Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

پردیس میں لوگوں کی یاد یا بے ترتیب شہروں کا اپنا پن؟

By Akhtar Rasool
اپریل 5, 2023 3 Min Read
0

پیلا رنگ مجھے خاص پسند نہیں، براؤن بھی گزارے لائق ہے۔ ہرے کو دیکھ لیں، اکیلا سبز بھی کس ہی کام کا ہوتا ہے؟

وان گو سورج مکھی پینٹ کر چکا ہے، شاہ رخ اور کاجل اس کھیت میں گانا گا چکے ہیں، مرزا اطہر بیگ نے حسن کی صورت حال میں بہت ہی طاقتور سین پورے سورج مکھی کے کھیت پر لکھ دیا ہے تو میں نے اب کیا کہنا ہے؟

سب عشق کرتے ہیں، کیا سبھوں کی کہانی بھی ایک جیسی ہوتی ہے؟

سورج مکھی سے پتیاں الگ کر لیں، بیچ والا بھورا پارٹ بھی نکال دیں کہ اس کا نام اب یاد نہیں اور انگلیاں لفظوں کے چکر میں ٹہلتی ہوئی آگے جا رہی ہیں، تو وہ براؤن حصہ بھی نکل گیا، ٹہنی اب خالی ہے۔

یہ تین الگ حصے ایک دوسرے سے دور پڑے ہوں تو ان پر کیا پیار کسی کو آئے گا؟

آپ نے پھول نوچ کر یہ سب آپریشن نہیں کرنا۔ دماغ میں صرف سوچیں کہ اگر یہ تینوں چیزیں الگ الگ پڑی ہوں تو کیا اٹریکشن ہو سکتی ہے ان میں؟

کیا زندگی ترتیب کا نام ہے؟

یہی سورج مکھی جب کہیں اکٹھے اُگے ہوں تو کتنی ترتیب میں لگے ہوتے ہیں؟ وہ بے ترتیبی بھی پیاری لگتی ہے، اگر جُھنڈ والا معاملہ ہو

سورج مکھی میں شاید یہ ترتیب ایک بڑے سے کُل کا چھوٹا سا حصہ ہے۔ اس سے زیادہ کیا ہے؟

تصور کریں کہ آپ کسی ایسے شہر میں ہیں، جہاں نیچر کے وحشی پنے کا دور دور تک کوئی سین نہیں ہے۔ آنکھیں تھک نہیں جائیں گی؟

جیسے ایک ترتیب ہے سورج مکھی میں لیکن سورج مکھی کے کھیت میں اگر وہی جیومیٹریکل قسم کی ترتیب ہوگی تو وہ روبوٹک یا بہت فوٹو شاپڈ قسم کا کھیت لگے گا۔

تو ایسے آپ کہیں ہوں کہ جہاں سارا شہر ترتیب کا مارا ہوا ہو۔ درختوں کی اونچی والی شاخیں تک باضابطہ کٹائی کا شکار ہوں، کوئی بیل ہو تو وہ باقاعدہ چوکور، مستطیل یا گول کٹی ہوئی ہو، فٹ پاتھوں پہ اگے پھولوں کا ایک ہی سائز ہو، مٹی کیاریوں کے علاوہ کہیں نام کو نہ ہو اور سب چیزیں مکمل ترتیب میں ہوں

اگر آپ ایسی کسی جگہ ہوں تو زیادہ سے زیادہ کتنے دن وہاں رہ سکتے ہیں؟

ہم لوگ نہیں رہ سکتے۔۔

باہر جا کے سب سے زیادہ ہم اس بے ترتیبی کو یاد کرتے ہیں۔

آپ جائیں کسی بھی ترتیب زدہ شہر میں، لینڈنگ کے وقت آپ بڑے شوق سے قطار اندر قطار گھروں، سبزے کے تختوں یا سڑکوں کی ویڈیوز بنائیں گے، لگائیں گے۔۔۔ پھر آپ ایک دو ہفتے میں تھک جائیں گے۔

آپ دو چیزوں کو یاد کریں گے۔ پورے شہر کی بے ترتیبی کو اور اپنے ذاتی گھر کی ترتیب کو۔۔ وہ کمرہ کہ جہاں گھپ اندھیرے میں ایک ہاتھ کی دوری پہ دو موبائلوں سمیت پوری زندگی میں جو کچھ کام آ سکتا ہے، وہ سب پڑا ہوتا ہے۔ وہ ترتیب اور چھت میں کڑیوں تک کی ترتیب وہاں آپ کے دماغ میں چلتی ہے۔

اب کہ جب آپ واپس آتے ہیں تو اپنے کسی شہر اترتے ہوئے چھتوں کی ٹینکیاں بھی دلکش لگ رہی ہوتی ہیں۔

سورج مکھی کی طرح ترتیب صرف ایک پھول کی حد تک پیاری ہے شاید۔۔۔ یہی ترتیب اگر درختوں پہ نازل ہو جائے تو کیا ہو؟ پودے کے درخت بننے سے پہلے آپ کو علم ہو کہ بارہ شاخیں اتنی اونچائی تک دائیں بائیں نکلیں گی تو کیا مزہ رہا؟

انسان بہت بعد میں آتے ہیں، زمین اور ماحول کا نمبر ان سے بہت پہلے ہے۔۔۔ ہمیں احساس نہیں ہوتا۔

ہم لوگوں کو یاد کر کے روتے ہیں اور دماغ میں بے ترتیب شہر چل رہے ہوتے ہیں!

بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

american behaviorBehaviorBehaviorsCitiescities control our behaviorcities skylinecities skylinescity controls behaviorcontrols people's behaviorselegant behavioreuropean behaviorfreedom to petition for redress of grievancesgood behaviorgovernment controls behaviorhow architecture influences behaviorhow architecture shapes behaviorHuman Behaviorkids behaviorpsychology of human behaviorthe behavior panel
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سعودی فٹبال کلب کی میسی کو 400 ملین یورو کے معاہدے کی پیشکش

Next

کراچی: ماضی، حال اور مستقبل (پہلا حصہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme