Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

چترال میں شادی کی رسموں پر جِرگے کی پابندی کا ایک برس کیسا رہا؟

By Akhtar Rasool
اپریل 26, 2023 3 Min Read
0

لاسپور صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع چترال کی ایک خوب صورت وادی ہے، جو چھ دیہاتوں پر مشتمل ہے اور اس کی کل آبادی تقریباً دس ہزار کے لگ بھگ ہے

اس گاؤں میں گزشتہ برس جنوری میں مقامی جرگے نے جہیز اور شادی میں فضول خرچی پر پابندی لگا دی تھی اور اس کے بعد سے اکثر لوگ شادیاں سادگی سے کر رہے ہیں

دراصل گاؤں کے مقامی افراد نے ایک برس قبل جنوری 2022 میں ایک جرگہ بلایا، جہاں شادی بیاہ کو آسان بنانے کے لیے متفقہ طور پر ایک قرارداد پاس ہوئی تھی۔
یہ قراردار سید صاحب جمال کی سربراہی میں گاؤں کے بیس سے زائد عمائدین نے منظور کی

قرارداد کے مطابق شادی بیاہ میں جہیز اور دیگر غیر ضروری اخراجات پر پابندی عائد کر دی گئی۔ مقامی عمائدین نے اس قرارداد کے ذریعے شادی بیاہ میں کفایت شعاری اپنانے پر اتفاق کیا

علاوہ ازیں مقامی جرگے نے شادی کی تقریبات میں کچھ دیگر سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کر دی تھی، جن میں ولیمے اور بارات میں زیادہ مہمانوں کو مدعو کرنا، موسیقی پر خرچ کرنا اور دلہن کو جہیز کی مد میں سامان دینا شامل ہے

مقامی جرگے میں اتفاق رائے سے پاس کی گئی یہ قرارداد علاقے کے زعماء نے ضلعی انتظامیہ اپر چترال کو بھی پیش کی تھی

مقامی لوگوں کے جرگے میں یہ عہد کیا گیا کہ باہمی رضامندی سے کیے گئے اس فیصلے پر عمل کرنا امیر اور غریب پر یکساں طور پر لازم ہوگا، بصورت دیگر اس قرار داد کے مطابق سزا ہوگی

قرارداد کے مطابق جرگے کے فیصلوں کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے گا۔ ایسے خاندان کی خوشی میں علاقے کے لوگ شریک نہیں ہوں گے اور اس شخص کو ہر اچھے برے وقت میں سماجی تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا

لیکن سوال یہ ہے کہ ایک برس گزرنے کے بعد جرگے کا فیصلہ لوگوں کے لیے کتنا مُفید ثابت ہوا؟

اس بارے میں مقامی نوجوان انوار الملک، جن کی شادی اس قرارداد میں طے پانے والے ضوابط کے تحت ہوئی تھی، اس شادی میں ان کے بھائی بھی دولہا بنے تھے، وہ بتاتے ہیں ”قرارداد کے مطابق شادی کے انتظامات نہایت سادگی سے کیے گئے، صرف قریبی رشتے داروں کو مدعو کیا اور ہر قسم کی فضول خرچی سے اجتناب کیا گیا“

انوار الملک کا کہنا ہے ”اگر پرانی روایت کے مطابق شادی کرتے تو ہم دونوں بھائیوں کی شادی پر کم سے کم آٹھ لاکھ روپے تک کا خرچ آتا لیکن علاقے کے نئے دستور کی وجہ سے ایک لاکھ روپے میں شادی ہو گئی“

لاسپور گاؤں کے سماجی کارکن امیر نیاب کہتے ہیں ”جرگے کے فیصلے کی وجہ سے مہنگائی کے دور میں شادی بیاہ بہت آسان ہو گیا ہے۔ ہمارے خاندان میں بیٹیوں کی رخصتی کے وقت جہیز دیا گیا اور نہ ہی لڑکے سے کوئی مطالبہ ہوا“

امیر نیاب کے مطابق ”گاؤں کے 80 فیصد رہائشیوں نے جرگے کے فیصلے کے مطابق شادیاں کرنا شروع کر دی ہیں کیونکہ ہر کوئی آسانی چاہتا ہے“

واضح رہے کہ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں شادی کے وقت لڑکی کو جہیز کی صورت میں سونے کا زیور اور سامان دینے کی روایت عام ہے لیکن چترال میں یہ روایت بالکل اس کے برعکس ہے

سماجی ورکر امیر نیاب نے بتایا ”چترال میں شادی کرنے کے لیے لڑکی کے خاندان والے جہیز دینے کے پابند نہیں بلکہ چترال کی یہ روایت رہی ہے کہ لڑکی کے خاندان والے اپنی مرضی کے مطابق لڑکے سے پیسے مانگیں گے۔ پیسوں کے علاوہ لڑکی کے رشتے داروں کے لیے کپڑے اور جوتے بھی دُلہے کے گھر سے آنا ضروری ہیں۔ یہی نہیں دلہن کے گھر والوں کی جانب سے دلہے سے مال مویشی اور بندوق کی فرمائش کرنا بھی رواج کا حصہ ہے“

انہوں نے کہا ”ان رسوم و رواج کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے کیونکہ ہمارے یہاں بیشتر نوجوان اس رسم کی وجہ سے لاکھوں روپے کے مقروض ہو جاتے ہیں“

لاسپور ویلی میں قرارداد کی منظوری کے بعد بیش تر شادی تقریبات سادگی سے منعقد ہوئیں۔ چند ایک گھرانوں نے جرگے کے فیصلے کی خلاف ورزی کی، جس پر بعد ازاں ان افراد نے جرگے کے عمائدین سے معافی مانگی اور آئندہ ایسا نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ چترال سے باہر لڑکی کی شادی کے لیے لڑکے کو اپنا کیریکٹر سرٹیفکیٹ دکھانا لازمی قرار دیا گیا ہے جس کے لیے خیبرپختونخوا اسمبلی سے باقاعدہ ایک قرارداد بھی منظور ہوئی تھی۔

Latest

Tags:

aftab iqbal in khabarnakChitralchitral newschitrali sehtar playingfiring in pakistanfiring in pathan weddingfiring on pathan's weddinghealth in urduhealth tips in urdujihadist groups in afghanistanjihadist groups in pakistanlearn while on the movelocal elections in kpkmarriage19pictures of gilgit baltistanprovinces of pakistanreal health care in urdushadi firing in pakistanshadi me firing in pakistanwedding firing in dance
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پہلی بار کسی بڑے امریکی شہر میں پانچوں وقت اذان دینے کی اجازت

Next

آسٹریلوی جزیرہ، جو دس لاکھ ڈالر میں خریدا جا سکتا ہے!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme