Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

ڈینگی کا شکار بنانے والے مچھر خاص ’بُو‘ کے دلدادہ ہیں، تحقیق

By Akhtar Rasool
جولائی 3, 2022 2 Min Read
0

چینی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسانوں کو ’زیکا اور ڈینگی وائرس‘ کا شکار بنانے والے مچھر ایک خاص طرح کے ’بُو‘ دلدادہ ہیں اور ایسی بو والے افراد کو زیادہ کاٹتے ہیں

تفصیلات کے مطابق طبی جریدے ’سیل‘ میں شائع تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کی مختلف یونیورسٹیز اور اداروں کی جانب سے کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ زیکا اور ڈینگی وائرس کے شکار افراد کے جسم کی ’بُو‘ بھی تبدیل ہو جاتی ہے

ماہرین نے تحقیق کے دوران نوٹ کیا کہ ایک خاص طرح کے مچھر کچھ خاص افراد اور چوہوں کو ہی کاٹ رہے ہیں

ماہرین نے نوٹ کیا کہ زیکا اور ڈینگی کا شکار بنانے والے مچھر ’ایسیٹوفینون‘ (Acetophenone) نامی ’خوشبو یا بُو‘ کے حامل افراد کا زیادہ کاٹتے ہیں اور پھر ان افراد کا خون پینے کے بعد وہی مچھر صحت مند افراد کو کاٹتے ہیں جہاں سے مرض مزید افراد میں پھیلتا ہے

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے نوٹ کیا کہ ’ایسیٹوفینون‘ (Acetophenone) نامی ’بُو‘ کمزور اور مختلف مسائل سے دوچار چوہوں کے جسم پر بنتی ہے، جنہیں خصوصی مچھر کاٹتے ہیں اور پھر وہی مچھر انسانوں کو کاٹتے ہیں، جس کے نتیجے میں زیکا اور ڈینگی وائرس پھیلتا ہے

ماہرین کے مطابق ایک بار ڈینگی اور زیکا کا شکار ہونے والے بیمار شخص کو مزید صحت مند مچھر کاٹتے ہیں اور اس کا خون لے کر دوسرے صحت مند شخص کو کاٹتے ہیں، یوں مچھروں کے کاٹنے سے پھیلنے والی بیماری تیزی سے پھیلتی ہے

ماہرین نے تحقیق کے دوران ’ایسیٹوفینون‘ نامی ’بُو‘ کو مالیکیول کی صورت میں صحت مند مچھروں اور انسانوں کے ہاتھ پر لگا کر ان کے پاس مچھر بھی چھوڑے جب کہ دوسرے گروپس کو مذکورہ ’بُو‘ کے بغیر رکھا لیکن مچھروں نے ان ہی چوہوں اور انسانی ہاتھوں کے ساتھ چپکتے رہنا پسند کیا جنہیں ’ایسیٹوفینون‘ بُو لگائی گئی تھی۔

علاوہ ازیں ماہرین نے تحقیق کے دوران یہ بھی تجربہ کیا کہ جن چوہوں میں مذکورہ بُو پیدا ہو رہی ہے، ان کا علاج کرکے انہیں صحت مند بنایا گیا، جس کے بعد ان کے جسم پر ’ایسیٹوفینون‘ بُو نہیں ہوئی اور پھر مچھروں نے بھی انہیں کاٹنا پسند نہیں کیا۔

Tags:

Denguemosquitoes
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ایک ہفتہ پہلے ہی جرائم کی پیش گوئی کرنے والی حیرت انگیز ٹیکنالوجی کا تجربہ

Next

کیا مصنوعی ذہانت واقعی جذبات رکھتی ہے؟ نئی بحث چھڑ گئی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme