Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینسائنس و ٹیکنالوجی

چیٹ جی پی ٹی سے مقابلہ، گوگل آئندہ ہفتوں میں ’بارڈ‘ لانچ کرے گا

By Akhtar Rasool
فروری 8, 2023 5 Min Read
0

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ انکارپوریٹڈ نے اپنی حریف کمپنی مائیکروسافٹ کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے مقابلے میں کہا ہے کہ وہ اپنے سرچ انجن کے ساتھ ساتھ ڈویلپرز کے لیے ایک چیٹ بوٹ سروس اور مزید مصنوعی ذہانت کا آغاز کرے گا

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس دوران مائیکروسافٹ نے کہا ہے کہ اس نے منگل کو اپنے مصنوعی ذہانت کے پروجیکٹ کے انکشاف کا منصوبہ بنایا ہے

یہ خبریں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ کس طرح سلیکون ویلی نام نہاد جنریٹو مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی سے بڑے پیمانے پر تبدیلی کی توقع کر رہی ہے، جو کمانڈ پر نثر یا دیگر مواد تخلیق کر سکتی ہے اور سفید کالر نوکری کرنے والوں کے وقت کو بچا سکتی ہے

اب گوگل نے مائیکرو سافٹ کی عالمی شہرت یافتہ چیٹ بوٹ ’چیٹ جی پی ٹی‘ سے مقابلے کے لیے ’بارڈ‘ کے نام سے اپنی جدید چیٹ بوٹ متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کو سان فرانسسکو کی کمپنی ’اوپن اے آئی‘ نے تیار کیا ہے جہاں مائیکرو سافٹ کے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے تیار کردہ یہ مقبول ایپلی کیشن انسانوں کی طرح بات کرتے ہوئے کئی زبانوں میں گفتگو میں مہارت رکھتی ہے۔

اس ایپلیکیشن نے مضامین لکھنے، نظموں اور پروگرامنگ کے کوڈز محض چند سیکنڈز میں لکھ کر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی دھوکا دہی اور کئی پیشوں کے مکمل طور پر خاتمے کے ساتھ ساتھ مشین کے انسانی صلاحیت اور قابلیت پر غلبہ پانے کے خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے

مائیکرو سافٹ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ اوپن اے آئی کی معاونت کر رہے ہیں اور چیٹ جی پی ٹی کے فیچرز کو اپنی ٹیموں کے پلیٹ فارم سے مربوط کرنے کا آغاز کردیا ہے تاکہ وہ ان کی اپیلیکیشن کے ساتھ ساتھ سرچ انجن ’بنگ‘ کے ساتھ مطابقت حاصل کر سکے

اس ایپلیکیشن کی بنگ میں شمولیت کے ساتھ ہی توجہ عالمی شہرت یافتہ ایپلیکیشن بنگ پر مرکوز ہو گئی تھی اور یہ قیاس آرائیاں بھی شروع ہو گئی تھیں کہ اب گوگل کو تاریخ میں پہلی مرتبہ ’بنگ‘ کی شکل میں غیرمعمولی مسابقت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

میڈیا رپورٹس کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کی راتوں رات مقبولیت کے بعد گوگل میں خطرے میں گھنٹی بج گئی تھی اور اسے ’کوڈ ریڈ‘ خطرہ قرار دیا گیا، گوگل کی تشویش کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کئی سال قبل کمپنی چھوڑ کر جانے والے اپنے بانیان سرجی برین اور لیری پیج کو واپس طلب کر لیا تاکہ ان کی مہارت سے استفادہ کرتے ہوئے اس طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے حکمت عملی وضع کی جا سکے

ہر گزرتے دن کے ساتھ گوگل پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے اور ان کی آمدن میں مستقل کمی کے سبب سرمایہ کار بھی ناخوش ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کمپنی نے گزشتہ ماہ 12ہزار ملازمین کو نکالنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اب آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے منصوبوں پر زیادہ توجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں

گوگل کی جانب سے نئی ایپلی کیشن کے اجرا کا اعلان ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب مائیکرو سافٹ ایک آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی ایونٹ کا انعقاد کرنے جا رہا ہے جس سے یہ بات مزید واضح ہو گئی ہے کہ دونوں بڑی کمپنیاں اب ٹیکنالوجی پر ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوں گی جسے ’جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس‘ کا نام دیا گیا ہے

ٹیکنالوجی کی دنیا کے معروف تجزیہ کار روب اینڈرل نے کہا کہ ’جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس‘ ایک گیم چینجر ہے اور جیسے انٹرنیٹ کے عروج نے نیٹ ورکنگ کی دنیا کی کئی بڑی کمپنیوں کا صفایا کردیا تھا، بالکل اسی طرح یہ دونوں بڑی کمپنیاں بھی سرچ اور انفارمیشن کی دنیا کو بدل کر رکھ دیں گی

انہوں نے کہا کہ گوگل آج بھی اس حقیقت کے ساتھ بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے کہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا سرچ انجن ہے لیکن اس نئی ٹیکنالوجی کے بعد یہ سب بدل سکتا ہے اور گوگل کو ماضی کا قصہ بنا سکتا ہے

گوگل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سندر پچائی نے پیر کو اپنے بلاگ میں لکھا کہ گوگل بارڈ کی بات چیت کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو جلد ٹیسٹنگ کے بعد آنے والے ہفتوں میں سب کے استعمال کے لیے پیش کردیا جائے گا

انہوں نے کہا کہ گوگل اپنے سرچ انجن میں مصنوعی ذہانت کی خصوصیات کو شامل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے

تاہم گوگل کا بارڈ اوپن مصنوعی ذہانت کے ’چیٹ جی پی ٹی‘ سے کیسے مختلف ہے، فی الحال یہ واضح نہیں ہے

سندر پچائی کا کہنا تھا کہ نئی سروس انٹرنیٹ سے معلومات حاصل کرتی ہے، جبکہ چیٹ جی پی ٹی کا علم 2021 تک اپ ڈیٹ کیا گیا ہے

واضح رہے کہ چیٹ جی پی ٹی اپنی تمام تر صلاحیت اور بہترین آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے باوجود صارفین کو تازہ ترین معلومات کی فراہمی میں ناکام ہے، جو اس کی واحد اور سب سے بڑی خامی ہے اور سندر پچائی نے اپنی چیٹ بوٹ کے اس خامی سے مبرا ہونے کا دعویٰ کیا ہے

انہوں نے کئی برسوں سے تیاری کے مراحل سے گزرنے والے اپنے لینگویج سافٹ ویئر کی کامیابی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ گوگل کی چیٹ بوٹ ویب سے معلومات لے کر تازہ اور بہترین معیاری جوابات دے گی

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نومبر میں چیٹ جی پی ٹی کے لانچ ہونے کے بعد فیس بُک کی کمپنی میٹا نے بھی نومبر میں ہی اپنی لینگویج کی آرٹیفیشل ایپلیکیشن ’گلیکٹیکا‘ کو ریلیز کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا تھا کیونکہ تین دن کے استعمال کے بعد صارفین نے اس کو جانب دار اور غلط معلومات کا حامل قرار دیا تھا

دوسری جانب مائیکروسافٹ نے بھی حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ اوپن اے آئی کے میدان میں مزید سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایسی دوڑ شروع ہو جائے گی، جو اس سے پہلے کمپیوٹرز، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے میدان میں مسابقت کے دوران دیکھنے میں آئی تھی

امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این بی سی’ کی گزشتہ ہفتے کی ایک رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والی گوگل کے انجینئرز کی ایک ٹیم کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ چیٹ جی پی ٹی کا مقابلہ کرنے کے کام کو ترجیح دیں

گوگل اپنے سرچ انجن کے ساتھ بھی مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھانا چاہتا ہے تاکہ اس کے اربوں صارفین کی جانب سے پوچھے جانے والے پیچیدہ سوالات کا بہتر طور پر جواب دیا جا سکے۔ سندر پچائی نے اس بات کا امکان ظاہر کیا کہ جلد ہی مصنوعی ذہانت گوگل کے سرچ کے ساتھ بھی دستیاب ہوگی

گوگل نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والے اسٹارٹ اپ انتھروپک پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ یہ کمپنی چیٹ جی پی ٹی طرز کے ایک چیٹ بوٹ کلاڈ پر کام کر رہی ہے جس میں مصنوعی ذہانت کے بہتر اور محفوظ استعمال کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

Tags:

chat gpt vs googlechat gpt vs google aichat gpt vs google bardchat gpt vs google lambdachat gpt vs google searchchatgpt launchedgooglegoogle bardgoogle searchhow to make money with chat gpthow to make money with chatgpthow to start investing in the stock marketins vagir launch videoins vagir launchedlive q&a with chaz edwardthis week in googleupcoming indie gamesways to make money with chatgptwhat is google bard
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

زمین پر ’خلائی‘ برف، جو پانی کے بارے میں ہماری سوچ جاننے میں مدد کرے گی

Next

کراچی یونیورسٹی کا پوائنٹ اور اس سے وابستہ یادیں

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme