Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Flooding-in-Libya-due-to-groundwater-release
عالمیاہم ترینتازہ ترینخبریں

پراسرار اور انوکھی صورتحال، لیبیا میں زیرِ زمین پانی کے اخراج سے سیلاب

By Akhtar Rasool
فروری 16, 2024 3 Min Read
0

افریقی عرب ملک لیبیا کا زیادہ تر رقبہ خشک صحرا پر پھیلا ہوا ہے، مگر بحیرہِ روم کا ایک ساحلی قصبہ خشک سالی کے برعکس ایک انوکھے مسئلے کا شکار ہے۔ اس قصبے کے گھر اور کھیت زیرِ زمین پانی کے پُراسرار اخراج کی وجہ سے زیر آب آتے جا رہے ہیں

رپورٹس کے مطابق کھڑے پانی اور کیچڑ نے لیبیا کے شمال مغربی قصبے زلیتن میں واقع گھروں، گلیوں اور کھجور کے باغات میں سیلابی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس سے بدبو پھیل رہی ہے اور مچھروں کی افزائش ہو رہی ہے۔

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس سے لگ بھگ ایک سو ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر مشرق میں واقع اس قصبے میں ممکنہ سنگین ماحولیاتی بحران کے پیشِ نظر بہت سے مقامی افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر جانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ زلیتن میں واقع زیادہ تر گھروں کی دیواروں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں یا وہ گر گئی ہیں۔

یہاں کے رہائشی محمد علی بتاتے ہیں ”دو ماہ قبل پانی کا یہ اخراج شروع ہوا اور اب تو کنویں بھی زیرِ آب آ چکے ہیں۔ میرے پھلوں کے سبھی باغات تباہ ہو چکے ہیں۔‘‘

زلیتن سے چار کلو میٹر دور واقع ایک زرعی فارم کے مالک محمد علی نے مزید بتایا کہ انہوں نے اس پانی کو پمپ کرنے کے لیے ٹرک کرائے پر لیے جبکہ اپنی قیمتی کھجوروں کو بچانے کے لیے ریت بھی خریدی تاکہ پانی کو خشک کیا جا سکے، تاہم اس سے فائدے کی بجائے نقصان ہی ہوا۔

اسی علاقے کے ایک کسان محمد النوری کے مطابق پانی پر ریت ڈالنے کی وجہ سے کیچڑ پیدا ہو گئی، جس سے علاقے میں بدبو پھیل چکی ہے۔

تقریباً ساڑے تین لاکھ کی آبادی والے اس شہر کے میئر مفتاح حمدی نے بتایا کہ تقریباً پچاس خاندانوں کو دیگر مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے

زلیتن شہر صوفی مزارات اور الاسماریہ یونیورسٹی کے علاوہ کھجور اور زیتون کے باغات کے لیے مشہور ہے۔

قبل ازیں وزیراعظم عبدالحميد محمد عبدالرحمٰن الدبيبہ نے رواں ماہ ہی اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ سائنسی طریقوں سے فوری طور پر اس بحران کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے، جبکہ بے گھر ہونے والے خاندانوں کو معاوضہ دیا جائے گا اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا

تاہم بدقسمتی سے حکومتی کوششوں کے باوجود ابھی تک زلیتن میں اس پراسرار سیلابی صورتحال کی وجہ معلوم نہیں کی جا سکی ہے۔

واضح رہے کہ سن 2011ع میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے شمالی افریقی ملک لیبیا تنازعات اور افراتفری کا شکار رہا ہے اور طرابلس اور بن غازی میں متوازی حکومتیں فعال ہیں۔

ستمبر میں دو ڈیموں کے منہدم ہونے کی وجہ سے لیبیا کے مشرقی شہر درنا میں شدید سیلاب نے تباہی مچا دی تھی۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس سیلاب کی وجہ سے چار ہزار تین سو سے زائد افراد ہلاک جبکہ آٹھ ہزار سے زائد لاپتہ ہو گئے تھے۔

زلیتن کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ زیرِ زمین پانی کا یہ اخراج کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن ایسی سیلابی صورتحال پہلی مرتبہ نوٹ کی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس میں اس سیلاب کی مختلف ممکنہ وجوہات بھی بیان کی گئی ہیں، جن میں نکاسیِ آب کے ناقص انفراسٹرکچر سے لے کر خراب پائپ لائنیں اور موسم سرما کی شدید بارشیں بھی شامل ہیں۔

برطانیہ، مصر اور یونان سمیت متعدد ممالک کے ماہرین نے زلیتن میں اس سیلابی صورتحال کی تدابیر کے لیے اس شہر کا دورہ کیا ہے۔

دنیا کے دیگر متعدد علاقوں میں سطح سمندر میں اضافے کو ساحلی زیرِ زمین پانی میں اضافے کی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سمندر کا گاڑھا نمکین پانی واٹر ٹیبل میں داخل ہو کر ہلکے میٹھے پانی کو اوپر دھکیل سکتا ہے۔

اس دوران لیبیا کے حکام نے سیلاب اور نام نہاد عظیم انسان ساختہ دریا کے درمیان کسی بھی تعلق سے انکار کیا ہے، جو قذافی دور کے پائپوں کا ایک بڑا نیٹ ورک ہے جو ساحلی کھیتوں کے علاقوں کو سیراب کرنے کے لیے جنوبی صحرا کے نیچے گہرے آبی ذخائر سے پانی فراہم کرتا ہے۔

پراجیکٹ کی انتظامی کمپنی کے ساتھ ساتھ ملک کی اہم پانی اور بجلی کی سہولیات فراہم کرنے والے اداروں نے شہر کی مشکلات کو کم کرنے کی کوششوں میں شمولیت اختیار کی ہے اور ملک کے قومی مرکز برائے امراض قابو نے مچھروں کے بھیڑ کو ختم کرنے کے لیے ہنگامی ٹیمیں، آلات اور جراثیم کش ادویات روانہ کر دی ہیں۔ تاہم مقامی آبادی کے مطابق ابھی تک صورتحال مخدوش ہی ہے۔

Tags:

clean water issue in libyalack of water in libyalargest water pipeLibyalibya aidlibya death tolllibya deathslibya disasterlibya floodlibya floodslibya latest newslibya newslibya updatelibya water crisislibya water shortagelibya water stressnubian water layerthe great man made river in libyaunderground river of libyaWaterWater Crisiswater distributionwater in the desertwater problemswater under the sahara.
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
sindh-gda-election-24-pakistan
Previous

سندھ: الیکشن کے بعد جی ڈی اے کی کیا پوزیشن ہے؟

story-of-karachi-history-of-karachi-amar-jalil
Next

کراچی کی باتیں

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme