڑے مسائل کی وجہ سے پینے کے پانی تک رسائی ناقابل بھروسہ اور استطاعت سے باہر ہے

شہر کے مضافات میں واقع ایک گاؤں میں خواتین صبح تین بجے اٹھتی ہیں تاکہ پینے کا پانی کنویں سے نکال سکیں لیکن یہ پورے دن کے لیے کافی نہیں ہوتا

بھینسوں کا دودھ اور گوشت بازار میں فروخت کرنے والے رہائشی عبدالستار نے بتایا کہ ’ہم اپنے مویشیوں کو پینے کا صاف پانی دیتے ہیں کیونکہ ہماری روزی روٹی کا انحصار انہی پر ہے۔ اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا چاہے بچے جِلدی بیماری اور اسہال کا شکار ہوں‘

ان کا کہنا تھا ’یہ ایک مشکل انتخاب ہے لیکن اگر مویشی مر جائیں تو بچے کیسے کھائیں گے؟‘

ماحولیاتی این جی او جرمن واچ کے مرتب کردہ گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید موسم کے خطرے دوچار آٹھواں ملک ہے

حالیہ برسوں میں سیلاب، خشک سالی اور طوفانوں نے ہزاروں افراد کو ہلاک اور بے گھر کیا جبکہ ذریعہ معاش کو بھی متاثر کیا ہے اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے

گرم شہروں میں شہری منصوبہ بندی کا مطالعہ کرنے والی پروفیسر نوشین ایچ انور کا کہنا ہے کہ حکام کو ہنگامی ردعمل سے ہٹ کر طویل مدتی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے.

Tags:

Climate changeGlobal warmingHeat WavesHeatwavesJackobabadPakistanSindhWater Crisis
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

گوادر: ساحلِ سمندر پر چھ رویہ ’ایسٹ بے ایکسپریس وے‘ مکمل

Next

’ڈیجا وُو‘ کیا ہے، اور یہ کیوں ہوتا ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme