Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

sindh-gda-election-24-pakistan
قومیاہم ترینتازہ ترینخبریں

سندھ: الیکشن کے بعد جی ڈی اے کی کیا پوزیشن ہے؟

By Akhtar Rasool
فروری 16, 2024 3 Min Read
0

الیکشن کمیشن کی جانب سے 8 فروری کے انتخابات کے جاری کردہ غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا ہے اور انفرادی حیثیت میں حکومتی تشکیل کے مراحل طے کر رہی ہے، جبکہ ان نتائج بعد سندھ سے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) ایوان میں اپنا اثر و رسوخ کھو بیٹھی ہے

عام انتخابات کے نتائج کے مطابق سندھ کی صوبائی اسمبلی کی 130 جنرل نشستوں میں سے جی ڈی اے صرف 2 سیٹیں جیت پائی ہے۔ جی ڈی اے اپنے مضبوط علاقے تھرپارکر، بدین، لاڑکانہ، دادو، شکار پور اور میرپور خاص سمیت دیگر علاقوں سے سیٹیں جیتنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ جی ڈی اے ان نتائج کے پیچھے بڑی دھاندلی کا دعویٰ کر رہی ہے

سندھ کے ضلع بدین میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مخالف جی ڈی اے امیدوار مرزا خاندان سے تھے۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور فہمیدہ مرزا کے کاغذات مسترد ہونے کے بعد بحال ہونے میں وقت لگا اور اس دوران فہمیدہ مرزا کی قومی اسمبلی پر ان کے بیٹے حسام مرزا کو جی ڈی اے کا نشان ستار الاٹ ہو گیا

بعد ازاں فہمیدہ مرزا کی کوششوں کے باوجود انہیں جی ڈی اے کا نشان نہ مل سکا اور وہ ستارے کے نشان پر الیکشن نہ لڑ سکیں۔ اسی طرح ڈاکٹر ذوالفقار مرزا بھی اپنی انتخابی مہم میں سرگرم نظر نہیں آئے، جس کا بھرپور فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوا

سندھ کے صحرائی علاقے تھرپارکر کی قومی اسمبلی کی نشست پر جی ڈی اے کو دوسری بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا، جہاں پیپلز پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے سابق وزیر اعلیٰ سندھ اور جی ڈی اے کے رہنما ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کو شکست دی۔ اس حلقے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور جی ڈی اے کے درمیان اچھا مقابلہ دیکھنے میں آیا ہے

پاکستان کے دوسرے بڑے اور سندھ کے سب سے بڑے حلقہ این اے 209 سانگھڑ سے بھی جی ڈی اے کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ واضح رہے کہ یہ علاقہ سندھ میں پیر صاحب پگارا کے ماننے والوں کا حلقہ کہلاتا ہے۔

اس حلقے میں 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی ترجمان شازیہ مری کامیاب ہوئی ہیں۔ انہوں نے جی ڈی اے کے مضبوط امیدوار محمد خان جونیجو کو شکست دی۔ اس حلقے سے شازیہ مری نے ایک لاکھ 56 ہزار 2 ووٹ حاصل کیے ہیں، جبکہ ان کے مخالف جی ڈی اے کے امیدوار محمد خان جونیجو نے 1 لاکھ 39 ہزار 604 ووٹ حاصل کیے۔

اس علاقے سے ماضی میں پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کامیاب ہوتی رہی ہے لیکن اس بار جی ڈی اے کے اتحاد کے باوجود یہ سیٹ پیپلز پارٹی کے نام رہی۔

ملک بھر میں جہاں عام انتخابات میں ناکام ہونے والی سیاسی جماعتیں احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں، وہیں سندھ میں بھی مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے نتائج کو تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے۔

سندھ میں اپنے مضبوط علاقوں سے امیدواروں کی شکست پر جی ڈی اے بھی سراپا احتجاج ہے۔ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنما اور مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگارا صبغت اللہ شاہ راشدی نے انتخابی نتائج کو یکسر مسترد کرتے ہوئے سندھ سے کامیابی حاصل کی جانے والی دو نشستوں کو احتجاجاً چھوڑنے کا اعلان کیا ہے

کراچی میں جی ڈی اے کے اجلاس کے بعد پیر پگارا صبغت اللہ شاہ راشدی کا کہنا تھا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی سے اتحاد نہ کرنے کی وجہ سے جی ڈی اے کو سیٹیں نہیں دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ فیصلہ ہو چکا کہ صوبہ سندھ پی پی کو دینا ہے تو ہمیں دی گئی دو نشستیں بھی پیپلز پارٹی کو ہی دے دیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن کے نتائج کو مسترد کرتے ہیں، آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہم ہر فورم پر آواز بلند کریں گے۔

سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر توصیف احمد کہتے ہیں ”ملک بھر میں ہوائیں کس طرف تھیں، یہ سب کو نظر آگیا ہے، ووٹ کسی کو ملے اور سیٹیں کسی کو ملی ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی پوزیشن اچھی ہے، لیکن کئی علاقوں میں پیپلز پارٹی کے مخالف گروپ بھی اپنی شناخت اور ووٹ بینک رکھتے ہیں۔ یہ کہنا کہ پیپلز پارٹی اندرون سندھ میں اکیلی جماعت ہے درست نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا ”جی ڈی اے اندرون سندھ کی ایک سیاسی حقیقت ہے، اسے تسلیم کرنا چاہیے۔ ماضی میں بدین، لاڑکانہ اور سانگھڑ سمیت دیگر علاقوں سے پیر پگارا اور ذوالفقار مرزا سمیت دیگر جماعتوں کو نشستیں ملتی رہی ہیں۔“

Tags:

2024 election night8 feb election resultsElectionelection 2024election 2024 in pakistanelection 2024 of pakistanelection 2024 resultselection in pakistanelection newselection results liveelectionselections 2024elections in pakistanelections updategeneral election 2024latest election results pakistanpakistan electionpakistan election 2024Pakistan Electionspakistan elections resultsSindh Electionsindh elections
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
World-of-Chandra-Fiction-selected-from-Urdu-literature-
Previous

چندرو کی دنیا (اردو ادب سے منتخب افسانہ)

Flooding-in-Libya-due-to-groundwater-release
Next

پراسرار اور انوکھی صورتحال، لیبیا میں زیرِ زمین پانی کے اخراج سے سیلاب

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme