Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

چین کا مصنوعی سورج ’اصل سے پانچ گنا زیادہ گرم‘

By Akhtar Rasool
جنوری 6, 2022 2 Min Read
0

بیجنگ – چینی کے تیارکردہ ایک نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر نے سترہ منٹ سے زائد عرصے تک مسلسل سورج سے پانچ گنا زیادہ گرم چلنے کے بعد بلند درجہ حرارت کا نیا رکارڈ قائم کیا ہے

شنہوا نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ ری ایکٹر جسے ’مصنوعی سورج‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، تجربات کے دوران سات کروڑ ڈگری سیلسیس حرارت تک پہنچ گیا

ایڈوانسڈ سپر کنڈکٹنگ ٹوکاماک (ای اے ایس ٹی) نامی مصنوعی سورج کی یہ مشین تیار کرنے کا حتمی مقصد ستاروں کے اندر ہونے والے قدرتی رد عمل کی نقل کرکے تقریباً لامحدود توانائی فراہم کرنا ہے

اس ضمن میں تازہ ترین تجربے کی قیادت کرنے والے چینی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹیٹیوٹ آف پلازما فزکس کے محقق گونگ ژیانزو کا کہنا ہے کہ حالیہ آپریشن فیوژن ری ایکٹر کو چلانے کی جانب ایک ٹھوس سائنسی اور تجرباتی بنیاد فراہم کرتا ہے

واضح رہے کہ اے ای ایس ٹی پروجیکٹ پر اب تک سات سو ارب یورو سے زیادہ لاگت آ چکی ہے، یہ تجربہ جون تک جاری رہے گا

نیوکلیئرفیوژن کو صاف توانائی کی زیادہ پیداوار رکھنے والا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، تاہم ٹیکنالوجی میں کئی دہائیوں کی تحقیق کے باوجود ابھی اس کو لیبارٹری کے باہر نہیں کیا جا سکتا

اصل سورج کی طبیعیات کو نقل کرتے ہوئے، نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر جوہری مرکزے کو ضم کرتے ہیں، تاکہ بڑے پیمانے پر توانائی پیدا کر کے اسے بجلی میں تبدیل کیا جا سکے

ماہرین کے دعوے کے مطابق نیوکلیئر فیوژن کے عمل کے برعکس، جو تجارتی جوہری توانائی کی پیداوار کو طاقت دیتا ہے، اس عمل کے لیے کسی جلنے والے ایندھن کی ضرورت نہیں ہے اور اس کے بعد کوئی خطرناک مواد نہیں رہ جاتا

طبیعیات دان یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ اس میں ماحولیاتی تباہی کا خطرہ بہت کم ہے

چین کی ری ایکٹر ٹیم ایک اور نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر میگا پروجیکٹ کو تکنیکی معاونت فراہم کرے گی جو اس وقت فرانس کے شہر مارسل میں تعمیر کیا جا رہا ہے

بین الاقوامی تھرمونیوکلیئر تجرباتی ری ایکٹر (آئی ٹی ای آر) مکمل ہونے کے بعد دنیا کا سب سے بڑا ری ایکٹر ہوگا

جبکہ برطانیہ بھی اپنے ’گرین انڈسٹریل انقلاب‘ کے حصے کے طور پر نیوکلیئر فیوژن پاور اسٹیشن تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس میں گزشتہ ماہ اعلان کردہ سائٹ کے لیے پانچ مقامات کو شارٹ لسٹ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا

سفیریکل ٹوکاماک فار انرجی پروڈکشن (سٹیپ) پروجیکٹ کا مقصد یہ ہے کہ 2024ع تک ایک تصوراتی ڈیزائن تیار کیا جائے اور 2040ع کی دہائی میں لوگوں کے گھروں کو بجلی پہنچائی جائے.

Tags:

Artificial sunNuclear fusionSun
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کراچی یونیورسٹی کی طالبات کو ہراساں کرنے والے ملزمان گرفتار

Next

سونی بھی الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے کے لیے پر تولنے لگی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme